بائیڈن کی پریشانی: تیتیس کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر جو بائیڈن نے قوم سے اپنے ولولہ انگیز خطاب کے بعد اوول آفس میں قدم رکھا تو میز پر فائلوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں رات گئے انہوں نے قوم سے ایک ولولہ کش خطاب کیا۔ یاد رہے کہ جو بائیڈن سنہ 1988 سے صدر بننے کے لیے کوشاں تھے۔ تیتیس برس کی جدوجہد کے بعد انہیں وائٹ ہاؤس ملا تو ان کی رات کالی ہو گئی۔ ان کی دوسری تقریر ہم نے اپنی فہم کے مطابق ترجمہ کی ہے۔ ہماری انگریزی کی لیاقت میں تو خیر کسی کو کلام نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نے تیسری جماعت تک یہ زبان پڑھ رکھی ہے اور روانی سے تھینک یو کہہ کر اٹھنے کے عادی ہیں، مگر اپنی فطری کسر نفسی کے باعث محض روایتاً یہ لکھے دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کسی جگہ کوئی غلطی ہو گئی ہو۔

جو بائیڈن کی دوسری تقریر کا متن

میرے عزیز ہم وطنو

آپ جانتے ہیں کہ میں گزشتہ تیتیس برس سے صدر بننے کی جدوجہد کر رہا ہوں۔ اس دوران میں نے بطور نائب صدر آٹھ برس تک حکومت کے امور کو قریب سے دیکھا اور ان میں شامل رہا اس لیے میں حکومتی انتظام سے مکمل طور پر آگاہ ہوں۔ میں نے ان تیتیس برس میں اہل افراد کی ایک ٹیم بھی تیار کر لی تھی جو حکومت سنبھالتے ہی فوراً میری ویژن کا نفاذ کرنا شروع کرنے کا عزم رکھتی تھی۔

بدقسمتی سے حکومت ملنے کے بعد مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ ہماری تو تیاری ہی پوری نہیں تھی۔ آپ خود سوچیں کہ تیتیس کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے۔ ہر جگہ مصیبت ہے۔ کبھی کلرک پیسے مانگ رہے ہیں کہ جی ہماری تنخواہیں کم ہیں۔ ہر کوئی رو رہا ہے کہ مہنگائی بہت ہے اور روزگار ختم ہے۔ بزنس تباہ ہو گیا ہے۔ وبا نے باقی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت ہر بندے کو ٹیکے لگا رہی ہے لیکن انہیں سکون ہی نہیں ہے۔

وبا کی وجہ سے ریستوران اور مارکیٹیں بند کرنے پڑے ہیں۔ حتیٰ کہ سینما بھی بند ہیں۔ اب قوم کے پاس نہ تو روزگار ہے اور نہ کوئی دوسری اینٹرٹینمنٹ، تو وہ میرے میم بنا بنا کر اور میری پرانی تقریریں دکھا دکھا کر اینٹرٹینمنٹ پیدا کر رہی ہے اور میرا دل جلا رہی ہے۔ لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ یہ سب گزشتہ حکومت کی کرپشن کو تحفظ دینا اور ذی شعور محب وطن امریکیوں کا حوصلہ پست کرنا چاہتے ہیں۔

معیشت کے بارے میں میری حکومت کا ویژن بالکل واضح ہے۔ فوڈ اینڈ ہوٹلنگ انڈسٹری کے جو لوگ بیروزگار ہوئے ہیں، میری حکومت انہیں مفت میں چار مرغیاں اور ایک مرغا فراہم کرے گی۔ یوں وہ انڈا شامی برگر کا ٹیک اوے کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ عین ممکن ہے اگلے برس ان میں سے بہت سے امریکی اسی انڈا شامی کاروبار سے ترقی پا کر کرنل سینڈرز بن کر ارب پتی بن جائیں۔ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

گزشتہ حکومتیں بہت نا اہل تھیں۔ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت امریکہ کے قرضے انتہا کو چھو رہے ہیں۔ اس وقت امریکہ کا قومی قرضہ تقریباً 28 ٹریلین ڈالر ہو چکا ہے، یعنی 28 ہزار ارب ڈالر۔ ہر امریکی شہری اس وقت 84 ہزار ڈالر کا مقروض ہے۔ اس قرض کی جی ڈی پی سے شرح 1980 میں صرف 34 فیصد تھی، سنہ 2000 میں بڑھ کر 60 فیصد ہو گئی، اور گزشتہ کرپٹ حکومت کی وجہ سے آج 130 فیصد ہے۔

لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ یہ سب گزشتہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ ہماری کارکردگی کا حساب آپ دو برس بعد لیں۔ بلکہ بہتر ہو گا کہ چار برس بعد ایسا کریں۔ یا آپ محب وطن امریکی ہیں تو کبھی بھی نہ لیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں امریکہ نہ صرف اپنا ملک چلاتا ہے بلکہ دنیا کے ہر ملک کا ہمسایہ بھی ہے اور ہمسائے کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔ اس لیے امریکہ کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کے بارے میں بھی بہت سے فیصلے مجھے کرنے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہوتا ہے کہ میں نے ملکی انتظام سنبھالنے کی پہلے سے ہی تیاری کی ہوتی۔ میں حلف اٹھاتے ہی دفتر میں داخل ہوتا اور پہلے دو گھنٹے کے اندر اندر سترہ اہم احکامات پر دستخط کر دیتا۔

مثلاً امریکہ میں مقیم غیر امریکہ شہریوں کو مردم شماری میں شامل کرنے، وفاقی عمارات میں کرونا کے پیش نظر ماسک پہننے اور افرادی فاصلہ برقرار رکھنے، کووڈ پر کنٹرول کے لیے محکمہ بنانے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے امریکی اخراج کو روکنے، طلبا سے قرضے کی وصولی کو معطل کرنے، پیرس کے ماحولیاتی معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے، ماحول کو نقصان پہنچانے والے اقدامات بشمول کینیڈا امریکہ پائپ لائن پر کام روکنے، ٹرمپ کے قوم کو حب الوطنی سے بھرپور کرنے والے ”مطالعہ امریکہ“ یعنی 1776 کمیشن ختم کرنے، دفاتر میں صنفی اور جنسی تعصب کو ختم کرنے، غیر قانونی امیگرنٹ بچوں کو ملک سے نکالنے کی پالیسی کا خاتمہ کرنے، سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا خاتمہ کرنے، امیگریشن میں سختی ختم کرنے، اور ٹرمپ کی نقصان دہ پالیسیوں کا جائزہ لینے اور ختم کرنے کا حکم دیتا۔ یہ سب احکامات پہلے ہی سے دستخط کے لیے تیار پڑے ہوتے۔

مگر چونکہ میری تیاری نہیں تھی اس لیے دو گھنٹے کیا دو سال میں بھی میں ایسا نہیں کروں گا۔ بس ٹرمپ حکومت کو ہی کوستا رہوں گا۔ لیکن آپ یہ یقین رکھیں کہ میں انہیں بخشوں گا نہیں۔ وہ خواہ جتنا بھی جمہوریت کا راگ الاپیں، میں ان کا خاتمہ کر کے رہوں گا۔ بلکہ ان کا کیا تمام اپوزیشن کا خاتمہ کروں گا۔ وہ سب چور ہیں۔ ہم ثابت کریں گے کہ ہم ان سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں۔

جیسا کہ میں نے پہلے کہا، آپ خود سوچیں کہ تیتیس کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے۔ اس لیے میں کوشش کروں گا کہ یہ مسئلہ حل کر دوں۔ اس کے کئی حل زیر غور ہیں۔ مثلاً بجلی، گیس، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی بہت مہنگی کر دی جائیں اور کاروبار تباہ کر دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں جو لوگ ترک وطن کر سکتے ہیں وہ ملک سے چلے جائیں گے اور جو ایسا نہیں کر سکتے ان میں سے بہت سے خدا کو پیارے ہو جائیں گے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ماحولیاتی تباہی کی جائے جس سے بیماریاں پیدا ہوں اور آبادی کم ہو۔ یہ سب نہ چلے تو کسی طاقتور ملک سے ایٹمی جنگ کر کے آبادی پر اس حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے کہ ملک چلانا آسان ہو جائے۔ ہم ایسے کسی ایک یا تمام حل پر عمل کر سکتے ہیں، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

خدائے بزرگ و برتر وطنِ عزیز کا حامی و ناصر ہو اور اب آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

آپ کا اپنا صدر، جو بائیڈن۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1353 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar