صحافیوں کو نکیل ڈالنی کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شعر ہے
کمال کرتے ہو صاحب
پیار کرتے ہو صاحب

اس میں پیار کی جگہ اعتبار لگا لیں اور ساتھ ہی یہ کہہ دیں کہ اخبار پر تو اس شعر کا مفہوم دوبالا ہو جائے گا۔ اس دور میں اعتبار تو سگے رشتوں پر نہیں کیا جا رہا، اخبارات اور ٹی وی چینل پر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے زمانہ طالب علمی میں ہمارے اساتذہ کرام مشورہ دیا کرتے تھے کہ ہم اخبارات کا مطالعہ کریں، اس سے خیالات کو جلا ملتی ہے اور سوچ وسیع ہوتی ہے مگر اب ہم اپنے بچوں کو منع کرتے ہیں کہ وہ ہرگز اخبار کا مطالعہ نہ کریں اور نہ ہی نیوز چینل دیکھیں۔ ان کے ذہن میں زہر بھر جائے گا اور ان کے اندر سے جذبہ حب الوطنی ختم ہو جائے گا۔

آزمائش شرط ہے، آپ کچھ عرصہ اخبارات کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، آپ تمام ارباب حکومت و اختیار کے مخالف نہ ہو جائیں تو کہنا۔ آج کل کا ہر اخبار بکا ہوا ہے۔ ہر چینل کا مالک کوئی اور ہے اور چلا کوئی اور رہا ہے۔ اخبارات میں جو خبر کی اخلاقیات تھی، وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض نام نہاد صحافی درحقیقت گھس بیٹھئیے ہیں اور قلمی جہاد نہیں، دہشت گردی کر رہے ہیں۔

نئی نسل میں اچھے اخلاق اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے علاوہ باقی سب کچھ بہ درجہ اتم پیدا کر رہے ہیں۔ یہ اخبارات اور نیوز چینلز اندرونی اور بیرونی سازشوں کا حصہ ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی چینل کا نام کسی بھی پاکستانی شہری کے سامنے لے کر دیکھیں وہ اسی وقت آپ کو بتا دے گا کہ یہ اخبار اور اس کا چینل فلاں پارٹی کے چمچے ہیں۔ غیر جانب داری نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ غیر جانب داری کو تو چھوڑیں اب تو ہمارے چینل ایک دوسرے پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔

یہ طرز عمل ہماری نئی نسل کو کس طرف لے جائے گا؟ وہ کس کے لیے کام کریں گے۔ صرف اور صرف شخصیت پرستی سکھائی جا رہی ہے کوئی اصول کوئی نظریہ کہیں نظر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ چینل کا مالک بین الاقوامی سطح کے فراڈ میں ملوث ہے اور اس چینل کے نام نہاد صحافی جھوٹی اور من گھڑت خبریں دے رہے ہیں کہ اس بدنام شخص کے لئے ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور اسی چینل کو سب سے اچھا اور نمبر ون چینل کا لقب بھی دے دیا جاتا ہے۔

کچھ اینکر شام ہوتے ہی سکرین پر نمودار ہوتے ہیں اور وہ وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ایک اینکر کو تو جھوٹ بولنے پر تین ماہ کی پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر مجال ہے جو سچ بولیں۔

وہی ہے چال بے ڈھنگی
جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے

اس معمولی سے سزا سے ایسے جھوٹے اینکرز کو شہ ملی ہے کہ وہ جتنا بھی جھوٹ بول لیں گے بس تین ماہ کی پابندی ہی لگے گی۔

ارباب اختیار بوجوہ بے بس ہیں، چینل کو کنٹرول کرنے والی اتھارٹی اگر کوئی ایکشن لیتی ہے تو اس ایکشن کو عدالت میں چیلنج کر دیا جاتا ہے اور جھوٹ چلتا رہتا ہے۔

آزادی اظہار کے نام پر جذبات فروشی کا بازار گرم ہے۔ قوم کو اخلاقیات سکھانے والے خود اخلاق باختہ ہو چکے ہیں۔ تمام عدالتوں سے، حکمرانوں سے اور اپوزیشن سے گزارش ہے کہ خدارا ملک کے مستقبل کو بچائیں اور ان شتر بے مہار چینلز کو اور بے پر کی اڑانے والے صحافیوں کو نکیل ڈالیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہو کہ کوئی چینل جھوٹ نہ بولے اور دوسرے نمبر پر مکمل غیر جانب داری سے کام کرے۔ کسی بھی پارٹی سے دوستی یا دشمنی کا اظہار نہ کرے۔

ایسے اینکر جو صرف اور صرف ایک ہی پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں، انہیں بین کیا جائے اور آخری بات یہ کہ الزام تراشی اور گھٹیا زبان ہرگز پروموٹ نہ کی جائے۔ اینکر پرسن اینکر پرسن بن کر رہیں، وہ کام نہ کریں جو دوسرا ان سے کہے۔ کچھ اینکر عجیب روش اپنا چکے ہیں دو مخالف پارٹیوں کے سیاست دانوں کو بلا کر آپس میں لڑا دیتے ہیں اور خود تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ جب وہ ذرا ٹھنڈے ہونے لگیں تو پھر بھڑکا دیتے ہیں۔ عجیب منظر نامہ ہے، کوئی بھی اپنی قوم اور اپنے وطن کی پروا نہیں کر رہا۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے اخبارات کی حوصلہ شکنی ہم خود بھی کریں اور ایسے چینلز دیکھنا ہی بند کر دیں جو کہ ایک پارٹی کو پروموٹ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •