ریاست مدینہ جدید کا مفتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’مفتی عبدالقوی کے قرب میں بیٹھنا خواتین کی خواہش ہے‘‘

یہ تاریخی الفاظ ہیں، متنازع مفتی پاکستان عبدالقوی صاحب کے۔ موصوف کی اکثر ویڈیوز، تصاویر وائرل ہوتی رہتی ہیں، ان کی ٹک ٹاک میں بھی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے، خواتین سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں جبکہ وائرل ہو جانے کے لیے اکثر عجیب و غریب خرافات پر مبنی بیان دے دیتے ہیں اور خوب داد سمیٹتے ہیں۔

بقول اقبال

صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار

حال ہی میں ہراسانی کا الزام لگنے اور تازہ تازہ تھپڑ کھانے کے بعد حسب روایت پھر وہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے ہیں، شہرت کے لیے فلم اسٹار میرا کی طرح اکثر اوٹ پٹانگ باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے مگر قوی صاحب باز نہیں آتے۔

اس سے قبل بھی مفتی کا نام قندیل بلوچ قتل کیس اور اس کے ساتھ متنازع تصاویر، ویڈیوز بنانے کی وجہ سے سرخیوں میں رہا تھا۔ نتیجتاً انہیں رؤیت ہلال کمیٹی کے عہدہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا رہا، مگر تحریک انصاف نے انہیں مشیر دینی امور مقرر کیا حالانکہ اس وقت وہ قندیل بلوچ قتل کیس میں نامزد ملزم بھی تھے۔

جناب کو مفتی نہیں مخطی کہنا درست ہو گا جو ہر روز ہی خبروں کی زینت بنے ہوتے ہیں۔ کبھی چینی خاتون کے ساتھ رقص کرتے دکھائی دیتے تو کبھی عورتوں کے اوپر نوٹ نچھاور کرتے اور پھر اپنے قول و فعل کے دفاع میں فرماتے ہیں کہ وہ احتراماً عورت پر نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔ کبھی مشروب مغرب کو حلال قرار دیتے ہیں تو کبھی منشیات اور شراب کے استعمال کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پھر اگلے دن بے تکے جواز پیش کرتے ہیں۔

جناب عالی نے وطن عزیز کے مایہ ناز اینکر مبشر لقمان کے یو ٹیوب چینل سے کنٹریکٹ بھی کیا ہوا ہے ، ”اللہ بنائے جوڑی، ایک اندھا ایک کوڑی“ ۔ اکثر ان کے یو ٹیوب چینل پر بحیثیت مہمان مدعو ہوتے ہیں اورحد درجہ بے ہنگم گفتگو کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی پلانٹڈ ویڈیوز ہوتی ہیں اور وہ دانستہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر مقبول ہو جائیں لیکن ان کا یہ طرز عمل ملک اور مذہب اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔

حریم شاہ کی وجہ شہرت سے سب واقف ہیں، اس پورے تنازع میں یا ذاتی زندگی میں حریم کون سی پارسا ہے، اس کو کیوں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا رہا، تو جناب وہ جیسی بھی ہے، منافق نہیں ہے، جو اندر ہے وہی باہر۔ قندیل یا حریم تو ہیں ہی سرٹیفائیڈ۔ جو کچھ کرتی ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کرتی ہیں۔

ریاست مدینہ کے مفتی نے ایک انٹرویو میں فرمایا کہ کروڑوں لوگ مجھ سے پیار، عقیدت و احترام کرتے ہیں، لوگ میرے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں، میں عمر کے اس حصے میں ہوں کہ بیٹی سمجھ کے بنوا لیتا ہوں جب کہ ہمارے مفتیان کرام اور علماء کے مطابق ہمیں عمر کے کسی حصہ میں بھی ایسی کوئی آسانی، کوئی آزادی حاصل نہیں، کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟

میری بات ضرور گراں گزرے گی کیونکہ پاکستان میں ’بے مثال‘ مسلمان پائے جاتے ہیں، پر وہ چپ کیوں ہیں؟ اچھا اگر غلطی حریم کی ہوتی تو وہ دو ٹکے کی ہو جاتی بلکہ سمجھی جاتی لیکن معاملہ مفتی دین کا ہے تو تمام علماء حضرات خاموش ہیں، کسی قسم کا غم و غصہ یا مذمت ندارد۔ چلو لا تعلقی کا اعلان ہی کر سکتے تھے مگر اس پر اس قدر سناٹا، کوئی ہنگامہ برپا نہ ہوا۔

کوئی ڈرامہ یا فلم میکر نام نہاد مذہبی شخصیات کا اصل چہرہ نہیں دکھا سکتا۔ کسی کہانی نویس کو حساس موضوع پر لکھنے کی اجازت نہیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار میں نے ایک سچا اندوہناک واقعہ قلم بند کیا، وہ کیس وکلاء برائے انسانی حقوق کی ہیلپ لائن مددگار میں رجسٹرڈ تھا، جس میں مدرسہ کے قاری صاحب نے دس سالہ بچے کے ساتھ بد فعلی کی اور بعد میں تیزاب پھینک کے اس کو جلا دیا۔

میں نے وہ سانحہ من و عن لکھ کر تحریر ادارے کو ارسال کر دی، جس پر پرچے کے مدیر نے کہا ”بیٹی! بہت اچھا لکھا ہے، مگر ہم مجبور ہیں اور چھاپنے سے بھی قاصر ہیں، ہمارا پرچہ بند ہو جائے گا“

انہوں نے ساتھ تاکید کی کہ حساس موضوع پر آئندہ کچھ نہ لکھنا۔ اس کے بعد میں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا کیونکہ یہاں ہم سچ بیان نہیں کر سکتے۔

ہمارے لیے بہتر ہے کہ مفتی قومی ٹائپ کرداروں کو ٹاپ ٹرینڈ نہ بنائیں، میرا یقین ہے کہ اگر سوشل میڈیا صارفین ان کو ویوز دیں گے تو یہ آئندہ بھی اسی طرح چھائے رہیں گے۔

افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے نوجوان طبقے نے ہی ان کو وائرل کیا ہے حالاں کہ ان کو اتنی اہمیت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ اگر ایسے لوگوں کو اہمیت نہ دی جائے تو ان کی یہ دکان بھی جلد بند ہو جائے گی۔ ورنہ مجھے یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ معزز، عزت مآب، واجب التعظیم عبدالقوی جیسے لوگ ہی ہمیں دین سکھاتے رہیں گے کیونکہ بھئی! جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •