دعائیں پھونکتے رہے، دھوئیں میں ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سیاست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ منافقت پر مکمل یقین رکھتے ہوں۔ سیاست کرنے کے لئے جمہوریت بہترین راستہ ہے۔ ہمارے دیس میں اس وقت پر سیاست عروج پر ہے اور اپنی اپنی سیاست کو مقبول بنانے کے لئے جمہور کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ یہ المیہ صرف ہمارے وطن کا نہیں ہے، بھارت میں بھی یہ ناٹک بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ مجھے اردو کے اچھے شاعر جن کی جنم بھومی پاکستان میں ہے لیکن وہ کہلاتے بھارتی ہیں، جناب گلزار کی ایک نظم یاد آ رہی ہے :

پرچیاں بٹ رہی ہیں گلیوں میں
اپنے قاتل کا انتخاب کرو
وقت یہ سخت ہے چناؤ کا!

بھارت، جو دنیا بھر میں اپنی شناخت جمہوریت سے کراتا ہے، وہاں پر بھی جمہور خوار ہیں اور سیاست اور منافقت عروج پر ہے مگر وہاں کے سیاسی دانش ور ملکی آزادی کے سوال پر نہ منافقت کرتے ہیں اور نہ ہی سیاست۔ ہمارے ہاں آج کل سیاست کی دال جوتوں میں بٹ رہی ہے اور وہ لوگ سیاست میں نمایاں ہیں جن کو عوام نے اور انصاف نے بے وقعت کر دیا ہے مگر کوئی تو ہے جو ان کو مرنے یا مروانے کے لئے تیار کر رہا ہے۔

اس سیاست کا شاخسانہ حالیہ امریکی انتخابات میں کھل کر سامنے آیا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کوچۂ وہائٹ ہاؤس سے بڑے بے ابرو ہو کر نکلے۔ ان کی منافقت ساری دنیا نے دیکھی اور ان کی سیاست ہی ان کی ہار کی وجہ بنی۔ ٹرمپ نے دنیائے سیاست اور منافقت کے دو عالمی ملکوں پر تکیہ کیا۔ ایک اہم ملک اسرائیل نے ان کو خوب استعمال بھی کیا اور اپنی حیثیت بھی منوا لی اور عربوں کے ساتھ سودے بازی کر کے وقتی طور پر خود کو محفوظ بھی کر لیا مگر اس کے اپنے ہاں جو ملکی سیاست ہو رہی ہے، وہی اس کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو اسرائیلی وزیراعظم نے بھارت اور امریکہ کو خوب استعمال کیا مگر امریکی انتخابات میں وہ اپنا بھرم بھی نہ رکھ سکا اور نئے امریکی صدر سے اکھیاں ملانے میں بہت ہی سبکی محسوس کر رہا ہے اور کچھ ایسا ہی حال ہمارے ہمسائے بھارت کا ہے۔ مودی سابق امریکی صدر ٹرمپ میاں کا بہت پیارا تھا مگر بھارتی امریکی بھی ٹرمپ کو پہچان گئے تھے اور انہوں نے بھی ٹرمپ کو ہرانے میں بہت کردار ادا کیا۔

حالیہ امریکی انتخابات کے بعد امریکہ بہادر کو ایک موقع ملا ہے کہ دنیا کی غلط فہمیوں کو اپنے تدبر سے دور کر سکے مگر اس کا حالیہ کردار اب کمزور ہوتا جا رہا ہے اور دنیا پر نظر رکھنے کے لئے دوسرے فریق میدان میں نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ اپنے زوال کو کچھ عرصہ کے لئے ٹال تو سکتا ہے، اس کا عروج کا سورج اب غروب ہونے جا رہا ہے جس کا اسے اندازہ بھی ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد امریکی صدر کا واحد کام، امریکی عوام کو ملکی سیاست سے بچانا اور انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ سیاست اور جمہوریت سے عوام کی خدمت اور اچھے طریقہ سے کی جا سکتی ہے۔ سابق امریکی صدر نے امریکی افواج کے ساتھ بھی ہاتھ کرنے کی کوشش کی اور اس زمانہ کے کچھ اعلیٰ امریکی عہدہ دار اور بہترین دماغ سابق صدر کے ہمنوا بن گئے تھے۔ اسی وجہ سے اسرائیل کو اپنے منصوبوں پر کامیابی ملی مگر بھارت اس معاملہ میں بدنصیب رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی سرکار میں تبدیلی کے بعد بھارت اسرائیل اور پاکستان میں حالات کس طرف جاتے ہیں؟ پاکستان ایک عرصہ سے امریکی آسیب سے پریشان ہے اور پاکستان کی سیاست امریکی ریاست کی وجہ سے کافی زیادہ خراب ہوئی ہے۔

اس وقت پاکستان کی سیاست میں غیرملکی ہاتھ بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارے مہربان دوست ہماری سیاست میں ان لوگوں کی رہنمائی کر رہے ہیں جن کی وجہ سے عوام کو سکھ کا چین بھی نصیب نہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی حکومت انتخابات کے بعد ہی برسر اقتدار آتی ہے۔ ہم موجودہ سرکار کو اسمبلی میں آزما چکے ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو صرف دیوار سے لگا دیا جائے مگر عمران کی قسمت اچھی ہے اور ایمان داری کی بات ہے اس میں اس خاتون خانہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو کپتان کی پشت پر ہے۔ پہلے تو عمران کی پشت پر اس کی والدہ تھیں اور اس نے والدہ کی محبت کی وجہ سے کینسر کے عظیم الشان اسپتال بنائے۔ جو ہمارے جیسے پسماندہ ملک کے لئے حیران کن عطیہ ہے اور اب کپتان ملکی بدانتظامی اور بدقماشی کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کی پشت پر اس کی روحانی بیوی ہے جو اس کی رہنمائی بھی کر رہی ہے مگر دشمن مرنے اور مارنے پر تلا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے ملک کے ادارے کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ وہ قانون کا سہارا لیتے ہیں یا انصاف پر یقین رکھتے ہیں؟ میری عمران خان سے ہمدردی نہیں ہے مگر مجھے پاکستان کے عوام کی قسمت پر شک ہے۔ عوام کی قسمت ان کے کردار کی وجہ سے خراب ہے۔ جب قسمت ہی خراب ہو تو کوئی کیا کرے۔ عمران خان کے لئے صرف یہ شعر ہے :

بچا کے رکھنا تم اپنی خودی کے چہرے کو
گنے نہ جاؤ کہیں تم بھی کھوٹے سکوں میں

کچھ معاملات میں ملک پاکستان کی قسمت اچھی بھی ہے اور اس میں اہم بات ہماری علاقائی حیثیت ہے اور چین ہمارا ہمسایہ ہے۔ اس وقت عالمی معیشت میں چین کی حیثیت نمایاں ہے اور آنے والے دنوں میں چین عالمی طاقت ہوگا اور امریکہ کو اس بات کا اندازہ ہے۔ بھارت کو اندازہ ہے کہ چین کے ساتھ بنا کر ہی اس کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان سپریم کورٹ ہی وہ واحد ادارہ ہے جو اس حیثیت کا حامل ہے کہ ملکی اہم معاملات پر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ یہ کردار کب ادا کرتا ہے، اس کا انتظار ہے۔ کیونکہ عوام کو اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں اور نہ ہی ان کو بھی وہ تو بے چارے نظام کے قیدی ہیں۔

کئی پنجروں کا قیدی ہوں
کئی پنجروں میں بستا ہوں
مجھے بھاتا ہے قید کاٹنا
اور اپنی مرضی سے چناؤ کرتے رہنا
اپنے پنجروں کا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •