بلاسفیمی اور نورمحمد ترہ کی کا ناول’سنگسار‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبا کی اولین تالا بندی کے دوران دنیا کا ہر مندر، گرجا، چرچ، کلیسا بند ہو گیا مگر ہم یہ سوچتے رہ گئے کہ خدا کے نام پر بننے والے وطن عزیز میں اسی کے گھر پہ تالا ڈالنے والے ہم کون ہوتے ہیں! عالمی برادری نے ایک لمبی سی ’ہوں‘ کی صورت ہمارے جذبہ ایمانی کی داد بھی دی۔ مجھ جیسا سامع تو ابھی اسکرین پر پیش کیے گئے اسی کھیل میں محو تھا کہ ایک دھماکہ ہوا۔ دین کا ایک نوخیز متوالا انصاف کی فی الفور فراہمی کو یقینی نہ پاکر ایسا اشتعال انگیز ہوا کہ کمرہ عدالت میں خود ہی اپنے ملزم کی جان لے لی۔ اسمگلنگ، ملاوٹ، زنا بالجبر، رشوت خوری، ناجائز قبضوں کی دلدادہ اس قوم نے اب کی بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت کو بھی للکار دیا تھا کہ شریعت کے نفاذ کے لئے آئین کی طرح تمہاری جگہ بھی کوڑا دان ہی ہے۔ طاقت کا سرچشمہ صرف جوشیلا نوجوان ہے، جس کے ذریعے جب چاہے، جہاں جی میں آئے اور جیسے مرضی خدا کے دین کے کو سربلند کروایا جاسکتا ہے۔ اس منظر سے نہ جانے کیوں میرا دل ڈولنے لگا، حالانکہ میں مسلمان تھی اور عوام بھی۔ کنٹونمنٹ کے اندر بسی عوام نہ سہی مگر احمدی یا شیعہ بھی نہ تھی اور نہ ہی سندھی یا بلوچ۔ میں تو خالص پاکستانی تھی! پھر کاہے کا ڈر میری روح کو گھائل کیے جا رہا تھا۔ میں تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہنے کے قابل ’ایک مثالی شہری‘ تھی۔ کیا میرا مستقبل محفوظ تھا؟

کوئٹہ کے ایک گیسٹ ہاؤس کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے میں سی۔ ایم ہاؤس کی آہنی دیواروں کو دیکھ رہی تھی، جن پر تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری تھا اور سردیوں کی آمد کی نوید سناتی ٹھنڈی ہوا ان مزدوروں کا پسینہ پونچھتی ہوئی میری طرف بڑھی، میری چوٹی سے الجھتی ہوئی کان کے قریب آئی اور فٹ سے ایک خبر سنا کر غائب۔ میں سن کھڑی دیوار کے اوپر بیٹھے مزدور کو کاریگری سے پلستر کرتا دیکھتی رہ گئی۔ خوشاب کے ایک بینک منیجر کو اس کے ملازم نے ابدی نیند سلا کر شریعت کی آنکھیں روشن کردی تھیں۔ دوبدو انصاف کی فراہمی یقینی ہو گئی تھی۔ یہ ایک مژدہ تھا یا نوید؟ میں فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ حالانکہ میں بھی تو وہی عوام تھی۔ طاقت کا سرچشمہ اب میرے ہاتھ، زبان اور آنکھیں بن گئی تھیں اور یہی میں چاہتی تھی۔ دل، دماغ کی تو اس طاقت کے کھیل میں ضرورت ہی نہ تھی۔

مجھے اس بات کی تو بہت خوشی تھی کہ الحمد للہ! میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طاقت سے بھرپور عام شہری تھی، جہاں مطلق العنان بادشاہی صرف عقیدے کی تھی۔ اسلام کو زندہ کرنے والے میرے اردگرد بہت سارے تھے، جن کا جوش ایمانی، قاضی القضاة کے فتوے کا انتظار بھی نہ کر سکتا تھا۔ حالانکہ اچھے اچھے علما اور مساجد ہماری خدمت میں ہمہ تن مصروف تھے۔ سال کے بارہ مہینے ہر وقت باوضو نہ رہ پانے والی خدا کی یہ ناقص العقل تخلیق مردوں کے زہد و تقویٰ اور دانش کا مقابلہ تو نہ کر سکتی تھی، مگر اپنے تئیں دماغ کے گھوڑے تو دوڑا سکتی تھی۔ اس میں حرج ہی کیا تھا۔ مزدور دیوار چنتے چلے جا رہے تھے۔ ادھر میرے دماغ کے جالے پر ایک سایہ بنتا چلا گیا۔ سمیت اپنے کرداروں کے۔ اس سائے نے میری طرف مسکرا کر ایسے دیکھا، جیسے زوم کال ملتے ہی میں اپنے کسی پیارے کو دیکھ کر بے اختیار مسکرا دیتی ہوں۔

میرے ذہن پر نمودار ہونے والا یہ اسمگل شدہ سایہ ایک بھٹکی ہوئی آتما کا تھا، جسے اکتوبر 9791 ءمیں ثور انقلاب کی آڑ میں کابل میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ اپنے ملک افغانستان کا صدر تھا، مگر کوئی صدارتی اختیار اس کی پھانسی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا۔ میری نظریں اس سائے کے کندھے پر لٹکی زنبیل سے جا ٹکرائیں، جن میں کچھ بوسیدہ کاغذات پڑے ہوئے تھے۔ ترہ کی آج اپنے ساتھ میرے لئے ایک کہانی لایا تھا، جسے سننے کے لئے میں بھی اتنی بے صبری تھی، جتنا وہ بے چین۔ عنوان تھا ”سنگسار“ ۔ جس کا مرکزی کردار ’شیر‘ اسلام کا بول بالاکرنے کے لئے قرآن کے مقدس اوراق کی گستاخی جیسے سنگین الزام کے تحت سنگسار کر دیا گیا تھا، مگر حقیقتاً وہ بے بس، مسکین اپنی امارت کے ستون کو مضبوط کرنے کے لئے محض قربانی کا بکرا بن گیا۔ تعویذوں پر انت وشواس رکھنے والے شیر کو تو اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ اس سے کون سا واجب القتل گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ قرآن کے مقدس اوراق کی غسل خانے میں بے حرمتی کا تو کوئی غیر مسلم بھی نہیں سوچ سکتا۔ شیرکیسے اور کیونکر اس گھناؤنے فعل کا مرتکب ہو گیا؟ کابل کی پوری عدلیہ، وزیر، مشیر اپنے ایمان کی تازگی کے لئے اسے سزا دلوانے میں جت گئے اور گواہوں کو نہ پاکر شیر سے خود اقرار کروانا ان سب شرفا کی زندگیوں کا اولین مقصد ہو گیا تاکہ خدا کا دین بے محافظ نہ ہو جائے۔ سب مسلمان اسلام کو زندہ کرنے کے لئے اتنے بے تاب تھے کہ شیر کو اپیل کرنے کا حق بھی نہ دیا گیا اور ترہ کی کا یہ کردار اپنی قوم کو خدا کے قہر سے بچانے کے لئے چوک کے عین درمیان پتھروں کے سائے میں رخصت ہو گیا۔

بخدا اس رات خدا کتنا پرمسرت ہوگا کہ اس کا نام لینے والوں نے آج شریعت روشن کردی تھی۔ عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کھولے گئے اسکول بند کروا دیے تھے۔ عشا کی نماز نہ پڑھنے والے ایک ایک غافل کو کوڑے مارے جا چکے تھے۔ دعائے قنوت مسجد میں سرعام سنی گئی تھی۔ کوئی بچہ بھوک سے بلبلاتا سویا تھا یا پیٹ بھر کے، اس سے ان کو کیا سروکار۔ یہی تو تھی خدا کے دین کی سربلندی۔ جس میں ہر شملہ، ہر پگڑی اونچی تھی۔ محض انسانیت سرنگوں تھی۔ سنگسار کی کہانی سناتے سناتے ترہ کی کی پتھر ہو چکی آنکھوں سے ایک لڑی بہہ نکلی۔ اس کہانی میں شیر کا مقدمہ میرے داستان گو کے اپنے کیس جیسا ہی تو تھا، جو نور محمد کی بے قرار روح عالمی عدالت کے ضمیر پر دائر کیے بیٹھی تھی۔

یہ دکھی آتما سرکار کے خدائی خدمت گاروں کی پھرتی پر حیران بھی تھی کہ سال سال بھر فلاح و بہبود کی فائلیں لٹکانے والے کسی بھی محکمے نے اس کی سزائے موت کے پروانے پر دستخط کر کے شریعت کی عملداری میں ذرا بھی تامل نہ کیا۔ میں اپنی آنکھوں کے سامنے پھیلے اس سائے کے آنسو کیا پونچھتی! میرا تو اپنا ذہن سلگ رہا تھا۔ دامن میں کہیں راکھ تھی تو کہیں خون کے دھبے۔ کس حصے کو سہلاتی اور کسے جھاڑتی! ہاں! بڑبڑاہٹ کی صورت کچھ الفاظ میرے منہ سے ضرور نکلے کہ اے میری جان سے عزیز ساتھی! صدہا شکر خدائے ذوالجلال کا۔ تمہارے شیر جان کو تو کسی عدالت نے سنگسار کیا تھا۔ کوئی تو قانون تھا، جس کے تحت تمہارے شیر پر پتھروں کی بارش کی گئی۔ شیر خود بھی تو اسی نام نہاد احتساب کا کارندہ رہ چکا تھا، مگر یہاں تو محض جنگل کا قانون ہے، انصاف اتنا ارزاں ہے کہ ہر آدمی کی اپنی جیب میں ہے۔ آئین اور عدالت کی حیثیت محض ڈسٹ بن میں پڑے ٹشو پیپر کی سی ہے۔

رب کعبہ کا دین سربلند کرتی میری تمہاری دھرتیاں عالمی منڈی میں اب ایسی داسیاں ہیں، جن کے جھریوں زدہ چہرے کی طرف اب دیکھتا بھی کوئی نہیں، منہ میں دانت ندارد اور تھرتھراتی چال اب کانپنے بھی لگی ہے۔ مگر ہمارے آقا، میرے تمہارے خلفا اب ان گوپیوں کے گردے، جگر، آنکھیں، دل، سب کچھ اسمگل کر کے ہی دم لیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •