انصاف کرو ورنہ یاد رکھنا۔۔۔

ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن، اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں۔

انصاف کرو ورنہ یاد رکھنا حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے قاتل صرف نو افراد تھے مگر تباہ پوری قوم ہو گئی تھی۔ کیونکہ باقیوں کا جرم خاموش رہنا تھا۔ سورة الاعراف آیت: 74 کی تفسیر ہے کہ ”ناقةاللہ“ سے مراد حضرت صالح علیہ السلام کی وہ اونٹنی ہے جس پر سوار ہو کر وہ قوم کو رسالت کا پیغام پہنچایا کرتے تھے۔ جب بعض بدبخت سرداروں نے اس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں اور ان کا ذریعہ پیغام رسانی ختم کر دیا تو اس کے نتیجہ میں عذاب کے مستحق ہو گئے۔

کہا جاتا ہے کہ 9 سردار تھے جنہوں نے اس بات پر اکٹھ کیا تھا۔ اس سورت کی اگلی آیات میں ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور پس انہیں ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ قرآن کریم میں متعدد بار واضح ثبوت دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی، اس کا قانون اور اس کی طرف بھیجے گئے بندوں کی تعلیمات کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑھ کر ظالم دو شخص ہیں، ایک مفتری علی اللہ، دوم جو نبی کی باتوں اور اس کا انکار کرے۔

موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور اولیاء اللہ اور مؤمنین صادقین کی مسلسل بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ قرآن کی تعلیم ہے کہ کسی انسان کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں، علاوہ ازیں سورت السجدہ آیت 23 میں فرمایا کہ ومن اظلم۔ یعنی انبیاء اور ان کے نشانوں کے منکر اور ان سے اعراض کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے قطع تعلق کرنے والوں کو ضرور سزا دے گا۔ دوسری آیت 22 میں فرمایا۔ دنیا میں اس لئے عذاب آتے ہیں تاکہ لوگ ان بداعمالیوں سے باز آئیں جن میں وہ گرفتار ہیں۔

حالیہ دنوں میں ہمیں دو ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جن میں صراحتاً اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایک تو صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ کرک میں ہندوؤں کی عبادت گاہ کو جلا کر مسمار کر دیا گیا۔ دوسرا صوبہ بلوچستان کے علاقہ مچھ میں شیعہ ہزارہ برادری کے 11 افراد کو قتل کر دیا گیا اور یہ دونوں کام ہمارے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں انجام پائے۔ ہندوؤں کے مندر کو نذرآتش کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیا اور اس واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔یاد رہے یہ امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی تھی جو شرپسندوں نے کی۔

دوسرا واقعہ بلوچستان کے علاقہ مچھ میں ہزارہ برادری کے گیارہ مزدوروں کے قتل کا تھا۔ اس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی ہے۔ اس سے قبل بھی ان علاقوں میں کان کنوں کو اغوا کر کے قتل کیا جا چکا ہے۔ اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، اس سے قبل شیعہ مخالف تنظیم لشکر جھنگوی اور جیش اسلام  نے بھی کئی ہزار شیعہ برادری کے افراد قتل کیے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں شیعہ ہزارہ برادری کے 3 ہزار افراد قتل ہو چکے ہیں۔ دیکھا جائے تو تمام پاکستانی اقلیتیں اپنے آپ کو پاکستان میں غیر محفوظ تصور کر رہی ہیں جس کے باعث لاکھوں افراد بیرون ممالک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

چند اسلامی تنظیموں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بخوبی علم ہے جو کہ بنیاد پرست ہیں لیکن وہ بے بس اور تماشائی کی طرح کا رویہ اختیار کیے رہتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ پولیس کے علاوہ عدالتی نظام بھی بے بس نظر آتا ہے۔ ججز جن کا کام بلا خوف و خطر انصاف کرنا ہے ایسے موقع پر وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور کان بھی۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کے اصول کی صراحتاً خلاف ورزی ہے۔ ایسی ریاست اور قوموں کو ایک دن ان تمام کو دنیا میں اور آخرت میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔

ان دونوں واقعات پر بیانات، تبصرے اور انصاف دینے کی باتیں حکمران جماعت، فوج اور عدالتوں کی طرف سے کی جا رہی ہیں لیکن ماضی کی طرح انصاف ملنا مشکل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے عیسائیوں اور احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے اور ان کے افراد کو قتل کیا گیا اور ان پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں، انہیں کو آج تک کوئی انصاف ملا اور نہ ہی قاتل گرفتار ہوئے۔ ستم ظریفی یہ کہ عدالتیں بھی انصاف نہ کر سکیں۔

اس ضمن میں قرآن کریم کی روشنی میں کہ جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے اور جو بیجو گے وہی نکلے گا۔ نیک اعمال کا نتیجہ نیک اور بد کا بد انجام ہے۔ یاد رکھیے! خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے۔ جب آتی ہے تو پھر عالِم کو اک عالَم دکھاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ قوم اخلاقی قدروں، انسانیت کی خدمت سے عاری، اسلامی تعلیمات سے دور اور دہشت گردی اور تنگ نظری کا شکار بنتی جا رہی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ قوم برائیوں کے دلدل میں پھنستی جا رہی ہے جس سے باہر نکلنا مشکل ہے اور آج ایک عام شہری بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔

قرآنی تعلیم ہے کہ جب کوئی ان کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو ان عقل کے بہروں کو اس کی پکار سنائی نہیں دیتی۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے مامور من اللہ، فرستادہ کی نافرمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ سورہ یٰسین آیت 31 میں فرمایا: ترجمہ: وائے حسرت بندوں پر! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔

جب ایک مضطر دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لیتا ہے لیکن ہماری پوری قوم نے پچھلے سال مولانا طارق جمیل کی قیادت میں ملک میں پائی جانے والی تمام برائیوں سے توبہ اور آسمانی وبا سے دعائے نجات بھی کروا دی لیکن پھر بھی ہم ان برائیوں سے پاک نہیں ہو پائے۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہو چلا کورونا وبا دنیا سے جانے کا نام نہیں لے رہی بلکہ اس میں اضافہ اور کئی اور قسم کی وبائیں پھوٹ رہی ہیں۔ یہ خدا کی طرف سے تنبیہہ اور الارم ہے۔

اگر بنی نوع انسان نے آج اس کو نہ سمجھا تو پھر خدا کی تقدیر اپنا کام کرے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہر ایک انسان خود اپنا محاسبہ کرے، ورنہ کچھ باقی نہیں رہے گا۔ لہٰذا ایک دوسرے سے محبت، پیار کریں، مدد کریں، ہر فرقہ کا احترام کریں اور امن کے ساتھ رہیں ۔ یہ بنیادی عنصر ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے آدم کو زمین پر بھیجا ہے۔ ”محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں“ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی سورة یٰسین آیت 67 میں فرماتا ہے۔ قیامت کے دن انسان کی جواب طلبی ہوگی ہر انسان کے اعضاء بھی اپنے جرائم کا اقبال کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words