وہ شوہر ہے تمہارا، حق ہے اس کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امی آپ کو میرے اوپر رحم نہیں آتا، میں آپ کو اس شخص کی سفاکیاں بتاتی ہوں اور آپ پھر مجھے زبردستی گھر بھیج دیتی ہیں آخر کیوں؟ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اور بلکتے ہوئے کہا۔ سفاکی کس قدر سفاکی کی بات کر رہی ہو تم، وہ شوہر ہے تمہارا، حق ہے اس کا۔

حق کیسا حق امی؟ یہ کہ وہ میری مرضی جانے بغیر وہ سب کرے جو وہ کرنا چاہتا ہے، میں کس درد، تکلیف سے گزرتی ہوں اسے کوئی احساس ہی نہیں، آپ اسے اس کا حق کہتی ہیں۔

تم کوئی انوکھی ہو، جس کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے جو تم یوں شور مچا رہی ہو؟

ہاں ہوں میں انوکھی اماں! وہ عمل جو جنسی تسکین اور لطف کے لیے ہوتا ہے، اس میں اگر درد اور تکلیف کا عنصر شامل ہو تو وہ عجیب ہوتا ہے ۔ میں آپ سے کہتی ہوں آپ مجھے گائنی کے پاس لے جائیے، میں بیمار ہوں مگر آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔

کیا کہو گی تم ڈاکٹر سے کہ تمھاری شادی کو تین مہینے ہو گئے ہیں اور تم ماں کے گھر آ کر اس لیے چھپنا چاہتی ہو کہ تمہیں ہم بستری تکلیف دیتی ہے، بے وقوفی کی باتیں نہ کرو اور چپ کر کے گھر جاؤ۔

ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں فضول اور فالتو باتیں کرنے میں کوئی دقت نہیں پیش آتی، مگر وہ بات جسے کرنے سے ہمارا مذہب منع نہیں کرتا، وہ بات کرنے سے ضرور شرمایا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو کرنے کو بے شرمی اور بے حیائی سمجھا جاتا ہے حتیٰ کہ ہمارے نبی کی بھی ہدایت ہے کہ حق بات کرنے میں کوئی قباحت نہیں مگر ہم معاشرتی زنجیروں میں یوں جکڑے ہوئے ہیں کہ زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں مگر بات نہیں کر رہے۔

فی الوقت پاکستان میں ازدواجی فرض کو لے کر کئی ابہام اور بیماریاں وجود لے رہی ہیں مگر چونکہ ان پر بات کرنے کو بے شرمی سمجھا جاتا ہے جس کے باعث کئی شادی شدہ جوڑوں کے ہنستے بستے گھر برباد ہو رہے ہیں یا پھر بسنے سے پہلے اجڑ رہے ہیں، نہ جانے کب ہم معاشرتی طور پر اتنے مضبوط ہوں گے کہ ہم اپنے بچوں پر رحم کریں، ان کو اس بات کا حق دیں کہ اگر وہ مسائل سے دوچارہیں تو ڈاکٹرز، سائیکولوجسٹ سے رابطہ کریں کیونکہ ہر بیماری قابل علاج ہوتی ہے۔

شادی سے پہلے لڑکوں کے ذہنوں سے وہ ابہام ضرور دور کیا جائے جس کے باعث لڑکیوں کی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں اور اس کے لیے بہترین پری میرج کونسلنگ ہے جس کا یہاں کوئی رواج نہیں، اس کی داغ بیل ڈالنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چپ کروا کر گھر بھیجا جائے اور ہمیشہ کے لیے خاموشی چھا جائے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں جہاں بولنا ہوتا ہے، وہاں خاموش رہا جاتا ہے اور جہاں چپ رہنا ہوتا ہے وہاں وہ ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے۔ اس طرز فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •