خوشی کیسےمل سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ہمیشہ خوشی کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ خوشی کو ہر بات، ہر چیز اور ہر جذبے میں تلاش کرتا ہے۔ خوشی کے لئے دولت مند ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس دنیا میں بڑے بڑے دولت مند انتہائی نا خوش ہیں اور بڑے بڑے غریب انتہائی خوش ہیں۔

خوشی کروڑوں ڈالرز دے کر بھی نہیں خریدی جا سکتی۔ خوشی معمولی سی بات سے بھی مل سکتی ہے۔خوشی کا تعلق باہر سے نہیں ہوتا بلکہ خوشی کا تعلق انسان کے اندرونی جذبات اور احساسات سے ہوتا ہے۔ باہر کا منظر چاہے جتنا بھی دلکش اور خوبصورت ہو مگر جب اندر بڑے بڑے غموں کا طوفان اٹھ رہا ہو تو وہ انسان کو کبھی بھی خوش نہیں کر سکتا۔

ہمارے ذہن میں بچپن ہی سے بہت ساری خوشیوں کے بارے میں ڈر اور خوف بٹھایا جاتا ہے۔ اگر کہیں بہت اچھی نمائش ہو رہی ہو اور ہر طرح کی خوشیوں کا سماں ہو تو گھر والے ہمیں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ بیٹا وہاں ضرور جاو مگر اپنی جیب کا خیال رکھنا کیوں وہاں جیب کترے موجود ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی نمائش یا میلے میں پہنچ جاتے ہیں ، ہماری ساری خوشی ایک بہت بڑے ڈر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہمیں ہر ایک شخص جیب کترا نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔

ہمیں گھر میں یہ سوچ بچپن سے دی جاتی ہے کہ کبھی بھی زیادہ خوش نہیں ہونا کیونکہ خوشی تو بدشگون ہوتا ہے۔ یعنی جب آپ زیادہ خوش ہوں گے تو اس کے بعد غم نے آنا ہوتا ہے۔ اس طرح کے عقیدے ہمیں ہر خوشی سے دور کر دیتے ہیں اور جن بڑی بڑی خوشیوں نے ہماری طرف آنا ہوتا ہے ، وہ بھی واپس لوٹ جاتی ہیں۔

ہمیں یہ کسی نے نہیں بتایا کہ آپ کی ایک مسکراہٹ کتنوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلا سکتی ہے۔ اگر آپ خوش رہیں تو کتنے اور افراد میں بھی وہ خوشی پھیل سکتی ہے۔ کتنے افراد کے غموں کو آپ اپنی ایک بات، ایک مسکراہٹ، ایک تعریف یا ایک چھوٹے سے تحفے سے دور کر سکتے ہیں۔

اسلام کا تو بنیادی فلسفہ ہی یہی ہے کہ ہمیشہ اچھی بات کرو۔ کسی سے اچھی گفتگو کرنا بھی صدقہ جاریہ ہوتا ہے۔ ناامیدی اور مایوسی کو کفر کہا گیا ہے۔ خوشی ان کو ملتی ہے جو مطمئن رہتے ہیں۔ مطمئن وہ رہ سکتا ہے جو شکر گزار ہوتا ہے۔ شکر گزار وہی ہو سکتا ہے جو اپنے پاس موجود نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی انسان صبح سویرے زندہ اٹھتا ہے تو یہ اس کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے کیونکہ وہ زندہ اٹھا۔ قدرت نے اس کو ایک دن عطا کیا، دنیا میں آج بہت سے لوگ زندہ نہیں اٹھ چکے ہوں گے ۔ آپ کو ایک دن کی زنگی مل گئی۔

آپ کو کھانا مل کیا تو شکر کرنا چاہیے۔ آج بہت سے انسانوں کو کھانا نہیں مل سکا ہو گا۔ آپ کو صحت مل گئی تو شکر ادا کرنا چاہیے۔ بہت ساری دولت کے ساتھ بھی آج بہت سارے لوگ بیمار ہوں گے ۔ اسی طرح بے شمار چیزیں ہیں جو آپ کو اللہ نے عطا کی ہوں گی اور وہ کسی بھی بڑے سے بڑے امیر بندے کو بھی نصیب نہیں ہوں گی ۔ ان سب پر شکر ادا کرنا سب سے بڑی خوشی ہے۔

خوشی کے احساس کا نہ ہونا ڈر کو جنم دیتا ہے اور خوشی کے احساس کے ہونے سے حقیقی ڈر بھی ختم ہوجاتا ہے۔
بقول شاعر:
گاہے گاہے اگر خوشی ملتی
غم کا اتنا اثر نہیں ہوتا
نور قریشی

انسان کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ خوشی کو باہر کی بجائے اپنے اندر تلاش کرے کیونکہ انسان کسی بات، چیز یا جذبے سے تب ہی خوش ہو سکتا ہے جب اس کا احساس اس کے اندر پایا جاتا ہو۔

تری خوشی سے اگر غم میں بھی خوشی نہ ہوئی
وہ زندگی تو محبت کی زندگی نہ ہوئی
جگر مراد آبادی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •