دوسری شادی اور ماہر نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسب معمول رات نو بجے ٹی وی آن کیا اور خبریں سننے بیٹھی۔
”ملتان میں ایک ماہر نفسیات نے اپنی بیٹی کو گولی مار کے قتل کر دیا اور خود کشی کر لی۔“

خبر سن کر جہاں بہت افسوس ہوا وہاں کافی حیرت سے دوچار بھی ہوئی۔ کافی دیر تک ذہن میں یہ سوال کلبلاتا رہا کہ ”ایک ماہر نفسیات“ نے ایسا عمل کیوں کیا۔

اب چونکہ خبر اتنی آسانی سے فراموش کرنے والی تھی نہیں، لہٰذا اس واقعے کے پیچھے کیا محرکات تھے، اس کی کھوج شروع کی، سوشل میڈیا اور ٹی وی پہ کئی مرتبہ ڈھونڈا کہ معلوم تو کروں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔

آج ’ہم سب‘ پر اس واقعے کی تفصیل پڑھنے کو مل گئی۔

تفصیل کچھ یوں تھی کہ ڈاکٹر صاحب دوسری شادی کو لے کر اپنی زوجہ محترمہ سے بحث کر رہے تھے جو ایک شدید جھگڑے کا روپ دھار گئی اور انہوں نے غصے میں آ کر اپنی بیوی پہ فائر کر دیا۔ اپنی ماں کو بچانے کے لئے ان کی اکلوتی بیٹی اپنی والدہ کے سامنے آ گئی اور گولی لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئی۔ بیوی کو مارنے کے لیے دوبارہ فائر کیا لیکن گولی میگزین میں پھنس گئی۔

ڈاکٹر صاحب اپنی بیٹی کی ہلاکت اپنے ہاتھوں سے ہو جانے سے اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔

واقعے کی تفصیل جاننے کے بعد مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ گھریلو جھگڑے اتنے شدید ہوتے ہیں کہ ایک ماہر نفسیات جو اپنے مضبوط اعصاب کے ساتھ لوگوں کے نفسیاتی مسائل کا علاج کرتا ہے۔ اس تک کو توڑ دیتے ہیں اور پھر شادی شدہ مرد کی دوسری شادی ایک ایسی بلا بن جاتی ہے کہ پہلا گھر کھا جاتی ہے۔ ؟

میں دن بھر کچھ اسی دکھ اور کیفیت میں مبتلا رہی ، پھر ذہن کی الجھن کو سلجھانے کے لئے سوشل میڈیا پر رائے لینے کے ارادے سے ایک پوسٹ لگائی

”دوسری شادی اور ماہر نفسیات“

یقین جانیے جو جوابات مجھے پڑھنے کو ملے۔ انہیں پڑھ کر میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ کسی نے بھی اس جملے میں ماہر نفسیات کے الفاظ پہ غور ہی نہیں کیا تھا اور سب کے جوابات کا زور دوسری شادی کی افادیت پہ تھا۔

نہ کسی نے اس تلخ جھگڑے پہ کوئی بات کی۔ نا کسی نے اعصاب کی مضبوطی کے فوائد اور طریقے بتائے نہ ہی کسی کو ایک پڑھی لکھی فیملی میں پیش آنے والے اس واقعے پر کوئی دکھ تھا۔ زور تھا تو بس دوسری شادی کے جائز ہونے پر۔ مجھے بھی دوسری شادی پہ کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ وہ ضرورت کے تحت کی جائے۔

افسوس ہوا یہ دیکھ کر کہ ہم اب بھی ایک مخصوص ماحول کے حصار میں ہیں۔ اس معاشرے میں شعور اجاگر ہونے میں اب بھی صدیاں لگیں گی۔ ہم کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے رائے دینے اور مثبت تنقید کرنے سے ہم ابھی تک گریزاں ہیں۔

کاش ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ ہم جس طرح جسمانی صحت کے لیے ورک شاپ کرتے ہیں بالکل اسی طرح ذہنی صحت کے لیے بھی ورک شاپ کریں جس میں جذبات کے بہاؤ کا رخ موڑنا سکھایا جائے اور ایسے سنگین واقعات کو رونما ہونے روکا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •