عدم تشدد کا پرچارک باچا خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری دنیا میں ہر سو تشدد نظر آتا ہے اور اس سارے تناظر میں ہمارے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں کہ بدسلوکی اور نا انصافی کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا تشدد پر اتر آئیں لیکن ایک تیسرا راستہ ہے جو امن، ہم آہنگی اور انسانی وقار کی بحالی کا ہے۔ یہ راستہ عدم تشدد کا ہے کیونکہ عدم تشدد ایک تخلیقی، منظم، مثبت و متحرک قوت ہے جو سماجی یا سیاسی تبدیلی کے متلاشی لوگوں کے لئے ایک حقیقی انقلابی طریق ہے۔

عدم تشدد کا یہی سبق ہمیں باچا خان کے ہاں ملتا ہے۔ باچا خان کی زندگی کا ایک اہم پہلو پختون معاشرے میں عدم تشدد کے پیغام کو فروغ دینا ہے جس میں تعلیم کا پھیلاؤ، سماجی برائیوں کی نشاندہی اور تنازعات کا پرامن حل ہے، جو کہ بیش تر اوقات نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ دیو قامت جثے لیکن نرم دل کے مالک عبدالغفار خان 1890 ء میں ضلع پشاور کے گاؤں اتمن زئی میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں پیش آنے والے دو تجربات نے ان کو اپنا راستہ چننے میں مدد فراہم کی۔

پہلا، اگرچہ اس وقت پختون معاشرہ انتقام کے چکر میں پھنسا ہوا تھا جس کی وجہ سے خاندانوں کی آپس میں دشمنی برسوں چلتی تھی لیکن ان کے والد نے ایک مشکل راستہ چنا اور ان سب کو معاف کر دیا جنہوں نے ان کے ساتھ کچھ غلط کیا تھا۔ دوسرا، خان کو سکول میں بھی پڑھنے کا موقع ملا، جس تک بہت سے پختونوں کی رسائی نہیں تھی۔ انہوں نے معاشرے میں بغور دیکھا کہ پختون تعلیم و آگہی کے بغیر اپنی زندگی گزار رہے اور خود کو تشدد و دہشت کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے معاشرے میں تبدیلی لانے کی سوچ کے تحت 20 سال کی عمر میں اپنے گاؤں میں سکول کھول کر کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے گاؤں میں سکول کھولا بلکہ دوسرے علاقوں میں جا کر وہاں کے لوگوں کو بھی سکول کھولنے کی ترغیب بھی دی۔

انگریز کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جیل جانا پڑا لیکن جیل جا کر انہوں نے عدم تشدد و مزاحمت پر مزید غور و فکر کیا۔ جیل سے واپسی پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے گاؤں واپس جا کر عدم تشدد کا راستہ اختیار کریں گے اور تعلیم اور معاشرتی اصلاحات کے لئے مدارس کا قیام عمل میں لائیں گے۔ اس سماجی اور تعلیمی کام کے لئے انجمن اصلاح افغانیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ انجمن نے اپنے کارکنان کو گروہوں کی شکل میں مختلف گاؤں میں بھیجا تاکہ وہ تعلیم کی اہمیت، عدم تشدد کے پرچار اور کمیونٹی کی ترقی کے کام کے لیے لوگوں کو متحرک کریں۔

اس تحریک نے نہ صرف لوگوں کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کروایا بلکہ ان کے سیاسی شعور کو بھی اجاگر کیا۔ سیاسی شعور کی بڑھوتری انگریز حکومت کے لیے ناپسندیدگی کا باعث ٹھہری جس کے باعث خان کو ایک بار پھر جیل جانا پڑا۔ دوران جیل انہیں برصغیر پاک و ہند میں آزادی کے حوالے سے جاری دوسری تحاریک سے آشنائی کا موقع بھی ملا۔ ان تحاریک میں عدم تشدد کے استعمال نے انہیں عدم تشدد پر ڈٹے رہنے کے لئے مزید تقویت دی۔

جیل سے واپسی پر مشہور زمانہ خدائی خدمتگار تحریک کا آغاز ہوا، اس کا نعرہ تھا:
ہم خدا کی فوج ہیں
ہم خدمت اور محبت کرتے ہیں،
اپنے لوگوں اور اپنے مقصد سے،
آزادی ہمارا مقصد ہے،
ہم اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں

خدائی خدمت گار تحریک ایک فوج کی طرح ہی کام کرتی تھی، ان کے ہاں بھی پلٹن اور کمانڈر تھے اور اسی طرح کا فوجی نظم و ضبط تھا۔ خدائی خدمت گار تحریک صرف آزادی کی جدوجہد کرنے والی ایک تحریک نہیں رہ گئی تھی بلکہ اس نے اپنے آپ کو اس طرح منظم کیا کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے۔ اس کے کارکنان کی تربیت میں ذہنی تربیت و نظم، روزانہ کی مشق، روحانی عمل اور تخلیقی ریاضتیں شامل تھی۔ اس تحریک میں ہر کارکن کی ذاتی آگاہی اور صداقت بہت اہمیت کی حامل تھیں۔

کسی بھی شخص کو کارکن بنتے ہوئے ایک حلف لینا ہوتا تھا جس کی بنیادی باتوں میں خدمت، ذاتی قربانی اور عدم تشدد شامل تھے۔ اس تحریک میں عدم تشدد کا سپاہی ہوتے ہوئے کارکن کے لیے سب سے پہلے خدا سے عہد، پھر سماجی ذمہ داری لیتے ہوئے سماجی اصلاحات کے لیے جدوجہد کا وعدہ اور آخر میں عدم تشدد و معافی کا عہد کرنا ضروری تھا۔

باچا خان کی عدم تشدد کی تحریک آج کی تقسیم شدہ قوم کے لیے اہم سبق دیتی ہے کہ انتقام کی آگ اور عمل اور ردعمل کا چکر بالآخر موت کی طرف لے جاتا ہے، ترقی کی جانب نہیں۔ ہمیں اپنے معاشرے میں معافی اور ہم آہنگی کے پیغام کی ضرورت ہے لیکن معاشرے کی ترقی اور غیر مساوی نظاموں کو ختم کیے بغیر پرامن بقائے باہمی ممکن نہیں۔ خدائی خدمت گار تحریک کی طرح ہمیں بھی اپنے معاشرے میں تعلیم و آگہی کو عام کرنا ہو گا۔ معاشرے میں عدم تشدد کے فروغ کے ساتھ ذاتی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سارے نظاموں کو بدلنے کی کوشش کرنی ہو گی جو معاشرے میں تقسیم و ظلم کو فروغ دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •