اداکاوں کے پبلسٹی سٹنٹ اور فلم ٹِچ بٹن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی فلم ‘ٹچ بٹن’ جسے پچھلے سال عید کے موقع پر ریلیز ہونا تھا مگر کورونا کی وجہ سے منظر عام پر نہیں آ سکی۔ فلم میں فرحان سعید، فیروز خان، ایمان علی مین لیڈ پر ہیں۔

پچھلے کئی دنوں سے فرحان سعید اور فیروز خان کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ جس میں دونوں کی طلاق کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا اور اس کا کئی دنوں تک سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہا۔ تاہم اداکاروں کی جانب سے کوئی تصدیق موصول نہیں ہوئی تھی۔ ایسے میں چہ میگوئیا‌ں ہو رہی تھیں کہ دونوں کی طلاق کی خبر ایک ہی وقت آنا مشکوک ہے اور ساتھ ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ آنے والی فلم کی پبلسٹی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اسی چکر میں اداکاروں کے کئی انٹرویوز بھی لیے گئے مگر انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔

انہوں نے ایسے سوالات کے جواب میں صرف یہی کہا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر دکھانا بھی سب ہے۔ خیر، اب حال ہی میں فرحان سعید اور ایمان علی کا فلم کے لیے کروایا جانے والا فوٹو شوٹ بھی سامنے آ گیا ہے جسے انہوں نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ فلم آنے والی ہے جس کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ چہ میگوئیاں عروج پر ہیں۔ فرحان سعید پھر سے مین سٹریم میں آ گئے ہیں۔

ہر طرف انہی کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ تاہم فوٹو شوٹ کے لیے مداحوں کی جانب سے کچھ ملا جلا رسپانس آ رہا ہے۔ کچھ فینز بولڈ فوٹو شوٹ پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ہمارے کلچر کی غلط نمائندگی کی جا رہی ہے۔ ہمارے ایکٹرز انڈین ایکٹرز سے مقابلے کے چکر میں اپنا کلچر بھول رہے ہیں۔ دوسری جانب بہت سے لوگوں نے تعریف بھی کی ہے۔ مداحوں نے ایمان علی کی خوبصورتی اور اسٹائل کو سراہا ہے۔

ان تمام سرگرمیوں سے واضح ہے کہ ‘ٹِچ بٹن’ بہت جلد سکرین کے پردے پر دکھائی دینے والی ہے۔ عید سے پہلے ہی یہ خبر آپ کو مل جائے گی جس کے لیے عوام کو تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں جو ہمارے اداکار آج کل کر رہے ہیں ، کہیں طلاق کا ڈرامہ تو کہیں شادی کا ڈرامہ۔ صرف اور صرف پبلسٹی ڈرامہ ہے۔ان حرکتوں کے ذریعے عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔

ایسا پاکستان میں ہی نہیں ہو رہا، بہت سے انڈین ایکٹرز بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف عوام کے جذبات ابھارنا ہے، چاہے طریقہ مثبت ہو یا منفی۔ انہیں صرف ویوز چاہییں، لائیک ہو یا ڈس لائیک۔ تعریف ہو یا تنقید بس پبلسٹی ہونی چاہیے۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔ جب ہمارے آئیڈیل یہ کر رہے ہیں تو عوام پھر کیا کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •