مکالمات افلاطونِ،اڑھائی ہزار برس بعد بھی اہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افلاطون کا شمار سقراط کے ان قریبی شاگردوں میں ہوتا ہے جنھوں نے سقراط کے فلسفے کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے اور سقراط کو دریافت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یوں تو افلاطون کے تمام مکالمات کو ہی بہت پذیرائی نصیب ہوئی مگر ”ری پبلک“ کے بعد افلاطون کے جو مکالمات سب سے زیادہ پڑھے گئے ان میں اپالوجی، کریٹو اور فیڈو ہیں۔ یہ تین مکالمات اس سہ المیے کی تشکیل کرتے ہیں جس میں ایتھنز کی شہری عدالت میں سقراط کے مقدمے اور اس مقدمے میں سقراط کے لیے سزائے موت کے فیصلے سے لے کر اس سزا پر عمل درآمد تک کے تمام واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ فکر انسانی کی تاریخ میں سقراط کو ایک اہم مقام حاصل رہا اور یہی وجہ ہے کہ اپنے دور کے اس عظیم فلسفی کے انجام کی یہ روداد قارئین اور سقراط کے مداحین کے لیے ہمیشہ دل چسپی کا باعث رہی۔

افلاطون کے مذکورہ تینوں مکالمات میں ہلکی پھلکی گفتگو کے انداز میں بہت سے فلسفیانہ امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مکالمات افلاطون میں پہلا مکالمہ ”اپالوجی“ (معذرت نامہ) ہے جس میں سقراط اپنا دفاع کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس مکالمے میں سقراط موقف ہے کہ میں وہی کچھ کہتا ہے جسے میں حق سمجھتا ہوں ، لوگوں کی ناراضی اور ست حق گوئی کے خوف سے حق سے پہلو تہی کرنا بزدل لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ سقراط کا کہنا ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنی زندگی کا ناقدانہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنی اور دوسروں کی بھلائی سوچ سکے اور میں بھی پوری زندگی یہی کام کرتا رہا ہوں۔

اور جہاں تک سزائے موت کا سوال ہے تو یہ کوئی ایسی نقصان دہ بات نہیں کہ جس کے لیے انسان حق و صداقت اورتلاش و جستجو کا راستہ چھوڑ دے۔ چونکہ سقراط اپنی صفائی میں عدالت کو مطمئن نہ کر سکا تھا سو جیوری نے اس لے لیے سزائے موت کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ مکالمہ اصل میں سقراط کا عدالت سے وہ خطاب ہے جس میں سقراط نے اپنا مقدمہ لڑنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر یاد رہے سقراط کا اصل جرم مذہبی نہیں بلکہ مکمل سیاسی تھا کیونکہ سقراط جمہوریت کی بجائے اس اصول کا قائل تھا کہ اگر کوئی اہم فیصلہ یا رائے اقلیت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں ، وہ اکثریت سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مقدمے کے اصل محرک وہ جمہوری لیڈر تھے جنہیں اپنے علم و دانش پر ناز تھا اور سقراط کی تنقید برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

اس خطاب میں سقراط نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اس نے نہ تو جیوری کے ممبران کی چاپلوسی و خوشامد کی اور نہ ہی بیوی اور بچے کے نام رحم کی بھیک مانگی بلکہ انتہائی ہمت و بہادری سے نہ صرف اپنا مقدمہ لڑا بلکہ عدالت میں ”اپالوجی“ جیسا بہت اہم خطاب کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل بھی معذرت خواہ نہیں تھا ، اگرچہ مکالمے کا عنوان معذرت نامہ ہے۔ سقراط کے پاس سزا کے دو آپشن تھے‘ جلاوطنی یا سزائے موت۔

اسے کہا گیا کہ وہ کسی ایک راستے کا انتخاب کر لے جب کہ سقراط نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جب میں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تو سزا کیسی اور اگر میں کوئی سزا منتخب کرتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے اپنا جرم تسلیم کر لیا اور میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ اس مکالمے میں سقراط نے یہ باور کروا دیا کہ کسی قسم کے خوف یا دھمکی سے اس کی زبان و دل کی رفاقت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ حق گوئی سے اسے صرف اسی طرح باز رکھا جا سکتا ہے کہ اسے شہید کر دیا جائے۔

اس سہ المیے کے دوسرے مکالمے ”کریٹو“ میں فرد کے مقابلے میں قانون اور ریاست کی بالادستی کا تصور پیش کیا گیا۔ سزائے موت پر عمل درآمد ہونے سے پہلے سقراط کا دوست کریٹو اسے قید خانے میں ملنے جاتا ہے اور اسے قید خانے سے فرار ہونے کے منصوبے سے آگاہ کرتا ہے۔ لیکن سقراط اس سے مکمل اختلاف کرتا ہے کیونکہ اس کا موقف ہے کہ فرد پر ریاست اور قانون ریاست کو یک طرفہ طور پر مکمل بالادستی حاصل ہے۔ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ ریاست کے قانون کی طرف سے دی گئی سزا کو قبول کرے۔

اس مکالمے میں سقراط کا کہنا ہے کہ اس کسی ریاست سے قانون کی بالادستی ختم ہو جائے اور قوانین کے تحت کیے گئے فیصلوں کی پابندی نہ کی جائے تو ریاست شکست و ریخت کا شکار ہو جاتی ہے اور ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ سقراط کا خیال ہے کہ قانون کی حیثیت باپ کی سی ہوتی ہے اور ریاست کا باشندہ بیٹا ہوتا ہے لہٰذا باپ بیٹے کا تعلق کبھی بھی مساوی نہیں ہوتا۔ باپ کبھی ڈانٹ دے یا مارے بھی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بیٹا بھی ایسا ہی کرے بلکہ بیٹے کو پھر بھی باپ کا احترام کرنا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میں ہر حال میں قانون کا احترام کروں گا کیونکہ ریاست قوانین کے بغیر نہیں چل سکتی۔ سقراط کا خیال ہے کہ ریاست آپ کو غلط بھی سزا دے تو اسے دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کریں نہ کے قوانین کو توڑیں۔ یہ مکالمہ بنیادی طور پر وہ گفتگو ہے جو سقراط اور اس کے دوست کریٹو کے درمیان ہوئی اور یہ مکالمہ میں تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جاتا رہے گا۔

”مکالمات افلاطون“ میں شامل تیسرا اور آخری مکالمہ ”فیڈو“ ہے۔ اس میں سقراط کی وہ گفتگو شامل ہے جو اس نے سزائے موت پر عمل درآمد ہونے والے دن کی تھی۔ سقراط کے دوست اس سے آخری ملاقات کے لیے قید خانے میں جمع ہوتے ہیں۔ سقراط انہیں بتاتا ہے کہ وہ اپنی موت کے خیال سے اس لیے افسردہ نہیں کہ اچھی، منظم اور فلسفیانہ زندگی بسر کرنے والوں کے لیے موت باعث شر کی بجائے باعث خیر ہوتی ہے کیونکہ حیات بعد ازموت میں ان کی روح جسمانی حدود و قیود سے آزاد ہو کر معرفت حق کی ارفع منازل کو سہولت سے طے کرتی ہے اور سچائی کے نور سے بہرہ ور ہوتی ہے۔

یہاں اس کے دوست سیبنیر اور سیمیاس جب اعتراض کرتے ہیں کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ جسم سے آزاد ہونے کے بعد روح موجود ہی رہتی ہے اور یہ جسم سے نکل کر روح کسی چمنی سے نکلنے والے دھویں کی طرح منتشر نہیں ہو جاتی؟ سقراط ان کے جواب میں جسم اور روح کے تعلق کو بھی تفصیلی بیان کرتا ہے۔ دوران گفتگو سقراط تناسخ ارواح اور نظریۂ امثال کا بھی تذکرہ کرتا ہے۔ غروب آفتاب سے چند منٹ پہلے سقراط کو زہر کا پیالہ پیش کیا جاتا ہے اور وہ بڑی سہولت اور اطمینان سے اسے پی کر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔

افلاطون کے مکالمات کے بارے میں ایک بحث یہ بھی کی جاتی ہے کہ ان میں کسی حد تک افلاطون نے اپنے نظریات بھی شامل کیے ہیں۔ خاص طور پر اجسام اور ارواح کے حوالے سے تیسرے مکالمے میں سقراط کی گفتگو میں زیادہ حصہ افلاطون کے نظریات کا لگتا ہے۔

تاہم اس تاریخی بحث سے قطع نظر ”مکالمات افلاطون“ اپنے مخصوص انداز اور حسن و معانی و کلام کے باعث انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور تقریباً اڑھائی ہزار سال گزر جانے کے باوجود ان کی اہمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اگرچہ یہ مذکورہ تینوں مکالمات انتہائی طویل تھے لیکن میں نے قاری کے سہولت کے لیے ملخص ڈسکس کر دیا۔ اگر کوئی پڑھنا چاہیے تو مکالمات افلاطون کی تمام جلدیں ادارہ فروغ اردو اسلام آباد ( مقتدرہ قومی زبان) نے اردو میں شائع کر دی ہیں جو یقیناً پڑھے جانے کے قابل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •