عادتیں ددھیال پر ہی کیوں جاتی ہیں؟
گھریلو جھگڑوں میں بہت سے جھگڑے شامل ہیں۔ ساس اور بہو کا جھگڑا ان سب میں سر فہرست شمار ہوتا ہے۔ بہو نے وقت پر ناشتہ نہیں بنایا تو ساس نے لڑنا شروع کر دیا، ساس بیٹے کی ساری کمائی اپنے پاس رکھ لے تو بہو نے لڑنا شروع کر دینا ہے۔
جب ساس اور بہو میں لڑائی ہو گی تو لازم ہے میاں بیوی میں بھی جھگڑا ہو گا، ماں بیٹے کے کان بھرے گی تو بیوی شوہر کے کان، ناک اور گلا بھر دے گی ۔ ساس اور بہو کا کچھ نہیں بگڑے گا، درمیان میں ذلیل تو شوہر ہوتا ہے۔ یہی باتیں سوچ سوچ کر تو ہر شوہر کا منہ سہراب کے سائیکل کی گھنٹی جیسا ہو جاتا ہے۔
گھر علیحدہ کرنے سے ساس اور بہو کے جھگڑے تو ختم ہو جاتے ہیں لیکن ایسے حالات میں بیوی ایک نیا مشغلہ ڈھونڈ لیتی ہے، اور وہ نیا مشغلہ بچوں کی وہ عادتیں ٹھیک کرنا جو عادتیں بچوں نے ددھیال سے سیکھی ہوتی ہیں۔
ہر بیوی کو اپنے میکے سے بہت پیار ہوتا ہے اور اس کی سب سے بڑی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ میرے بچے تربیت میں میرے اور میرے میکے پر جائیں، میری بیوی کو بھی عام خواتین کی طرح صرف اپنے مہکے سے پیار ہے، میرے ماشاءاللہ چار بچے ہیں، مستقبل میں انہیں ڈبل کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن میری بیوی کے خد و خال کچھ ایسے ہو گئے ہیں، کہ آب یہ بھی زیادہ لگتے ہیں۔ بیوی اور بچے سارا دن گھر میں ہوم ورک کرنے میں مصروف رہتے ہیں، بچوں کی عادات پر میری بیگم کے جملے ذرا ملاحظہ فرمائیں:
سب سے بڑی بیٹی عارفہ اگر کھڑے ہو کر پانی رہی ہے تو یہ عادت اس نے اپنی بڑی پھوپھو سے سیکھی ہے، وہ بھی کھڑے ہو کر پانی پیتی تھی ۔ اس لیے تو اس کی نظر کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ کام چوری کی عادت چھوٹی پھوپھو پر گئی ہے، آٹا گوندھتے ہوئے اگر وہ جھولا جھولتی ہے تو سیدھا دادی پر گئی ہے، چھوٹی بیٹی عارفانہ زیادہ سوتی ہے تو چھوٹی پھوپھو پر گئی ہے اور اگر ہر وقت ڈرامے دیکھتی رہتی ہے تو بڑی پھوپھو پر گئی ہے۔
پڑھائی میں نالائق ہے تو یقیناً بڑی پھوپھو کے نقش قدم پر چل رہی ہے اور اگر درمیان میں میں کچھ کہہ دوں تو کہنے لگتی ہے، ”نواز تمہاری ماں نے تو تمہیں کوئی تربیت دی نہیں، تیرا دماغ بھی گدھے کے سینگوں جیسا ہے، کم از کم مجھے تو اپنے بچوں کی تربیت کرنے دے“
اب میں کیا کہہ سکتا تھا، لفظوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی، میرے حصے میں بھی کچھ لفظ آ گئے حالانکہ سارے بچے گواہ ہیں میری بیوی صرف عادتوں کی مماثلت نکالتی ہے کہ کون سی عادت ددھیال کے کس شخص سے ملتی ہے، تربیت کا تو نام و نشان ہی نہیں ملتا۔
بڑے بیٹے رضوان کو انگوٹھا منہ میں ڈالنے کی عادت ہے تو یہ عادت اسے دادا نے ڈالی ہے۔ اچھا خاصہ اس نے پائیلٹ بننا تھا اب کیسے بنے گا، اگر سارا دن گھر پڑا رہتا ہے کوئی کام نہیں کرتا تو بالکل اپنے پیو پر گیا ہے، رنوں کی طرح بس چارپائی سے چمٹا رہے گا حالانکہ آپ سب جانتے ہیں خواتین کہاں چارپائی سے چمٹ کر رہ سکتی ہیں۔
رضوان کو بڑے بال رکھنے کا شوق چڑھا ہے تو بالکل اپنے چاچے پر گیا ہے، یہ سارے میراثیوں والے کام تو وہی کرتا ہے حالانکہ سارا خاندان گواہ ہے کہ میرا بھائی تو پیدائشی گنجا تھا لیکن میری بیگم نے تو کوئی نہ کوئی مماثلت ثابت کرنی ہی ہے۔
سب سے چھوٹا بیٹا کرم الٰہی نالائق ہے تو وہ بڑے چاچو پر گیا ہے، اس کا چاچو بھی نالائق تھا، دیکھ لو آب برف والے گولے بیچتا ہے، تمہارا حال بھی یہی ہونا ہے۔
اب بچے کا جیسا نام میری بیگم نے رکھا تھا، اس نے ویسے کام بھی کرنے تھے، پہلے تین بچوں کے نام میں نے رکھے تھے، چوتھے بچے پر کہنے لگی، اس کا نام میں رکھوں گی اور نام رکھا کرم الٰہی، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی ہمارے پرانے محلے میں ایک فقیر آتا تھا، اس کا نام کرم الٰہی تھا تو میں نے سوچا یہی نام رکھوں۔
بیگم کے بقول بچوں کی ساری عادتیں ددھیال پر جاتی ہیں، ایسا صرف اس لئے ہوتا ہے کہ بچے جہاں رہتے ہیں وہاں کی عادتیں سیکھ جاتے ہیں، لیکن میں تو اچھی عادتوں کی بات کر رہا ہوں، بری عادتیں تو بچوں کو ننہیال سے پڑتی ہیں، وہ اس لیے کہ میرے خاندان میں تو کوئی بھی کھڑے ہو کر پانی نہیں پیتا، میری بہنیں ٹی وی دیکھ ہی نہیں سکتی کیونکہ ہمارے گھر تو ٹی وی ہی نہیں تھا اور آٹا گوندھتے ہوئے تو ہر خاتون جھولا جھولتی ہے، یہ کوئی انہونی بات تو نہیں ہے اور نالائق تو کرم الٰہی کا ماموں بھی تھا، بلکہ اتنا نالائق تھا کہ آٹھویں کی کتابیں کباڑ میں بیچ کر پتیسا لے کر گھر آ گیا تھا اور رنوں کی طرح تو رضوان کا نانا بھی چارپائی سے چمٹا رہتا تھا، بڑے بال تو رضوان کے ماموں زاد بھائی نے بھی رکھے ہوئے تھے، برف کے گولے نہ سہی کرم الٰہی کا ماموں ریڑھی پر فالسہ تو بیچا کرتا ہے۔
میں یہ ساری باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ بیگم میرے سامنے آ کر بیٹھ گئی، عورتیں باتیں سنانے ہی آتی ہیں اور ہم نے کیا کرنا ہوتا ہے ۔ اب وہ جوانی والی باتیں تو رہی نہیں، بس کہنے لگی نواز! تم نے کبھی سوچا ہے کہ بچوں کی تربیت کس طرح کرنی ہے؟ میں نے کہا سوچ ہی تو رہا تھا کہ تم آ گئی، بولی بتائیں کیا سوچ رہے تھے۔ میں نے کہا یہی سوچ رہا تھا کہ اچھی عادتیں تو انہوں نے ددھیال سے سیکھی ہیں اور بری عادتیں انہوں نے ننیہال سے سیکھی ہیں،اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچوں کو اپنے جاہل میکے نہ لے جایا کرو، بس میں نے تو صرف یہی کہا تھا تب سے سٹور روم میں سونا پڑ رہا ہے، تب سے راتیں اجڑ گئی ہیں، حالانکہ آب ہڈیوں میں وہ جان کہاں، پھر بھی انسان کیا کچھ نہیں کر سکتا، دل تو جوان ہی رہتا ہے، اب تو میں بھی سوچتا ہوں کہ ”یہ عادتیں ہمیشہ ددھیال پر ہی کیوں جاتی ہیں؟“ ۔


