ہماری شرح خواندگی کی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس ملک کی قومی دستاویزات پر شرح خواندگی اس لیے فرضی اعداد و شمار میں ہوتی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر رہا سہا وقار بچایا جا سکے اور بہت زیادہ اس لیے نہیں بتا سکتے کہ تعلیم کے نام پر ملنے والی خیرات سے کشکول ملت خالی ہو جائے گا۔ خیرات پر پلنے والی اقوام سخاوت کے حجاب میں چھپے استحصالی رویے کو سخی کا حق سمجھتی ہیں حالانکہ یہ استحصال سخاوت سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ مغرب کی تقلید کرنے والوں میں ہمارے تنگ دست اور ناخواندہ شامل ہوتے مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ غلام بنے تو بنے ہمارے اہل علم اور اہل ثروت۔

یہ اطاعت کو ایمان کا لاینفک جزو سمجھنے لگے۔ مرعوبیت دیمک کی طرح ہمارے اجداد کی خرد چاٹ گئی اور بظاہر پرشکوہ مگر کھوکھلے متمدن معاشروں کو دیکھ کر پراگندہ خیال لوگ اپنی ہزارہا برس پر محیط علمی ثقافت سے دست بردار ہو گئے۔ وقت نے شاید ہی کوئی ایسی قوم دیکھی ہو جس نے اپنا ورثہ، اپنی ثقافت، اپنی زبان، اور پہچان کو یوں چھوڑ دیا ہو۔

بڑا خیال ہمیشہ مادری زبان میں پنپتا ہے ، اس لیے کسی قوم کا چال چلن تو اپنایا جا سکتا ہے لیکن دوسری زبان اپناتے اپناتے انسان کے تعمیری اور ایجاداتی تخیلات اس سے معذرت کر لیتے ہیں۔ ہم آج مسلط کردہ زبان میں سوچنے بھی لگے ہیں ، اب یہ بات خوشی سے بتاؤں یا غم سے، معلوم نہیں۔

ہر عہد کا فاتح قرطاس تاریخ کا غاصب ہوتا ہے مگر ان غاصبوں کو لعنت ملامت کرنے کی بجائے مستحق ملامت وہ افراد ہوتے ہیں جو علم بغاوت بلند کرنے کی بجائے چند نوالوں کے عوض یا بعض اوقات بغیر اجرت کے خوفزدہ ہو کر ، سر تسلیم خم کیے عظمت کے راگ صرف اس لیے الاپتے ہیں کہ ان غاصبوں کی آنکھوں کا تارا بن جائیں۔

آج بھی فرسودہ بلکہ متروک تحقیق کے بل بوتے پر مغرب کی عظمت بیان کرنے والے شاید جدید ادب کا مطالعہ ترک کر چکے ہیں ورنہ ظلم و استبدادیت کی وہ داستانیں ملیں کہ انسانی حقوق کے یہ نام نہاد محافظ ششدر رہ جائیں۔ ظلم کی حمایت کرنا بھی ظلم ہے، شومئی قسمت کہ ایسے احمق ہمیں کہیں ٹی وی پر لوگوں کا وقت ضائع کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں چوراہوں پر علم سے بیزار اور غیر تعمیری طرز زندگی رکھنے کے باوجود ملک و قوم پر تنقید کرتے سنائی دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں تعلیم کا تعمیری حوالہ صرف یہ ہے کہ اچھا رشتہ مل جائے گا اور اچھی نوکری لگ جائے گی،  چنانچہ یہاں صرف یہی تعلیم کا مقصد ہے۔ ظاہر ہے ایسے افراد تعلیم کے نام پر اپنا بیکار مستقبل ذرا کم بیکار کرنے کے علاوہ اس طعنے سے بچنا چاہتے ہیں کہ وہ ”ان پڑھ“ ہیں۔

کورس کے علاوہ ہمارے ہاں بیشتر طلبہ و طالبات زندگی بھر ایک بھی کتاب مکمل نہیں پڑھ پاتے ، دوسری طرف کورس کے ساتھ بھی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اگر ہو بھی تو ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس کی وقعت بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ تعلیم ہے پر تعلیم کا نتیجہ نظر نہیں آتا۔

ویسے تو پاکستان میں دکھنے والی شرح خواندگی 90 فی صد سے زیادہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ صرف لاہور شہر میں پھرتے ہوئے جتنی گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں ، ان پر ”ایڈوکیٹ“ یا ”پریس“ ، آدھی گاڑیوں پر سرکاری یا غیر سرکاری یونیورسٹیوں کے نام اور جو بچ جاتی ہیں ، ان کے ڈرائیور کہتے ہیں ”تم ابھی جانتے نہیں مجھے“ اب خدا جانے ان کے عزیز کوئی افسر ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی حیدر اعوان کی دیگر تحریریں