انسان فطرت کو کیسے پامال کر رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالی نے جب کائنات تخلیق کی تو کائنات میں ہر طرف خوبصورتی ہی خوبصورتی دکھائی دیتی تھی۔ زمین پر سبزہ تھا، لہلہاتے ہوئے کھیت کھلیان تھے، دریا اپنی ہی موج میں بہتے تھے، سمندروں کی شفاف ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہریں ساحل سمندر سے ٹکراتی تھیں، سر سبز اور شاداب وادیاں اور سفید چادر اوڑھے برفیلے پہاڑ تھے، گلستاں کو مہکاتے رنگ برنگے پھول، جن پر ہر رات کو اوس کے قطرے گرا کرتے تھے، ہواؤں میں پھولوں کی مسحور کن خوشبو ہوا کرتی تھی۔

پرندے آزادی سے کھلی اور صاف شفاف ہواؤں میں اڑا کرتے تھے، جانور زمین پر اچھل کود کرتے، مچھلیاں صاف پانی میں تیرتی تھیں۔ پھر یوں ہوا کہ وہ انسان جو پہلے غاروں میں رہا کرتا تھا وہ تسخیر کے سفر پر نکلا، ہری بھری وادیوں میں لوگ آباد ہونے لگے، گاؤں بنے، شہر تعمیر ہوئے ، پھر گاؤں شہروں میں تبدیل ہونے لگے، ہوائیں آلودہ ہو گئیں، کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں اٹھنے لگا، دھوئیں سے دم گھٹنے لگا، ہر طرف فضائی آلودگی، آبی آلودگی، صوتی آلودگی، زمینی آلودگی، غذائی آلودگی، بحری آلودگی پھیلنے لگی۔

کہیں زہریلے مادے، کہیں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر تو کہیں جان لیوا اسپرے، غرض انسان نے ترقی کی تمام تر منازل تو طے کر لیں مگر ماحول کو آلودہ کر کے فطرت کو پامال کرنے لگا۔ یہ کرۂ ارض جو کہ پرندوں، جانوروں اور انسانوں کے رہنے کی جگہ ہے، انسان اس کو اپنے ہاتھوں سے لاوے میں تبدیل کرنے لگا۔

انسان نے اپنی آسائش کی خاطر فیکٹریاں لگائیں، زہریلا دھواں اگلنے والے پلانٹس لگائے، جنگلات کا قتل عام کیا اور اب اس کرۂ ارض سے زندگی روٹھتی جا رہی ہے۔ اب یہاں آسمان میں بلبل، چڑیا، کوئل، عقاب وغیرہ اڑتے نظر نہیں آتے کیوں کہ وہ سب فضائی آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ آلودگی ہی تو ہے کہ جس کی وجہ سے زمین زہریلی گیسوں کی آماج گاہ بنتی جا رہی ہے۔

انسان نے ماحولیاتی آلودگی اور عالمی حدت یعنی گلوبل وارمنگ سے فطرت کو پامال کرنا شروع کیا۔ پوری دنیا میں ماحولیاتی آلودگی سے مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں اور ان بیماریوں کا شکار نہ صرف انسان بلکہ چرند پرند بھی ہو رہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی میں گاڑیوں کے دھویں، زہریلی گیسوں، کیمیائی مادوں، گردوغبار، ٹھوس ذرات، ایندھن کے جلنے، جوہری اخراج، مصنوعی کیمیائی کھادیں، حشرات کش ادویات، کوڑاکرکٹ کے ڈھیر، شامل ہیں جو کہ فضائی، آبی، بحری، اور زمینی آلودگی پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی پر کچھ ترقی یافتہ ممالک اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ ترقی پذیر ممالک مثلاً پاکستان اور انڈیا ابھی تک اس مسئلے سے نمٹ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ستر لاکھ سے زائد لوگ فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور بچوں کی قوت مدافعت کو متاثر کرنے میں فضائی آلودگی اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ سردیوں کے موسم میں سموگ بھی فضائی آلودگی کی وجہ سے ہی پھیلتی ہے جس کی وجہ سے گلے اور سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ہمارے یہاں کراچی اور لاہور گندگیوں کے ڈھیر بنے ہوئے ہیں ۔ لاہور اور کراچی کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے، کراچی میں روزانہ 500 ملین گیلن آلودہ پانی سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے ، ہزاروں ٹن کچرا ایسا ہے جسے اپنے ٹھکانے پر پہنچایا ہی نہیں جاتا۔ لاہور جسے پھولوں اور باغوں کا شہر کہا جاتا تھا ، اب وہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ لاہور کی ہر سڑک ، ہر گلی اور ہر محلے میں اب صرف کوڑا کرکٹ نظر آتا ہے۔

زمین کو سب سے بڑا خطرہ گرین ہاؤس گیسوں سے ہے۔ زمین سے فضا میں پھیلنے والے مادوں کے اخراج کی ذمہ دار انسان کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی ہی ہے۔ قطبین سے برف پگھلتی جا رہی ہے اور زمین کا درجہ حرارت 0.74 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ رہا ہے۔ انٹرگورنمنٹل بورڈ برائے موسمی تبدیلی کے مطابق 21 صدی کے آخر تک 01.1 سے 6 ڈگری سنٹی گریڈ تک درجہ حرارت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں قطب شمالی کے ممالک موسمی تبدیلیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

زمین سے اٹھنے والی زہریلی گیسوں کی وجہ سے فضا آلودہ ہو رہی ہے اور جنگلات کٹنے کی وجہ سے آکسیجن میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ 1824 میں جوزف فوریر نامی سائنسدان نے بروقت خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس نے اپنے نظریے میں کہا تھا کہ گرین ہاؤس گیس، پانی کے بخارات، کاربن ڈائی آکسائیڈ، اور میتھین مل کر ماحول کو تباہ کر رہے ہیں۔ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والے ہائیڈرو کاربن کینسر کا باعث بن رہے ہیں اور نائٹروجن آکسائیڈ پھپھڑوں کے خلیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔کوئلوں کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیس سلفر ڈائی آکسائیڈ فضا میں داخل ہو کر انسانی آنکھ، ناک، گلے اور پھپھڑوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ، بھارت اور چین دنیا بھر میں زیادہ آلودگی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں ۔ دنیا بھر میں 25 فیصد آلودگی انہی ممالک سے پھیلتی ہے۔ بارشوں کی کمی، آبی ذخائر کی قلت، ممالک کے درمیان پانی کے تنازعات یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج آلودگی کا خاتمہ ہے۔

افریقی ممالک تو آج بھی قحط اور خشک سالی کا شکار ہیں۔ زمین تو زمین اب سمندری حیات کو بھی خطرات لا حق ہو چکے ہیں۔ کچھ کمپنیاں اور تنظیمیں زہریلی گیسوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سائنسی آلات کو ماحول دوست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، کیوٹو پروٹوکول پر بھی کام جاری ہے لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اس طرح ہم صرف 3 فیصد آلودگی پر قابو پا سکیں گے اور ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ بیس سال کا درجہ حرارت گزشتہ چار صدیوں میں سب سے زیادہ رہا ہے۔

اس کرۂ ارض میں قدرتی وسائل جو کہ بہت صدیوں سے مخفی پڑے ہوئے تھے ، انسان نے ان کو دریافت کیا اور ان کا کثرت سے استعمال کرنے لگا ۔ صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے دریغ استعمال آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ گلیشئر کا خاتمہ، سمندروں میں تبدیلی اور سطح آب میں ردو بدل بڑے خطرات ہیں۔

سائنس دان تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ زمین میں جہاں جہاں درجہ حرارت بڑھتا جائے گا ، وہاں آبادی میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ انڈیا اور بنگلہ دیش اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آبادی کی وسیع پیمانے پر نقل مکانی، پانی پر جنگیں، اشیائے خورونوش کی قلت، گرمی، خشکی، قحط سالی، چرند پرند کی اموات جیسے مسائل زہریلے ناگ کی طرح پھن اٹھائے ہمارا منہ چڑا رہے ہیں۔ آئیں ہم سب انسان اشرف المخلوقات ہونے کے ناتے عہد کرتے ہیں کہ ہم فطرت پر رحم کریں گے اور اس کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).