عورتوں کو کبھی بھی کچھ پلیٹ میں رکھا نہیں ملا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ہم ناروے میں دیکھتے ہیں کہ عورت اور مرد کے بیچ مساوات ہے۔ عورت ہر شعبے اور ہر کام میں مردوں کے ساتھ ہے۔ لڑکے اور لڑکی کو برابر کے امکانات اور مواقع ملتے ہیں۔ بلا شبہ ناروے آج دنیا میں سر اٹھا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ جنس کی بنیاد پر تفریق اس ملک میں نہیں ہے۔ سوسائٹی میں عورت کی وہی قدر و منزلت ہے جو مرد کی ہے۔ ہر جگہ ہر مقام ہر شعبے میں عورتیں کام کرتی نظر آتی ہیں۔ پوری خوداعتمادی، وقار اور صلاحیت کے ساتھ۔ کوئی انہیں حیرت سے نہیں دیکھتا۔ کوئی ان کی قابلیت پر شک نہیں کرتا۔ وہ وکیل بھی ہیں، جج بھی، پولیس چیف بھی، پروفیسر بھی، انجنیئر بھی، کمپنیز کی سی ای او بھی اور چرچ کی پریسٹ (پادری) بھی۔ پائلٹ بھی اور ریلوے شوفر بھی۔ ٹریکٹر بھی چلا رہی ہیں اور ٹرک بھی۔ وزیر بھی اور وزیراعظم بھی۔

لیکن ایسا شروع ہی سے نہیں تھا۔ برابری حاصل کرنے کا یہ سفر طویل تھا اور بہت سست رفتار میں طے ہوا۔

یہ بات بالکل صحیح ہے کہ عورت کو کبھی بھی، کہیں بھی اور کچھ بھی پلیٹ میں رکھا نہیں ملا۔ ناروے میں بھی عورتوں کو بن مانگے کچھ نہیں ملا۔ یہاں بھی عورتوں کو اپنے حقوق کے لیے طویل جد و جہد کرنی پڑی ہے اور یہ اب بھی جاری ہے۔ قابل ستائش بات یہ ہے کہ مردوں نے بھی عورتوں کو حقوق دلانے میں عورتوں کا ساتھ دیا۔

جب ناروے نے 1814 میں اپنا دستور بنایا تو اس میں عورتوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہ تھا۔ اور نہ ہی عورت اور مرد کی برابری پر کچھ تھا۔ دستور میں جنس پر بات ہی نہیں کی سوائے اس کے کہ ملک کا بادشاہ مرد ہو گا اور پہلی اولاد نرینہ ولی عہد۔ (اب اس قانون مین تبدیلی کر دی گئی ہے۔ بادشاہ کی پہلی اولاد خواہ بیٹا ہو یا بیٹی تخت کی وارث ہو گی) عورتیں گھر کی فرد ضرور تھیں لیکن گھر کا سربراہ مرد تھا۔ اور سربراہ کو تمام گھریلو فیصلے کرنے کا پورا حق حاصل تھا۔

ایک قانون 1687 وراثت کے حوالے سے بنا کہ بیٹوں کو بیٹیوں کے مقابلے میں دوگنی وراثت کا حق ہے۔ چونکہ 1814 کے دستور میں عورتوں سے متعلق کوئی نئی بات نہیں کہی گئی اسی لیے یہی پرانا قانون چلتا رہا۔ یعنی عورتیں ساری عمر نابالغ سمجھی جاتی رہیں گی۔ انہیں کوئی فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے فیصلے پہلے باپ کرتے اور شادی کے بعد یہ حق شوہر کو مل جاتا۔ اگر کوئی قانونی مسئلہ آ پڑتا تو انہیں کسی کو اپنا نگران یا ولی بنانا ہوتا تھا۔ خاص حالات میں صرف بیوہ خواتین کو اجازت تھی کہ وہ خود اپنا کیس پیش کریں۔

ابتدائی تعلیم کے مواقع لڑکے اور لڑکیوں کے لئے یکساں تھے۔ 1869 کے قانون کے مطابق مڈل اسکول میں صرف لڑکے ہی جا سکتے تھے۔ لڑکیاں یا گھر بیٹھ جائیں یا پرائیویٹ طور پر تعلیم جاری رکھیں، اور خود خرچہ برداشت کریں۔ مالی طور پر مستحکم والدین تو اپنے خرچے پر بیٹیوں کو تعلیم دلا سکتے تھے لیکن غریبوں کی لڑکیوں کے لیے مزید تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ عورتوں کی جدوجہد اور مطالبے سے بتدریج لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے کھل گئے۔ اور 1884 میں لڑکیاں یونیورسٹی تک بھی جا پہنچیں۔

1839 میں غیر شادی شدہ یا بیوہ جن کی عمر چالیس سال زیادہ ہو انہیں اپنا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے کا حق دے دیا گیا۔ چند سال کے بعد عمر کی یہ حد 25 سال کر دی گئی۔ اور رفتہ رفتہ شادی شدہ عورتوں کو بھی اپنے کاروبار کی اجازت مل گئی۔ اور پھر 1854 میں عورت کے حق میں یہ قانون بھی بنا کہ وراثت میں بیٹی اور بیٹے کا حصہ برابر ہو گا۔

1894 میں جا کر یہ قانون بنا کہ عورت پچیس سال کی ہو جائے تو بالغ قرار دی جائے گی۔

ان نئے قوانین نے جو عورتوں کے حق میں بنے ان سے عورتوں کی زندگیوں میں بڑا مثبت کردار ادا کیا۔ وہ معاشی طور پر مستحکم ہوئیں اور کسی حد تک اپنے پیروں پر کھڑی ہو گیں۔

گو کہ عورتوں کی ذمہ داریاں بہت تھیں اور کام بھی ان کے سر پر شمار تھے پھر بھی فیصلوں کا اختیار مرد ہی کو تھا۔ زمین، جائیداد بیچنے یا خریدنے کا کام مرد ہی انجام دیتے۔ گھر اور کھیتوں کے کام کے علاوہ عورتوں کے لیے کام کے امکانات بہت کم تھے۔ ان کی اپنی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ 1850 میں جب ناروے نے انڈسٹری کی دنیا میں قدم رکھا تو عورتوں کو بھی مواقع ملے۔ لیکن ان کی تنخواہ مردوں کے مقابلے میں کمتر تھی۔

عورتوں کے لیے گھر سے باہر کام کے مواقع اس لیے کم تھے کیونکہ تعلیم اور ہنر کی کمی تھی۔ زیادہ تر عورتوں کے لیے صفائی دھلائی اور سلائی کے کام تھے یا متمول گھرانوں میں خادمہ یا بچوں کی آیا گیری۔ 1858 میں قدرے اونچے گھرانے کی لڑکیاں دفتروں میں آپریٹر اور ٹیلی گراف کی تربیت لینے لگیں اور ملازمت کے امکانات روشن ہوئے۔

1909 میں مزید قوانین عورتوں کے حق میں بنے۔ طے پایا کہ فیکٹریوں میں انسپکٹر کے عہدے پر دو یا اس سے زیادہ بھی عورتوں کو دیے جایں۔ اس کے ساتھ زچگی کے بعد کے چھے ہفتے ان سے کام لینا ممنوع قرار پایا۔ اور جنہیں ضرورت ہو انہیں ان چھ ہفتوں کا معاوضہ بھی دیا جائے لیکن اسے غربت سے نہ جوڑا جائے اسے حق سمجھ کر ادا کیا جائے۔

1901 میں ناروے میں پچیس سال سے اوپر اور 300 سو کرون سے زیادہ ٓآمدنی رکھنے والی دولت مند خواتین کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹ کا حق ملا، لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ 1905 میں سویڈن کی یونین سے الگ ہونے کے بعد عورتوں کی تحریک میں تیزی آئی۔ 1907 میں اسمبلی کے انتخابات میں آمدنی کے لحاظ سے ووٹ دینے کا حق ملا۔ مالی طور پر خوشحال خواتین عورتیں سیاست میں حصہ لینے لگیں۔ 1911 میں پہلی خاتون اسمبلی پہنچی۔

1870 سے لے کر 1900 تک عورتوں کی حقوق کی تحریک پھیلتی چلی گئی۔ حقوق کے ساتھ اپنے فرائض بھی بہتر طور پر سمجھے گئے۔ اس تحریک کے نتیجے میں عورتوں کو اپنے سماجی، ثقافتی اور سیاسی کردار سے آگہی ہوئی اور نئے امکانات اور اپنے رتبے کی اہمیت کا بھی احساس ہوا۔ سیاست میں آمد کے بعد تو عورتوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گیں۔

1880 سے عورتیں لڑکیوں کے تعلیم کے حق پر لڑ رہی تھیں تا کہ انہیں اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہی ہو۔ وہ اپنی شادی شدہ زندگی میں صرف بے زبان پارٹنر نہ بنی رہیں بلکہ برابر کی حصہ دار ہوں اور ان کی آواز سنی جائے۔ مرد کی مکمل حاکمیت سے رہائی ملے۔ اسی زمانے سے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ تعلیم سے جسم فروشی اور جنسی غلامی پر مجبور اور بے کس لڑکیوں کو اس استحصال سے نجات مل سکے گی۔ سیاست میں آنے سے عورتوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم مل گیا۔

1913 میں عام بلکہ تمام عورتوں کو ووٹ کا حق حاصل ہو گیا اور نئی راہیں کھل گئیں۔ عورتوں نے زور شور سے سیاست میں حصہ لیا اور کامیاب بھی رہیں۔ عورتیں اسمبلی ممبر بھی بنیں میئر بھی بنیں۔ تعلیم کے شعبے میں بھی خواتین اب اسکولوں کی پرنسپل اور یونیورسٹی کی پروفیسر بھی بن رہی تھیں۔

1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران جب مرد فوج میں بھرتی ہوئے تو ان کی خالی کی ہوئی جگہوں پر عورتوں عورتوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئے۔ جب مردوں کی خالی کی ہوئی جگہوں عورتوں نے سنبھالیں تو برابر کی تنخواہ کا بھی مطالبہ کیا۔

1981 میں گرو ہارلن برونت لاند ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ ان کا تعلق لیبر پارٹی سے تھا۔ انہی کے دور میں ملکی کابینہ میں 18 میں سے 8 وزیر خواتین تھیں۔ یعنی تقریباً چالیس فیصد کابینہ عورتوں پر مشتمل تھی۔

آج یعنی 2021 میں ناروے میں خاتون وزیراعظم ہیں۔ آرنا سولبرگ۔ یہ دوسری بار منتخب ہوئی ہیں۔ اس سال اپنی دو ٹرمز پوری کر لیں گی۔ یہ سال الیکشن کا سال ہے اور شاید یہ تیسری بار بھی منتخب ہو جائیں۔ ان کی کابینہ میں کئی خواتین ہیں۔ وزیر دفاع، وزیر توانائی، زراعت، آئل اور انرجی، آئی ٹی کے قلمدان خواتین کے پاس ہیں۔

ایک اور حق جس کے لیے ناروے کی عورتوں نے طویل جدوجہد کی بلکہ ایک حد تک جنگ لڑی وہ اسقاط حمل کا حق ہے۔ پرانے زمانوں میں ناروے میں اس کی اجازت تو کیا اس پر بات کرنا بھی محال تھا۔ عورتیں ابارشن کا حق مانگتی تھیں۔ مذہبی اور قدیمی سوچ رکھنے والے طبقے کی جانب سے اس کی شدید مخالفت ہوتی رہی۔ 1960 میں ایک قانون بنا کہ اگر عورت کی زندگی کو خطرہ ہے تو ابارشن کی اجازت مل سکتی ہے۔ دو ڈاکٹرز کا کمیشن اس کا فیصلہ کرے گا۔ عورت کو اپنے شوہر کی رضامندی بھی درکار ہو گی۔ ایک طویل بحث کے بعد 1978 میں ابارشن کا قانون پاس ہو گیا اور عورت کو اپنا حمل رکھنے یا گرانے کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ اس موضوع پر تفصیلی کالم اگلی بار۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •