فیصل آباد میں پولیس کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت: پاکستانی پولیس گولی کی زباں میں ہی کیوں بات کرتی ہے؟

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو

پاکستان کے شہر فیصل آباد کے قریب سمندری روڈ پر بدھ کی رات ایک واقعے میں پولیس کی فائرنگ سے سمندری کا رہائشی سردار وقاص گجر نامی شخص ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پنجاب ہائی وے پولیس (پی ایچ پی) کے انچارج اے ایس آئی شاہد منظور اور ان کی ٹیم نے گاڑی میں سوار چار لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔

تاہم ان کی جانب سے گاڑی نہ روکنے پر پولیس کی جانب سے گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد گاڑی کا ڈرائیور وقاص گجر کے سینے پر گولی لگی اور وہ ہلاک ہو گیا جبکہ گاڑی میں سوار دیگر تین مسافر بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے۔

اس واقعے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سی پی او فیصل آباد سہیل احمد کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور میں خود اس کی مانیٹرنگ کر رہا ہوں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس اہلکاروں نے کالے رنگ کی ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں رکی۔

پولیس

جس کے بعد پی ایچ اے کے عملے نے اس گاڑی کا پیچھا کیا گیا۔ جب گاڑی میں سوار مسافروں نے گاڑی چھوڑ کر بھاگنے کی کوشش کی تو اسی دوران گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں وقاص کو گولی لگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے بعد اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی ایچ پی کے عملے نے زیادتی کی ہے اور ڈیوٹی کی پاداش سے آگے بڑھ کر کام کیا۔

سی پی او فیصل آباد سہیل احمد کا کہنا تھا کہ ’گاڑی میں سوار تمام لوگ نہتے تھے اور نہتے لوگوں پر فائرنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ اس لیے ہم نے اس واقعے میں ملوث پی ایچ اے تمام عملے کو رات کو گرفتار کر لیا تھا اور ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرلی گئی ہے۔ ‘

انھوں نے مزید کہا کہ میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا دعوی مسافروں نے شراب بھی رکھی تھی

اس واقعے کے فوری بعد پولیس کی جانب سے یہ موقف بھی سامنے آیا تھا کہ گاڑی میں سوار مسافروں نے شراب پی رکھی تھی۔ تاہم اس بات کی تردید کرتے ہوئے سی پی او سہیل احمد کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوئی ہے اور لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا ریا ہے، جس کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد وقاص کی لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ جنوری کے ہی مہینے میں دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آنے والے ایک واقعے میں ناکے پر گاڑی نہ رکنے پر انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے طالب علم اسامہ ندیم ستی کو ہلاک کر دیا۔

اس واقعے پر پولیس کا مؤقف یہ ہے کہ ڈکیتی کی کال چلنے کے بعد مشکوک معلوم ہونے والی کالے شیشے والی گاڑی کو اے ٹی ایس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اور گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کے نتیجے میں اسامہ ستی کی ہلاکت واقع ہوئی۔

اس واقعے میں ملوث پانچوں اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پورے واقعے سے مذکورہ اہلکاروں کا سرکاری ذمہ داریوں میں غیر پیشہ وارانہ رویہ سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے محکمے کی بدنامی ہوئی ہے۔

اس واقعے کے بعد چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی نے عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا جو کہ اب بھی جاری ہیں۔

اس واقعے سے قبل بھی 2019 میں ساہیوال میں پیش آنے والے ایک واقعے میں پنجاب پولیس کی انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی) کی جانب سے ساہیوال کے قریب ایک سڑک پر مبینہ پولیس مقابلے میں دو خواتین سمیت چار افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ جس گاڑی کو روک کر فائرنگ کی گئی تھی، اس میں تین بچے بھی سوار تھے جو محفوظ رہے تھے۔

اس واقعے پر سی ٹی ڈی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کا ‘تعلق شدت پسند نام نہاد ’تنظیم دولت اسلامیہ‘ سے بتایا جا رہا تھا، جس میں گاڑی میں سوار دیگر لوگ مبینہ طور پر ‘سہولت کار’ تھے۔

‘جب پولیس روکے تو رک جائیں اور ان کی بات سنیں’

ساہیوال واقعے کے بعد بھی پولیس کی کارکردگی، ایسی کارروائیوں اور ضابطہ کار پر تنقید کے ساتھ ساتھ بہت سے سوالات بھی اٹھائے گئے۔ جس کے بعد حکومت کی جانب سے بھی کئی مرتبہ پولیس ریفارمز اور اس کے روّیوں میں بہتری لانے کے لیے کام کرنے کی بات کی گئی ہے۔ لیکن ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے کے بعد بھی یہی سوالات اٹھائے گئے کہ نہتے شخص پر گولیاں کیوں برسائی گئیں۔ اس کا پیچھا کرکے اسے روکا کیوں نہیں گیا؟

ایسے واقعات میں کیا پولیس میں یہ کلچر موجود ہے کہ اپنے ضابطہ کار سے باہر نکل کر کارروائی کی جاتی ہے؟

ان تمام سوالوں پر گفتگو کرتے ہوئے سابق آئی جی شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں پولیس کے ساتھ ساتھ عوام کا کردار بھی زیر غور ہونا چاہیے۔ ’لیکن میں پولیس کو زیادہ قصور وار اس لیے سمجھتا ہوں کیوں کہ وہ ایک ادارہ ہے اور ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘

انھوں نے تجویز دی کہ ’ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جب ناکے پر پولیس آپ کو روکے تو آپ فوری رک جائیں۔ یہاں اگر ہم دنیا کے کچھ ممالک کی مثال دیکھیں تو امریکہ بھی قانون کے تحت پولیس فائر کرتی ہے۔ جبکہ برطانیہ اور دیگر کچھ ممالک میں مہذب انداز میں کارروائی کرتے ہوئے مشکوک شخص کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔‘

اس لیے یہاں قانون کے تحت عوام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جب پولیس آپ کو روک رہی ہے تو وہ رکیں اور ان کی بات سنیں۔ اب اگر بات کریں پولیس کی جانب سے لیے جانے والے انتہائی قدم اٹھانے کی تو وہ بھی غلط اور غیر قانونی ہے۔

انھوں نے مزيد کہا کہ ایسے واقعات ہماری پولیس کے موجودہ سسٹم میں کمی اور ٹریننگ کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔

اب تو ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اس لیے اگر کوئی نہیں رکتا ہے تو آگے ٹیم تک ان کی معلومات پہنچائی جا سکتی ہیں کہ یہ گاڑی نہیں رکی ہے۔ یا پھر اس کا پیچھا کریں اور اسے وارننگ دیں۔ اگر پھر بھی وہ نہیں رکتا ہے تو بھی کاروائی قانون کے مطابق کی جانی چاہیے، جس میں سب سے پہلے گاڑی کے ٹائروں پر فائر کیا جاتا ہے تاکہ اسے روکا جائے۔

کار
اسامہ کی گاڑی کی تصویر جس کی ونڈ سکرین پر گولیوں کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں

‘ایسے واقعات روکنے کے لیے پولیس میں ریفارمز کی ضرورت ہے’

سابق آئی جی پنجاب شوکت جاوید کے مطابق ایسے وقعات کی روک تھام کے لیے پولیس اہلکاروں کی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ انھیں جدید ساز و سامان بھی مہیا کرنا چاہیے جس کا استعمال کرتے ہوئے وہ مشکوک شخص کے خلاف قانون کے ضابطہ کار کے مطابق کارروائی عمل لا سکیں۔

جن واقعات میں پولیس کے غفلت یا پھر ذاتی چپقلش شامل ہو تو وہ انتہائی سنگین جرم ہے۔ جس میں ان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے جبکہ کئی واقعات میں دونوں پارٹیاں ہی آپس میں صلح کر لیتی ہیں، جس کی وجہ سے بھی سزائیں نہیں ہو پاتی ہیں۔ تاہم پولیس کی جانب سے محکمانہ کارروائی کی بات کی جائے تو وہاں سزا ضرور دی جاتی ہے۔

یاد رہے اسامہ ندیم ستی کے کیس میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے بھی ولیس اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان طالب علم اسامہ ستی کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس ملزمان سے ملی ہوئی ہے اور اپنے ’پیٹی بند بھائیوں‘ کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سابق آئی جی پنجاب شوکت جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پولیس ریفامز کی شدید ضرورت ہے اور اس سلسلے میں بہت سا کام ہو بھی چکا ہے۔ پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن نے آٹھ سابق آئی جیز پر مشتمل پولیس کمیٹی بنائی تھی، جنھوں نے ریفامز تیار کی تھیں۔ لیکن ابھی تک نہ تو ان پر کوئی غور کیا گیا اور نہ ہی انھیں ابھی تک عمل میں لایا گیا۔

تاہم انھوں نے یہ امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم عمران نے پچھلے دنوں یہ بیان دیا ہے کہ ہم نے کچھ مشکلات پر قابو پا لیا ہے اور اب میں ریفامز کی طرف توجہ دوں گا۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پولیس میں بہتری بھی آئے گی اور ایسے واقعات میں کمی بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17841 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp