آپ صرف کیش ہی دیں گی اس کے علاوہ کچھ نہیں دیں گی: مفتی عبدالقوی کی حریم شاہ سے مزید وڈیو گفتگو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل ٹک ٹاک سے متنازع شہرت حاصل کرنے والی حریم شاہ کی ممتاز عالم دین مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مارنے کی ویڈو سامنے آئی۔ اس ویڈیو کے بعد حریم شاہ نے مزید تفصیلات آشکار کیں لیکن یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے۔ مزید ویڈیوز سامنے آ نے کا سلسلہ جاری ہے ۔ واضح رہے کہ مفتی عبدالقوی برسراقتدار سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے علما ونگ کے سربراہ بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حریم شاہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کی جانب سے پیشانی پر بوسہ لینے کا انکشاف کیا تھا تاہم اب اس سے متعلق ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حریم شاہ گاڑی چلاتے ہوئے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کر رہی ہیں۔ ویڈیو میں حریم شاہ پروگرام میں شرکت کیلئے مفتی قوی کو دعوت دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ کل آپ آئیں تو رات یہیں رک جائیں اور آپ کو جیسے ٹھیک لگے، ہم کل یا پھر پرسوں پروگرام ریکارڈ کروا لیں گے ۔

مفتی عبدالقوی جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ بطور خلیفہ اور سیکریٹری کل رات میرے پاس رہیں گی تو میں پھر میں رات رکنے کیلئے تیار ہوں۔ حریم شاہ آگے سے جواب دیتی ہیں کہ ٹھیک ہے ہم ساتھ کھانا کھائیں گے اور میں آپ کی ’عزت ‘ کروں گی۔ مفتی عبدالقوی اس پر جواب دیتے ہیں کہ ”ہم صبح کی نماز تک اکھٹے رہیں گے ۔“

حریم شاہ مفتی عبدالقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں نے آپ کی کل کی ٹکٹ کروا دی ہے۔ ابھی مجھے ایجنٹ بھیج رہا ہے۔ یہ بات سن کر مفتی عبدالقوی حریم شاہ سے کہتے ہیں کہ آپ کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے اجازت لیتا ہوں۔ حریم شاہ کہتی ہیں کہ آپ کو اس پروگرام میں شرکت کیلئے پچاس ہزار روپے ملیں گے، میں آ پ کو آتے ہی کیش دے دوں گی۔ مفتی عبدالقوی یہ بات سن کر ذو معنی انداز میں کہتے ہیں کہ ” “

گفتگو کے اختتام پر مفتی عبدالقوی حریم شاہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے کلمہ پڑھا ہے۔ ٹک ٹاک سٹار جواب دیتی ہیں کہ جی میں نے پڑھا ہے۔ پھر مفتی عبدالقوی کہتے ہیں کہ زبان نکالیں۔ حریم شاہ جیسے ہی اپنی زبان نکالتی ہیں تو مفتی عبدالقوی فون پر بوسہ دیتے ہوئے کال کاٹ دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •