شاہ محمود قریشی: نامعلوم خارجہ پالیسی اور بحر سے خارج بیانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شیریں گفتار تو ہیں ہی لیکن ملتان جا کر ان کے لہجے کی مٹھاس میں گدی نشینی کا فطری جلال عود کر آتا ہے اور انداز گفتگو میں تمکنت دکھائی دینے لگتی ہے۔ انہوں نے آج ملتان میں پریس کانفرنس تو بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا ’خیر مقدم‘ کرنے اور اسے پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھرنے کا نقطہ آغاز بتانے کے لئے منعقد کی تھی۔ لیکن ہوشیار وزیر خارجہ کے طور پر نئے امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی متنبہ کردیا کہ اب ان کا پالا نئے پاکستان سے پڑے گا۔ امریکہ ہوشیا ر رہے۔

شاہ محمود قریشی کی باتیں سن کر کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ واقعی پاکستانی حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی بھی ہے۔ البتہ تحریک انصاف اور عمران خان کو یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ انہوں نے شاہ محمود قریشی جیسا دبنگ وزیر خارجہ مقرر کیا ہؤا ہے جو نہ کسی ناکامی پر شرمندہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس درپیش مسائل کا کوئی جواب ہے لیکن میڈیا کاسامنا کرتے ہوئے امور خارجہ ہی نہیں بلکہ سیاسی، پارلیمانی، معاشی یعنی ہمہ قسم مسائل پر سیر حاصل گفتگو میں ملکہ رکھتے ہیں۔ اسی بے پایاں صلاحیت کا مظاہرہ انہوں نے آج ملتان میں کیا ہے۔ گندم و چینی کی فراہمی میں ناکامی کے مسئلہ پر روشنی ڈالی، مہنگائی کو سب سے اہم مسئلہ بتایا اور لگے ہاتھوں ملتان کی دکانوں پر جاکر آٹے کی قیمتیں ہی نہیں بلکہ اس کی کوالٹی کا سراغ بھی لگا لیا اور اخبار نویسوں کےسامنے مارکیٹ میں اعلیٰ معیار کا سستا آٹا وافر مقدار میں فراہم ہونے کی عینی شہادت بھی پیش کردی۔

پریس کانفرنس کا مقصد گو کہ یہی ٹھہرا کہ بلاول بھٹو کے اس بیان کا ’خیر مقدم ‘ کیا جائے کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کرنے اور جلسے جلوسوں کی بجائے قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لانا چاہتے ہیں۔ بلاول کے اس انٹرویو یا تجویز سے شاہ محمود قریشی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان جمہوری تحریک ’جعلی اور بے بنیاد‘ ہے اور اب اس کا شیرازہ بکھرنے لگا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو ایک مخلص بزرگ کی طرح سمجھایا کہ اب وہ بالک ہٹ چھوڑیں اور عمران خان کو نامزد وزیر اعظم کہنے کی بجائے اصلی و آئینی وزیر اعظم مان لیں۔ اور تسلیم کرلیں کہ عمران خان 22 کروڑ پاکستانیوں کے ساتھ بلاول کے بھی وزیر اعظم ہیں۔ کیوں کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک تو اسی وقت لا سکتے ہیں جب عمران خان کو اصلی والا وزیر اعظم مانیں گے۔ شاہ محمود نے واضح کیا کہ عدم اعتماد کی بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری درحقیقت عمران خان کو منتخب وزیر اعظم تسلیم کررہے ہیں۔

اس ضمن میں شاہ محمود قریشی کی یادداشت نے شاید ان کا ساتھ نہیں دیا۔ کیوں کہ گزشتہ سال کے شروع میں جب کورونا پھیل رہا تھا اور سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی تن تنہا پوری تندہی سے اس وبا کا سامنا کرنے کے لئے اقدامات کررہے تھے تو بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی حکومت سے تعاون کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے عمران خان سے کہا تھا کہ وہ انہیں ’اپنا وزیر اعظم مانتے ہیں‘ لیکن انہیں بھی سندھ کے عوام کو پاکستان کے شہری تسلیم کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ منتخب یا نامزد کی بحث ختم کرنے کا اس سے اچھا موقع شاید عمران خان کو نہیں مل سکتا تھا۔ لیکن شاہ محمود قریشی اپنے وزیر اعظم کو یہ مشورہ نہیں دے سکے کہ اپوزیشن کو چاروں شانے چت کرنے کے لئے وہ بلاول کی بات مان لیں اور ملک کی سیاسی تاریخ میں مخالف سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں کے درمیان تعاون کی نئی تاریخ رقم کریں۔

اب یہ حقیقت تاریخ کا حصہ ہے کہ عمران خان نے نہ صرف بلاول بھٹو زرداری کی باتوں کو قابل اعتنا نہیں سمجھا بلکہ اپنے ہمہ قسم اختیار اور سیاسی بیان بازی کی تمام صلاحیتوں کو کورونا سے بچاؤ کے لئے لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کی پابندیوں کو مسترد کرنے پر صرف کیا۔ عمران خان نے سندھ حکومت کے اقدامات کو ’غریب دشمن ‘ قرار دیا حالانکہ وہ ماہرین کے مشوروں اور دنیا بھر کی حکومتوں کے فیصلوں کے عین مطابق تھے۔ عمران خان کو یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ مراد علی شاہ کورونا وائرس کے خلاف اپنی مستعدی اور مؤثر کارکردگی و قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے کہیں ان کی اپنی مقبولیت کا دھڑن تختہ نہ کردیں۔ جو وقت پاکستانی عوام کو ایک وبا سے بچانے کا تھا، اسے شاہ محمود قریشی کے محبوب لیڈر نے سیاسی مہم جوئی کے لئے استعمال کیا۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو سماجی میل جول میں کورونا کی تباہ کاری اس وقت یا د آئی جب پی ڈی ایم نے سرکاری مشوروں اور احکامات کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی جلسے کرنے اور ریلیاں نکالنے کا سلسلہ شروع کیا۔

پاکستان جمہوری تحریک 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ یہ کوئی ایک سیاسی جماعت نہیں ہے۔ اس میں شامل ہر جماعت کا اپنا سیاسی منشور ہے اور موجودہ سیاسی تعطل اور ایک غیر مؤثر حکومت ختم کرنے کے بارے میں حکمت عملی پر بھی اختلاف رائے موجود ہے۔ اسے صحت مند سیاسی کلچر کی علامت بھی کہا جاسکتا ہے۔ اتحاد میں سیاسی لیڈر اپنے نظریہ کے مطابق تجاویز یا رائے پیش کرتے ہیں۔ اور پھر مل بیٹھ کر اتفاق رائے سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرلیتے ہیں۔ ضمنی انتخاب اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے اور لانگ مارچ کی حتمی تاریخوں کے بارے میں یہی دیکھنے میں آیا ہے۔ اب اتحاد کی دو بڑی پارٹیوں نے عمران حکومت گرانے کے لئے بظاہر مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا خیال ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لانی چاہئے تاکہ اپوزیشن تحریک آئینی حدود میں رہے۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال ہے کہ سیاست میں غیر جمہوری عناصر کے اثر و رسوخ کے سبب اس عدم اعتماد کا حشر بھی سینیٹ چئیرمین صادق سنجرانی کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد تحریک جیسا ہوگا حالانکہ اپوزیشن کو سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے۔

پی ڈی ایم ضرور حکومت گراؤ مہم چلا رہی ہے اور جلسوں و ریلیوں کا نیا شیڈول بھی دیا گیا ہے لیکن اتحاد میں شامل کسی بھی جماعت نے کوئی غیر آئینی طریقہ اختیار کرنے کی بات نہیں کی۔ البتہ شاہ محمود قریشی اور ان کے ساتھی وزرا ضرور اپوزیشن کے ہر بیان اور اقدام میں کوئی نہ کوئی قانونی سقم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا ان کو یہ فکر لاحق ہے کہ کیا یہ اتحاد قائم بھی رہے گا۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک سے زائد وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے درجن بھر نمائیندے اپوزیشن اتحاد کے منتشر ہونے کی اطلاع دیتے ہیں۔ حالانکہ سیدھا سوال تو یہ ہے کہ اگر پی ڈی ایم جماعتیں باہمی اختلافات کی وجہ سے دست و گریبان ہیں تو حکومت اس پر ’پریشان‘ ہونے کی بجائے، ان مسائل پر توجہ دے جن کی وجہ سے حکومت کی صلاحیت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا اسکینڈل سامنے آتا ہے اور پھر بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

 تحریک انصاف کی حکومت نصف مدت پوری کرچکی لیکن اب تک وہ یہی چاہتی ہے کہ اس کی ناکامی کو سابقہ حکومتوں کی نااہلی سمجھا جائے۔ صاحب مان لیتے ہیں لیکن جب گھروں کا چولہا نہیں جلتا اور غریب کو آٹا خریدنے کے لئے روزگار نہیں ملتا تو اس کے پاس کون ذمہ دار، پر غور کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ تو سرکار کو ہی قصور وار سمجھتا ہے۔ اگر تحریک انصاف کو 2023 کے انتخاب میں عوام کا سامنا کرنا ہے تو اسے کرپشن کے راگ اور سابقہ حکومتوں کی ’قصیدہ گوئی‘ کے علاوہ کچھ اپنی تعریف بھی بیان کرنا پڑے گی۔

شاہ محمود قریشی چونکہ منجھے ہوئے گدی نشین سیاست دان ہیں، شاید اسی لئے انہوں نے اپنے منہ میاںمٹھو کی گردان ابھی سے شروع کردی ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے امریکہ کے نئے منتخب صدر کو چھوٹا سا مگر پر اثر پیغام بھیجا ہے کہ پاکستان تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ڈیموکریٹک پارٹی چار سال بعد اقتدار میں آئی ہے، اس دوران دنیا تبدیل ہوچکی ہے۔ اس خطے اور پاکستان میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔ اب آپ کو نئے پاکستان کے ساتھ معاملات کرنے ہوں گے۔ بھارت بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ کیا اب بھی آپ کو وہی پرانا چمکتا سیکولر بھارت دکھائی دیتا ہے؟ اب ایسا نہیں ہے۔ اب بھارت کے اندر سے آوازیں ابھر رہی ہیں کہ بھارت کا سیکولر چہرا تبدیل ہوچکا ہے۔ ہندو توا کی صورت میں بھارت کی نئی پہچان سامنے آئی ہے۔ آر ایس ایس نظریہ کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔ بھارت کی اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نئی امریکی حکومت کے ساتھ ان نئے حقائق کی روشنی میں نئی حکمت عملی کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتی ہے‘۔

یہ باتیں سہانی اور کسی حد تک حقیقی ہونے کے باوجود امریکہ جیسی سپر پاور کے لئے بے معنی ہوں گی۔ نئی حکومت کے نمائیندے متعدد بیانات میں بھارت کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کی بات کررہے ہیں۔ دوسری طرف سینیٹ میں توثیق کے لئے دیے گئے انٹر ویو میں نئے امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی حکومت کی بجائے پاکستانی فوج کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کہی تھی۔ پاکستان کو اگر واشنگٹن میں تبدیلی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان حائل خلیج کو کم کرنا ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی میں ترجیحات اور ان کی تکمیل کے لئے حکمت عملی کی تفصیلات طے کرنی چاہئیں۔ تاکہ وزیر خارجہ کو ملتان میں پریس کانفرنس کے ذریعے امریکی صدر کو حالات میں تبدیلی کا پیغام نہ بھیجنا پڑے۔

 شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب جیو اسٹریٹیجک کی بجائے جیو اکنامک ہوچکی ہے۔ چند روز پہلے وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بھی کہا تھا کہ اب پاکستان امریکی امداد کی بجائے امریکی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔ یہ باتیں اس وقت تک نصابی فقرے محسوس ہوں گی جب تک پاکستان کی ترجیحات عملی طور سے اس کی خارجہ پالیسی میں نمایاں نہ ہوں۔ پاکستان، امریکہ کو بھارت کے خلاف ’اکسانے‘ کی بجائے ایسے مشترکہ امور تلاش کرے جن کی بنیاد پر پاک امریکہ تعلقات میں بامقصد تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ فی الوقت یہ راستہ افغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی سے ہوکر گزرتا ہے۔ امریکہ طالبان کے ساتھ معاہدہ پر نظر ثانی کا عندیہ دے چکا ہے۔ پاکستان کو طے کرنا ہے کہ اس بدلی ہوئی تصویر میں اس کی پوزیشن کیا ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1769 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali