جناب وزیراعظم!میں پی ٹی آئی کا ایک کارکن ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سٹیج کی دنیا کے کردار امانت چن صاحب کے نام اور کام سے اگرچہ پوری دنیا واقف ہے اور پوری دنیا میں ان کے چاہنے والے موجود ہیں۔ ان کا نام ہی ایک پہچان ہے اور لوگ ان کے کام کی وجہ سے ان کی بے پناہ قدر کرتے ہیں۔ یہ نام، پہچان، بے پناہ چاہت، لوگوں کی محبت اور عزت صرف اور صرف ان کے کام کی وجہ سے ہے۔

عزت اور لوگوں کی محبت بڑی نایاب چیز ہے جو کہ مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ آپ لوگ بھلے اعتراض کریں مگر میں پھر بھی ان کے لئے ”سر“ کا لفظ استعمال کروں گا کیونکہ ان کی جگتوں میں جہاں مزاح ہوتا ہے وہیں زندگی گزارنے کا فلسفہ بھی موجود ہوتا ہے۔ جیسے میری تحریر کا عنوان اگرچہ ایک پنجابی محاورہ ہے مگر مجھ تک یہ محاورہ ان کی ایک جگت کے ذریعے پہنچا ہے اور جب جب میں نے اس پر غور کیا مجھے زندگی کی الجھنوں کے جواب ضرور ملے۔

میں ایک سیاسی ورکر ہوں اور میرا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ آج کل ہم ورکرز حکومتی پالیسیز پر لوگوں کے سوالوں کی وجہ سے شدید الجھنوں کا شکار ہیں۔ انہی الجھنوں سے متعلق سوچتے سوچتے میں چن صاحب کی جگت کی بدولت اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ”عقل نہیں تے موجاں ای موجاں“ (عقل نہیں تو موج ہی موج) ۔ اگرچہ یہ محاورہ فرد واحد یا ایک گروہ کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر ہمارے فیصلہ سازوں نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ یعنی اپنے فیصلوں اور ان کے جواز فراہم کر کے اپوزیشن، حریف جماعتوں اور میڈیا کی موجیں لگوائی ہوئیں ہیں۔

اپوزیشن جس کو سیاست میں زندہ رہنے کے لیے حکومتی جماعت کے فیصلوں اور پالیسیوں کے نیچا دکھانا ہوتا ہے، ہر وقت اس جستجو میں ہوتی ہے کہ حکومت کوئی غلطی کرے اور ہم انہیں نیچا دکھائیں۔ مگر یہاں تو فارمولا ہی الٹا ہے۔ آپ اور آپ کے نمائندگان جیسے ہی ٹی وی کے سامنے آتے ہیں یا اپنے اپنے دفاتر میں پہنچتے ہیں تو ایسے ایسے بیان دیتے ہیں یا فیصلے کرتے ہیں، اپوزیشن تو کیا اپنے ورکرز ہی ان پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ حالیہ مثال لے لیں جب وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم مچھ میں ہزارہ برادری کے مقتولین کے پاس سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے نہیں جا رہے۔

او بھائی! کچھ تو خیال کیا کریں، اپنے شہریوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم وہاں غیر محفوظ ہوں گے؟ کیا ہم شہری یہ سمجھیں کے ہم اس ریاست کے شہری ہیں جو اپنے وزیر اعظم تک کو تحفظ نہیں فراہم کر سکتی؟ اس لئے شہری حکومت سے امید نہ رکھیں۔

جناب وزیراعظم صاحب! شہری آپ کو اپنا مسیحا سمجھ کر بلا رہے تھے اور آپ اس کو بلیک میلنگ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ جناب ہمیں آپ کے الفاظ یاد ہیں، جب آپ فرماتے ہیں کہ یہ حکومت تو کیا میری جان بھی چلی جائے میں این آر او نہیں دوں گا۔ تو ایسے میں جان دینے کا جذبہ اپنے شہریوں کے لئے کیوں نہیں؟

ہمیں یاد ہے جب وفاقی کابینہ کی میٹنگ کے دوران زلزلہ آیا لیکن آپ نے اپنے کام کو ترجیح دی، مگر اس بار ایسے کیوں نہیں؟ جناب وزیر اعظم! یہ جو آپ کے اپنے ناقدین ہیں آپ سمجھیں نہ سمجھیں یہ آپ کے خیر خواہ ہیں نا کہ وہ جو آپ کو عوام سے، اپنے ورکرز سے اور اپنے نظریے سے بہت دور لے گئے ہیں۔

ایک سیاست دان کی طاقت اس کے ورکرز ہوتے ہیں جنہوں نے آپ کو وزیراعظم بننے میں مدد کی نہ کہ وہ لوگ جو آپ کے وزیراعظم بننے کے بعد آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ بقول چوہدری شجاعت جہانگیر ترین سیانا بندہ تھا جسے وزیراعظم سے دور کر دیا گیا اور اب ندیم افضل چن صاحب بھی۔ جناب وزیراعظم! صوبوں اور ضلعوں میں ایسے ایسے فیصلے ہو رہے ہیں کہ ہم شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ حالیہ مثال ہی لے لیں، فیصل آباد میں بین المذاہب کی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے تمام ممبرز ایک ہی مذہب سے شامل کیے گئے۔ اب کوئی پوچھے، یہ کیا ہے؟ تو ہم یہی کہیں گے کہ بھائی کچھ لوگوں کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔

جناب آپ ہم سے زیادہ عقل مند ہیں اور مشیروں کی پوری فوج آپ کے پاس ہے مگر جس طرح سے اپنے سیاسی ساتھیوں پر اپنے حلیفوں اور مشیروں کو ترجیح دی جا رہی ہے، اس سے صاف عیاں ہے کہ آپ اپنے نظریے اور نظریاتی ورکرز کی قربانی دے کر غیروں کی موجیں لگوا نے جا رہے ہیں۔ ورکرز کے مفاد کے لئے حکومت قربان کرنے کا جذبہ کیوں نہیں؟

میڈیا کو شکوہ تھا کہ موجودہ حکومت کے آنے سے میڈیا ہاؤسز مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں اور میڈیا کی آزادی پر ضربیں لگائی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ میڈیا پرسنز یہ دعویٰ بھی کرتے تھے ہم نے آپ کی حکومت بننے کی راہ ہموار کی اور شاید یہ بات غلط بھی نہیں ہے کیونکہ جس طرح سے حکومتی مفادات کے باوجود میڈیا نے آپ کو ٹائم دیا، اس سے کوئی بھی انکاری نہیں ہو سکتا۔ مگر اس کے باوجود آپ اور آپ کے مشیر روز میڈیا کو اپنے بیانات کے ذریعے اتنا مواد مہیا کر دیتے ہیں کہ ان کو روز کی تماشا لگانے کا مواد میسر آ جاتا ہے۔

جناب! شاید عوام اور ورکرز آپ کے ساتھ تو تھے ہی مگر اس بھی زیادہ آپ کے تبدیلی کے نظریے کے ساتھ تھے اور ہیں۔ عوام مہنگائی سے پسنے کے باوجود آپ سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ ورکرز حکومتی عہدوں اور کمیٹیوں سے نظر انداز ہونے کے باوجود آپ کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں یقین ہے کہ آپ تبدیلی کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کریں گے۔ کبھی وقت نکال کر ورلڈ کپ میچ کے فائنل کی دوسری اننگ دیکھ لیں، شاید آپ کا پھر سے مضبوط فیصلے کرنے کا جذبہ بیدار ہو جائے اور آپ کے ارد گرد کھڑی ڈر کی دیواریں گر جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •