'وہ فون کال جس نے مجھے آزادی دلائی مگر میری ماں کا دل توڑا‘

کویتا پوری - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Farah on a visit to London from Liverpool
Farah Sayeed
سنہ 1990 میں دوسری نسل کے بہت سے ایشیائی برطانوی باشندے اپنے والدین کی نسبت مختلف اقدار کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں اور اب وہ اپنا علیحدہ رستہ اختیار کر رہے ہیں۔

فرح سید کے لیے اس کا مطلب ایک تکلیف دہ فون کال کی صورت میں نکلا، جس نے ان کی ماں رونی کا دل توڑ دیا۔

سنہ 1988 میں فرح سید نے لندن میں اپنے خاندانی کو گھر کو چھوڑ کر بائیولوجی اور سائیکالوجی کی تعلیم حاصل کرنے لیورپول چلی گئیں۔ مگر یہ محض صرف وہ لیکچرز ہی نہیں تھے جس کے لیے وہ وہاں گئی تھیں۔

ان کے مطابق یونیورسٹی ان کے لیے ایک آزادی کا ٹکٹ ثابت ہوئی، جس سے میرے علاوہ بظاہر ہر کوئی خوش دکھائی دیتا تھا۔

فرح کے والدین بنگالی مسلمان ہیں، جو برطانیہ میں سنہ 1960 کی دہائی کے آخر میں آئے۔ فرح کی بہت خوشیوں بھری پرورش ہوئی مگر پھر بھی بعض دفعہ وہ گھٹن محسوس کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈرائیونگ کی مخالفت کا سامنا کرنے والی ایشیائی خواتین

طہارت:’بات پیچھے کی ہو تو مغرب والے بہت پیچھے ہیں‘

برطانیہ کے علاقے میں ایشیائی نژاد خواتین سیاستداں منتخب کیوں نہیں ہوتیں؟

ان کے والدین بنگالی والدین کی نسبت بہت آزاد خیال تھے۔ مگر ان کے مطابق وہ اپنے والدین کا موازنہ بنگالی والدین سے نہیں بلکہ اپنے برطانوی دوستوں کے والدین سے کرتی تھیں۔

ان کی ماں رونی سید اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ وہ ایک بے چین اور جذباتی ماں کی طرح تھیں کیونکہ وہ بڑی کم عمری میں اپنی ماں کی ممتا سے محروم ہو گئی تھیں۔

تاہم انھیں اس معاملے میں کبھی مداخلت نہیں کی کہ ان کی بیٹی فرح تعلیم کے لیے کہاں کا رخ کر رہی ہے۔

فرح سید

Farah Sayeed
فرح سید ایک فیسٹیول میں

فرح کو گھر سے دور رہنا پسند آیا اور انھیں اپنے والدین کی امیدوں کے بوجھ سے بھی جیسے چھٹکارا مل چکا تھا۔

مگر جیسے جیسے یونیورسٹی میں ان کا تعلیم کا سلسلہ ختم ہونے کے قریب تھا تو اب انھیں یہ ڈر تھا کہ اگر وہ گھر گئیں تو ان کے والدین پھر سے ان کے ساتھ بچوں جیسا ہی سلوک کریں گے۔ فرح کو یہ ڈر بھی تھا کہ ان کے والدین انھیں ان کی مرضی کے بغیر شادی کرنے پر بھی مجبور کریں گے۔

یہ سوچ کر اس نے شہر میں ایک کمرے والا فلیٹ اپنی رہائش کے لیے پسند کر لیا اور ایک بار ایک خواتین کی پناہ گاہ میں اپنے لیے ملازمتیں بھی تلاش کر لیں۔ پھر فرح نے ہمت کر کے اپنی والدہ کو یہ فون کیا کہ وہ اب دوبارہ لندن واپس نہیں آ رہی ہیں۔

رونی یہ سن کر شدید صدمے میں چلی گئیں کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو کھری کھری سنا دیں۔ ماں بیٹی کے درمیان بات چیت بمشکل چند منٹ ہی ہو سکی۔

فرح کو یہ وضاحت دینے کا موقع ہی نہیں مل سکا کہ وہ یہ بتا سکے کہ وہ وہاں کیوں رہنا چاہتی تھیں اور اس نے بھی باغیانہ انداز میں جوابات دیے۔ ان کے خیال میں ’میرے لیے یہی ٹھیک ہے۔‘

’انھوں نے مجھے چھوڑ دیا، انھوں نے مجھے اپنی زندگی سے نکال دیا۔ میں نے کوئی غلط نہیں کیا تھا۔ ‘

اس فون کال نے رونی کا جیسے دل ہی توڑ دیا تھا۔ وہ اپنے گھر سے بھاگتی ہوئی اپنی ایک برطانوی دوست کے گھر گئیں کیونکہ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ اس بات کو ان کے بنگالی دوست نہیں سمجھ سکیں گے۔

رونی نے جو سنا تھا وہ اسے سمجھنا چاہتی تھیں۔ لہٰذا ان دونوں نے کار پر کینٹ کے علاقے میں واقع ایک ساحل (بوٹونی بے) کا رخ کیا۔ رونی پورے رستے میں کار میں چلاتی رہیں۔

ساڑھی میں ملبوس رونی کے اب بھی آنسو بہہ رہے ہیں۔ وہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھیں اور سمندر کی جانب دیکھنا شروع کر دیا۔ مگر پانی کو دیکھ کر بھی ان کے دکھ کا مداوا نہ ہوا بلکہ اس سے انھیں اور بھی تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔

اس نے انھیں ڈھاکہ کا بریگنگا دریا کی یاد دلا دی جہاں ان کی پرورش ہوئی تھی۔ جہاں وہ تیرتی تھیں اور کھیلتی تھیں اور یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ بہت خوش تھیں۔ اب بس انھیں کچھ کھو جانے کا صدمہ ہی محسوس ہو رہا تھا۔ یہ نہ صرف ان کی بیٹی کے لیے بلکہ اپنے ملک کے کھو جانے کا بھی صدمہ تھا۔

Runi and Farah

BBC
رونی سید اپنی بیٹی فرح سید کے ساتھ

اس فون کال کے بعد ماں اور بیٹی میں نو ماہ تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

اس عرصے میں فرح کی ملاقات ایک ایسے گروپ سے ہوئی جس نے ان کی زندگی تبدیل کر دی۔

ایک رات ایک دوست بار میں آیا جہاں فرح کام کرتی تھیں اور اس نے کہا کہ وہ ’ایشین رائٹرز کولیکٹو‘ پر کام کرنے جا رہے ہیں۔ اس نے فرح سے کہا وہ بھی اس میں شامل ہو جائیں۔

کچھ دن بعد فرح ٹاکس ٹتھ لائبریری گئیں اور وہاں انھوں نے ایک ایشیائی نژاد برطانوی افراد کا گروپ دیکھا جو ایک میز کے گرد بیٹھے تھے۔ فرح کے مطابق یہ ان کے لیے ایک انکشاف تھا۔

ان کے پاس ایسی بہت ساری باتیں تھیں جو وہ ایک دوسرے سے شیئر کر رہے تھے کہ ایشیائی والدین کی دوسری نسل کے طور پر برطانیہ میں پرورش کا تجربہ کیسا ہے اور اس کے بعد پھر یونیورسٹی جانا، جہاں سفید فام دوستوں کی اکثریت آپ کے اردگرد ہوتی ہے۔

’ایشین رائٹرز کولیکٹو‘ فرح کے لیے ایک ایسی جگہ بن گئی جہاں وہ دیانتداری سے اپنی زندگی کے نشیب و فراز پر بات کر سکتی تھیں۔

وہ نسلی امتیاز پرستی پر بات کر سکتی تھیں جس کا انھیں برطانیہ میں رہتے ہوئے تجربہ ہوا اور اپنے ہم خیال لوگوں سے کھل کر بات کر سکتی تھیں جو انھوں نے پہلے کبھی کسی سے نہیں کی۔ ان کے والدین کی ابتدا بنگلہ دیش سے ہوئی لہٰذا فرح کے خیال میں وہ ان کی طرح کی نہیں ہیں۔۔۔ مگر وہ خود کو اپنے برطانوی دوستوں سے بھی بہت مختلف پاتی ہیں۔

فرح یہ تسلیم کرتی ہیں کہ اس گروپ میں شامل ہونے کے وقت انھیں کچھ کھو جانے کا احساس تھا۔۔ اگرچہ وہ نو مین لینڈ پر زندگی بسر کر رہی ہیں۔۔ جو بات اسے تنہائی کا احساس دلا سکتی ہے۔

یہ گروپ بہت جلد ان کا ایک متبادل خاندان بن گیا۔

poster for Asian Writers Collective

BBC

خاموشی کے نو ماہ کے بعد فرح اور رونی نے ایک دوسرے سے کبھی کبھار بات چیت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مگر رونی سید اب بھی فرح سے اپنی شرائط منوانا چاہتی تھیں۔

ان کی ہمیشہ سے یہ امید تھی کہ فرح یونیورسٹی سے گھر آئیں گی اور ان کی زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔ ان کا کہنا کہ انھیں اب بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ اس دکھ میں جیسے رو رہی ہیں اور بہت جذباتی بھی ہیں۔ اب 30 سال کے بعد ان کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

فرح کے ساتھ پہلی فون کال سے رونی سید یہ سمجھ چکی تھیں کہ ان کے برطانیہ میں پرورش پانے والے بچوں کی سوچ ان سے مختلف ہے۔

رونی سید کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کی دنیا سے متعلق سوچ اور اور میری سوچ میں بہت شدید تصادم تھا، جس پر قابو پانا میرے لیے بہت مشکل تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انھوں نے میری سوچ کو مسترد کر دیا ہے۔ اور یہ وہ بات تھی جو انھوں نے اپنے خاندان کو یہاں لاتے وقت نہیں سوچی تھی۔

Farah as a baby

Runi Sayeed
فرح سید

رونی سید برطانیہ نئی نویلی دلہن کے طور پر اپنے خاوند محمد کے ساتھ سنہ 1968 میں آئی تھیں۔ جو بیرسٹر بننے کی تربیت حاصل کر رہا تھا۔ رونی کی شادی سے قبل اپنے خاوند سے پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

ان کی شادی فون پر ہی طے ہوئی جب محمد لندن میں تھے اور رونی ڈھاکہ میں رہ رہی تھیں۔

اس کے بعد دونوں میں خطوط کا تبادلہ ہوا، جس میں انھوں نے ایک دوسرے کے لیے محبت کا اظہار کیا۔ جب رونی ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچیں اور ان کے خاوند انھیں وہاں سے لینے کے لیے آئے تو انھیں اس بات کا کوئی انداز نہیں تھا وہ کون سے والے ہیں۔

Farah with her parents and siblings in Paris

Farah Sayeed
سنہ 1992 میں رونی اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ پیرس میں

ڈھاکہ سے باہر گریجوایشن تک تعلیم حاصل کرنے والی رونی ایک کنڈر گارڈن سکول میں ہیڈ ٹیچر تھیں۔ مگر لندن میں انھوں نے معمولی ملازمت بھی کرنا شروع کر دی کیونکہ وہاں ان کے پاس کرنے کو یہی تھا۔

وہ پہلے ٹیچر بنیں اور پھر بعد میں ان کی تربیت ایک ماہر نفسیات کے طور پر ہوئی۔ انھوں نے تین بچوں کی تربیت کی جو کہ بہت مشکل کام ہے۔ بنگلہ دیش سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب آپ اپنے معاشرے میں اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں تو آپ کو اپنے اردگرد ایک حصار نظر آتا ہے جو آپ کے خاندان، آپ کے دوستوں اور آپ کے معاشرے کا ہوتا ہے۔

مگر برطانیہ میں وہ اور ان کے خاوند تن تنہا یہ سب کر رہے تھے۔

ان کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ اگر ایسے ماحول میں کہیں ان کے بچے آوارہ ہو گئے تو پھر اس میں ان کا قصور ہو گا۔ اور پھر نسلی امتیاز پرستی کا انھیں باقاعدگی سے سامنا کرنا پڑتا تھا۔

رونی سید کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ اور کوئی بات نہیں تھی کہ اس کی سب بڑی بیٹی نے انھیں بتایا کہ کہ وہ اب گھر سے باہر ہی رہیں گی۔ رونی نے اسے اپنی بلوغت کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ قرار دیا۔

والدین اور بچوں میں ہمیشہ سے اختلافات ہوتے ہیں۔ مگر پہلی نسل کے مہاجرین کے لیے جن کے بچے ایک ایسے ملک میں پروش پائیں جہاں ان کے والدین انھیں خود لے کر آئیں تو پھر ایسے اختلاف بہت تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں۔

Farah and her daughter

Farah Sayeed
فرح اور ان کی بیٹی

فرح اب 50 سال سے زائد کی عمر کی ہیں اور وہ لندن میں اپنے والدین کے قرب میں رہتی ہیں۔ وہ ایک سماجی کارکن ہیں اور ان کے اپنے تین بچے ہیں۔ ان کے مطابق انھوں نے خود اپنی ماں سے آزادی حاصل کی تھی، جن کی وہ خود تعریف کرتی ہیں اور تکریم کرتی ہیں۔

کئی سالوں سے ماں بیٹی نے اپنی پہلی تکلیف دہ فون کال پر بات نہیں کی ہے۔ اس کے بعد سے دونوں نے ہی اپنے خیالات میں تبدیلیاں لائی ہیں۔

فرح کے لیے گھر واپس نہ جانے کا فیصلہ ان کے گزر بسر کے لیے ضروری تھا۔ مگر اب انھیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ اس فیصلے ان کے والدین کس قدر نالاں اور تکلیف میں تھے۔

اب رونی اور ان کے خاوند اس بات پر پریشان نہیں ہیں کہ فرح اپنی زندگی سے متعلق خود فیصلے کرتی ہے۔ ان کے مطابق اب مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ زندگی مختلف ہوتی ہے جب آپ کسی دوسرے ملک میں رہ رہے ہوں۔

رونی اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ وہ فرح کی شادی کی اس کی مرضی کے بغیر کرنے جا رہے تھے۔ تاہم ان کے مطابق وہ اور ان کے خاوند اس بات پر پریشان تھے کہ فرح شاید کبھی شادی نہ کرے۔

سنہ 1997 میں فرح نے ایشین رائٹرز کولیکٹو سے کسی کو اپنے ساتھ گھر لے آئیں جو ان کے مستقبل کا شریک حیات تھا۔ وہ ایک پاکستان نژاد برطانوی مسلمان تھا۔

فرح کے مطابق یہ بات ان کے والدین کی خوشی کا باعث بنی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ایک بنگالی نہیں تھا۔

Farah with her husband and sister

Farah Sayeed
فرح اپنے خاوند اور بہنوں کے ساتھ

ایک دوسرے کو تسلیم کرنے اور نسلی اقلیت میں برابری کی جنگ تو ہو سکتا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں لکھی جائے گی۔ مگر یہ چھوٹی کاوشیں ایک کہانی کا حصہ ضرور ہوتی ہیں۔

فرح اور رونی کے درمیان یہ مکالمہ ہمیں پہلی اور دوسری نسل کی سوچ اور اپنے ملک سے دور ایک اور ملک میں آگے بڑھنے کی جدوجہد کے زاویوں کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔

رونی یہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے اپنی ثقافت سے جڑے رہیں اور اب وہ فرح کے بچوں سمیت اپنے دوسرے نواسوں کو بنگالی پڑھاتی ہیں۔

انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ ان لوگوں کے لیے جو ایک نئے ملک آ رہے ہیں پہلی بات ان کی زبان کا ضیاع ہے۔ پھر آپ اپنے روایتی کپڑوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور آخری چیز اپنی دیسی خوراک سے دوری ہوتی ہے۔

لاک ڈاؤن سے قبل ہر اتوار کو بچوں کو یہ سبق پڑھایا جاتا تھا اور اس کے بعد تین نسلیں ایک ساتھ ایک خاندان کی طرح کھانا کھاتی تھیں۔

Runi Sayeed wants her children and grandchildren to hang on to their culture

Ant Adeane
رونی سید چاہتی ہیں کہ ان کے بچے اور نواسے اور پوتے اپنی ثقافت سے جڑے رہیں

ایسی نسلوں کے لیے جو یہاں آتی ہیں، ان کے لیے ایک کچھاؤ ہوتا، ایک نئی سر زمین کے ساتھ ایک تعلق جڑتا ہے، جو پھر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

رونی نے برطانیہ آنے کے فیصلے پر کبھی پیشمانی کا اظہار نہیں کیا۔ مگر جو جگہ وہ چھوڑ کر یہاں آئی ہیں اس کے لیے ان کے دل میں ایک یاد ہے۔ یہ ایک احساس ہوتا ہے، جو کسی بھی وقت ظاہر ہو جاتا ہے۔

جس دن ہماری ملاقات ہوئی ہے اس دن تیاری کے دوران رونی نے ایک بنگالی کا گانا سنا جس نے اسے بنگلہ دیش میں اپنے بچپن کی یاد دلا دی۔ ان کے مطابق اس گانے کی دھنوں نے مجھے جذباتی کر دیا۔

پہلی نسل نے اپنے آپ کو ’نو مین لینڈ‘ پر پایا۔ ان تاریخ، ثقافت اور جڑیں اب بھی اپنے آبائی وطن سے ہی جڑی ہیں۔ اگرچہ وہ یہاں اب ایک طویل عرصے سے رہ رہے ہیں۔

فرح نے اپنی زندگی سے متعلق جو فیصلے کیے ہیں وہ ابتدا میں آنے والی نسلوں کے لیے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ یہ ان کے بچوں کے لیے اب ایک قدم آگے کا سفر ہے۔

رونی نے 24 برس کی عمر میں ڈھاکہ چھوڑا تھا۔ وہ برطانیہ میں 53 سال سے رہ رہی ہیں۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی یہ نہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ کی ہی ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان کے مطابق ’میں یہاں اپنے بجائے اپنے بچوں، نواسوں اور پوتوں کے لیے ٹھہری ہوئی ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17829 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp