امریکی الیکشن 2020: ٹرمپ نے تاریخ میں نام کیسے لکھوایا؟

سال گزشتہ یعنی 2020 اپنے ہندسوں کی طرح ہر لحاظ سے منفرد رہا۔ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ موت ایک عالمی وبا کی صورت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور کورونا کی چھتری کے نیچے محمود و ایاز ایک ہو جائیں گے۔ افواہوں کے طوفان میں لوگ کیڑوں مکوڑوں کی طرح چٹ پٹ ہو رہے تھے، امیر غریب، شاہ و گدا کوئی محفوظ نہیں تھا۔

عذاب الٰہی کا اندازہ ہونے تک کشتوں کے پشتے لگ چکے تھے اور بڑی بڑی حکومتوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے مگر عزت مآب ٹرمپ صاحب نے چائینز۔ ٹ کہہ کر ناک سے مکھی اڑا دی لیکن جب صورتحال بے حد نازک ہوئی تو کہا کہ ہمارے اقدامات کے بعد اگست کے آخر تک اگر ایک لاکھ لوگ جان سے ہاتھ دھوتے ہیں تو بہت خوش قسمتی ہو گی ورنہ دو لاکھ سے اوپر اندازہ ہے، پھر فرمایا کہ لوگ جراثیم کش محلول کیوں نہیں پیتے؟ مگر بدقسمتی سے موت کی کالی آندھی چلتے پھرتے لوگوں کو اچکتی رہی۔ اب جب صدر صاحب سے پوچھا گیا کہ جناب! مرنے والوں کی تعداد چار لاکھ کو چھو رہی ہے تو بتائیں کورونا کو اور کتنی جانوں کی بھینٹ چاہیے؟

صدر صاحب نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور کہا corona virus is a HOAX اور بات ختم۔

صدر صاحب اب 20 جنوری کے بعد سابق تو ہو ہی جائیں گے مگر ان کے دور صدارت کے دور رس نتائج تاریخ میں تفصیل سے لکھے جائیں گے۔

اب جب کہ 20 جنوری قریب آ رہا ہے تو واشنگٹن میں کرفیو کی حد تک سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، لوگوں کے سوالیہ چہرے کچھ پریشان سے ہیں حالانکہ وہ تو محفوظ ترین ملک میں رہتے ہیں، یہ لوگ دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت تلے نسل در نسل پروان چڑھے ہیں۔

دنیا میں بہت سے ایسے محیرالعقول واقعات ہو جاتے ہیں جو تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اور لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تھوڑا سچ تھوڑا جھوٹ کا مارجن تاریخ کا حق ہے مگر کانسپریسی تھیوریز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور آخر میں ہسٹری چینل ان کو اچک لیتا ہے مگر معصوم رائے عامہ اپنی پسند اور نا پسند پر قائم رہتی ہے۔

امریکی تاریخ میں دو سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے 20 جنوری امریکی جمہوریت کا سب سے بڑا دن ہے جب نو منتخب صدر اپنا حلف لیتا ہے اور سابق صدر خوش دلی سے (بظاہر) اس تقریب میں شرکت کرتا ہے ۔ یہ تقریب بہت اعلیٰ پیمانے پر منعقد ہوتی ہے اور جمہوری عمل پوری آب وتاب کے ساتھ بغیر کسی تعطل کے جاری رہتا ہے۔

چھ جنوری کو امریکہ کے سیاہ دنوں میں سے ایک کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہو گا ، باقی مورخ کیا لکھیں گے یہ ان کی صوابدید پر ہے۔ اس دن چشم فلک نے جو نظارہ دیکھا کہ اس مہذب ترین جمہوریت کے سینکڑوں لوگ عقل و خرد سے بالاتر ہو کر تشدد اور خوں ریزی پر اتر آئے اور سنبھالے نا سنبھل رہے تھے۔

 الیکشن 2020 بھی قدرت کی ستم ظریفی کا نمونہ تھے کیونکہ اگرچہ نو منتخب صدر بائیڈن نے آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ووٹ لے کر جیتنے والے امیدوار کی حیثیت سے نیا ریکارڈ قائم کیا مگر صدر ٹرمپ نے بھی سات کروڑ سے زیادہ ووٹ لے کر ہارنے والے امیدوار کی حیثیت سے نیا ریکارڈ قائم کیا کیونکہ یہ ووٹ جو کہ ماضی کے بعض جیتنے والے امیدواروں سے بھی زیادہ تھے۔

ایک اور اہم فرق دونوں کے فالورز میں یہ ہے کہ بائیڈن کے حامی ان کے ووٹر ہیں مگر ٹرمپ کے ووٹر ان کی اندھی تقلید کرنے والے ہیں اور وہی پرتشدد ہنگاموں پر اتر آئے، اگرچہ ڈیموکرٹ ہمیشہ رواداری کا درس دیتے رہے مگر ان کی انسانی حقوق کی تحریکوں میں بھی تشدد کا عنصر نمایاں رہا جیسے ”بلیک لائف میٹرز“ اس میں بے شمار لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کئی بڑے شہروں میں سول وار کیفیت پیدا ہو گئی تھی، شر پسند عناصر ہر طرح بے حد قریب سے یہ ہنگامہ آرائی دیکھتے رہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہوا دیتے رہے۔

الیکشن 2020 ایک منفرد الیکشن تھا کہ لوگوں نے ڈاک کے ذریعے بھی رائے شماری میں حصہ لیا،  اب حسن اتفاق سے ذاتی طور پر کاسٹ کیے گئے ووٹ نے مسڑ ٹرمپ کا پلہ بھاری کیا اور ڈاک سے بھیجے گئے ووٹوں میں رائے عامہ کے پسندیدہ بائیڈن ٹھہرے اور بے شمار ریاستوں میں نتائج پلٹ گئے جس کو ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے مشکوک سمجھا۔

ماضی میں بھی متنازع انتخابات کی صورت میں سپریم کورٹ میں جانا ہو چکا ہے جیسے الگور بمقابلہ بش الیکشن دو ہزار میں ججز نے انتخابی نتائج کو شکوک سے بالاتر قرار نہیں دیا تھا مگر جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے نتائج کو مان لینے کا کہا اور الگور  نے اس پر صاد کیا مگر ٹربیونل میں شامل واحد خاتون جج روتھ گنز برگ نے اختلافی نوٹ لکھا کہ اگر انتخابی طریقہ کار  کے بارے میں شکوک پائے جائیں تو ان کا ازالہ ہونا چاہیے اور اسی نوٹ کو بنیاد بنا کر ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے ریاستی اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا لیکن ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔

اس قانونی جنگ کے برعکس کہ کون جیتا کون ہارا، امریکن قوم میں یہ فکر پائی جاتی ہے کہ ان انتخابات نے ایک سیاسی خلیج پیدا کردی ہے کیونکہ سات کروڑ سے زیادہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے الیکشن چوری کیا ہے (یہ بہت ہی مانوس فقرہ ہے) اور اس سوچ نے پرتشدد ہنگاموں کی بنیاد رکھی جو چھ جنوری کو عروج پر پہنچ گئے اور بپھرے ہوئے ہجوم نے ایوان نمائندگان (کانگریس ) پر زبردستی قبضہ کر لیا ، کانگریس مین اور سینیٹرز کو بھاگ کر جان بچانا پڑی ۔ اس کی بعد ٹی وی پر نظروں نے جو دیکھا الایمان الحفیظ، چھ افراد جن میں دو پولیس والے بھی تھے ، ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ متشدد ہجوم دور دراز علاقوں سے آیا تھا اور نامساعد موسم اور شدید سردی کے باوجود کچھ دن سے دھرنا دیے ہوئے تھا۔

ان تمام حالات و واقعات سے پیدا ہونے والی گمبھیر صورتحال سے نمٹنے کی تدابیر سوچی جانے لگیں مگر جو ٹھیس عظیم جمہوریت کو پہنچی اس کا کوئی مداوہ نہیں، جو داغ کیپیٹل ہل کے ماتھے پر لگا اس کو کون مٹائے گا؟ بہرحال تمام تر توجہ اب اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیزی سے تیار ہونے جا رہی ہے، شاید صورتحال اتنی گمبھیر نہ ہوتی اگر صدر ٹرمپ بڑھ چڑھ کر اس سارے ہنگامے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے پرتشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی نہ کرتے، اب بطور صدر وہ کسی بھی اور بڑی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں جس میں انتہائی قدم ایران پر جوہری حملہ بھی ہو سکتا ہے، اس خطرے کو بھانپتے ہوئے قانون سازوں نے ان کے اختیارات محدود کرنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کیا مگر عجیب بدقسمتی ہے کہ امریکی آئین میں اس مقصد کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔

آئین کی حدود میں رہتے ہوئے دو آپشنز ہیں:
ایک تو یہ کہ 25ویں ترمیم کو استعمال کر کے صدر سے تمام اختیار لے لیے جائیں۔
دوم یہ کہ صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کی جائے۔

مگر اتنے کم دن میں ان آپشنز پر عمل کرنا بہت مشکل ہے، خاص طور پر مواخذے کے لئے سینٹ میں اکثریت کا ہونا ضروری ہے مگر اس کا ڈول بہرحال ڈال دیا گیا ہے اور صدر ٹرمپ نے دو دفعہ مواخذے کی تحریک کا سامنا کرتے ہوئے ما شا اللہ یہاں بھی تاریخ میں نام لکھوا لیا۔

جنرل کولن پاول (ریٹائرڈ) جو امریکہ کے سابق وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں، انھوں نے ایک حل پیش کیا کہ قانونی موشگافیوں کے بجائے باقی عرصے کے لیے صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کر دیے جائیں چنانچہ سب سے پہلے ان کا سوشل میڈیامعطل کیا گیا۔

قانون ساز چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کے خلاف ٹرائل کیا جائے اور ایک تجویز یہ بھی ہے کہ آئین میں ایک شق متعارف کرائی جائے اور صدر ٹرمپ کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے مگر اس کے جواب میں ان کے قانونی ماہرین ٹرمپ کو مشورے دے رہے ہیں کہ وہ اپنی مدت اقتدار ہی میں اپنے خود معاف کر دیں یعنی presidential pardon دے دیں تاکہ ان پر مقدمات نہ بن سکیں بالکل ایسے کہ جیسے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے 100  کے قریب دوستوں پارڈن دے رہے ہیں۔

کیا امریکی آئین کے مطابق صدر دوران اقتدار اپنے آپ کو عام معافی (unconditional pardon ) دے سکتا ہے؟ صدر ٹرمپ کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں آئین خاموش ہے اور اس کا مطلب ہے کہ شک کا فائدہ ان کو بہرحال جاتا ہے اور ان کے سیاسی حریف جانتے ہیں کہ کسی قسم کی صدارتی معافی ان کو 2024 کے الیکشن سے نہیں روک سکتی۔ بعض سیاسی حلقوں میں یہ فکر پائی جاتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ الیکشن جیت گئے تو وہ اسے ایک فتح کے بجائے انقلاب برپا کرنا تصور کریں گے جو انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو گی بہر حال سود مند نہ ہو گا۔

دن تیزی سے گزر رہے ہیں اور 20 جنوری آیا ہی چاہتا ہے اور یہ بھی امریکن تاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ آنے والے صدر کی حلف برداری میں سابقہ صدر شریک نہ ہو گا کیونکہ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ بطور ”صدر“ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونا چاہتے ہیں نہ کہ ”سابق صدر“ کے طور پر ، سو وہ حلف سے پہلے ہی رخصت ہو جائیں گے، واللہ علم۔

اللہ کرے کہ اب امن و امان اور خیر خیریت سے نئے صدر قدم رنجہ فرمائیں اور اگلے چار سال میں کیا ہو گا یہ کوئی نہیں جانتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words