حکومت کی مدت 4 سال کریں، 14 اگست الیکشن ڈے ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوزف ریبینیٹ بائیڈن جونیئر امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے تخت حکومت پر متمکن ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ نائب صدر کی حیثیت سے 8 سال ( 2009 ء سے 2017 ء تک اوباما کے ساتھ) فرائض انجام دے چکے ہیں جبکہ وہ 1973 ء سے 2009 ء تک ( 36 سال) امریکی سینیٹ کے رکن رہے۔ اس طرح انہیں معمر ترین امریکی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ ”سب سے تجربہ کار“ منتظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ 78 سالہ جو بائیڈن 20 نومبر 1962 ء کو پیدا ہوئے۔

انتخابی مہم کے دوران ہلکی سی جاگنگ کر کے انہوں نے خود کو ”ابھی تو میں جوان ہوں“ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ زندگی میں بہت سے غم اٹھانے کے باوجود وہ مضبوط اعصاب کے مالک ثابت ہوئے۔ ان کی بیوی اور بیٹی ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔ ایک بیٹا برین کینسر سے انتقال کر گیا۔ (جس کے علاج کے لئے انہوں نے اپنا مکان فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تاہم علم ہونے پر ان کے صدر اوباما نے انہیں مکان بیچنے سے روک دیا اور ایک بھاری رقم انہیں بیٹے کے علاج کے لیے عطیہ کر دی) دوسرا بیٹا کوکین کا نشئی بن گیا جس کی بنا پر اسے نیوی سے نکال دیا گیا۔

جو بائیڈن خارجہ، دفاع اور داخلی سکیورٹی سمیت متعدد اہم کمیٹیوں کے سربراہ بھی رہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے سسٹم کو جھٹکے پر جھٹکا دیا مگر کم و بیش اڑھائی سو سال ( 245 سال) سے قائم امریکی سسٹم یہ جھٹکے برداشت کر گیا۔ اس میں ہمارے لئے بھی کافی سبق موجود ہیں۔ تجربہ کار افراد اور اداروں سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں صدارتی نظام نافذ ہے اور الیکشن ہر چار سال بعد نومبر کے پہلے ہفتے کے دوران ایک مخصوص دن منعقد ہوتے ہیں جو امریکی سیاسی نظام کے استحکام کا ایک سبب ہے کہ سب کو علم ہوتا ہے کہ الیکشن فلاں تاریخ کو ہو گا اور مڈٹرم الیکشن کے امکانات کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔

چار سال کی مدت بھی بہت مناسب ہے جو ہم سے زیادہ سیاسی شعور اور علم رکھنے والے شہ دماغوں نے متعین کی ہے۔ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کے عوام کی نفسیات یہ ہے کہ انہیں نتائج جلد چاہئیں۔ 5 سال کی مدت طویل ہے اور لوگ حکومتوں سے اکتا جاتے ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ پاکستان کے آئین میں ترمیم کر کے دورانیہ 4 سال مقرر کیا جائے اور الیکشن کی تاریخ کا بھی تعین کر کے آئین کا حصہ بنا دیا جائے۔

اس ضمن میں تجویز ہے کہ 14 اگست کو جو ہمارا یوم آزادی ہے، الیکشن کی تاریخ (الیکشن ڈے ) قرار دیا جائے۔ 14 اگست کی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔ سیاسی استحکام کے لئے انشاء اللہ یہ نسخہ کیمیا ثابت ہو گا۔ طالع آزماؤں کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی جس کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ طے شدہ اہداف کے حصول کی منصوبہ بندی آسان ہو جاتی ہے۔

ویسے نظام سارے ہی ٹھیک ہوتے ہیں چاہے پارلیمانی ہو یا صدارتی۔ انحصار سسٹم چلانے والوں کی نیت اور اہلیت پر ہے۔ امریکہ میں صدارتی نظام کامیابی سے چل رہا ہے جبکہ بھارت، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک میں پارلیمانی نظام بھی بہترین نتائج دے رہا ہے۔ پاکستان میں بھی چل سکتا ہے بشرطیکہ اسے چلنے دیا جائے۔ عوام کی فراست پر اعتماد کیا جائے، تین چار الیکشن آزادانہ ہونے دیں۔ انشاء اللہ بہتری آئے گی، اگر سارا زور مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے لگادیا جائے تو استحکام کیسے نصیب ہو گا؟

اب کی بار ایک دفعہ پھر اچھا بھلا چلتا ہوا نظام اکھاڑ پھینکا گیا اور ایک ایسے شخص کو لا کر سروں پر بٹھا دیا گیا جو کبھی یونین کونسل کا چیئرمین بھی نہ رہا تھا۔ اس تجربے سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ ایسے کسی شخص کو وزیراعظم نہ بننے دیا جائے جو کبھی گورنر، وزیراعلیٰ یا مرکزی اور صوبائی وزیر نہ رہا ہو۔ انتظامی معاملات کی بڑی اہمیت ہے۔ ناتجربہ کار شخص چاہے کتنا ہی مخلص اور دیانت دار کیوں نہ ہو وہ نظام حکومت نہیں چلا سکتا۔

پی ٹی آئی حکومت کو ناکامیوں کا سامنا اسی لئے کرنا پڑ رہا ہے کہ اپنے تمام تر خلوص کے باوجود عمران خان اچھی ٹیم کا انتخاب نہ کر سکے۔ خصوصاً اشیاء خورونوش اور ادویہ کی بے تحاشا گرانی نے عام آدمی کو مایوس کر دیا ہے۔ کئی سال سے 40 روپے کلو چکی کا اچھا آٹا وافر دستیاب تھا مگر اب 70 روپے کلو ناقص آٹا بھی مشکل سے مل رہا ہے۔ چینی کا بھی یہی حال ہے ہمارے تمام عوارض کا یہی علاج ہے کہ بار بار الیکشن آزادانہ اور غیر جانبدارانہ کروائے جائیں۔ غلطیاں ہوں گی مگر آہستہ آہستہ معاملات درست ہو جائیں گے۔

جو ممالک جمہوریت کا ثمر کھا رہے ہیں، انہیں یہ منزل چند سال میں نہیں مل گئی، اس کے لئے صدیوں جدوجہد کرنا پڑی۔ انگلستان میں 500 برس سے باقاعدہ پارلیمنٹ موجود ہے۔ امریکہ کو اپنا سسٹم مستحکم کرنے میں اڑھائی سو سال لگ گئے۔ یونان سمیت کئی دیگر ممالک میں جمہوریت کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ اس حوالے سے ہم تو ابھی طفل مکتب ہیں۔ ہر ملک میں خارجہ، داخلہ اور سکیورٹی معاملات سیاسی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ مل کر چلاتی ہے مگر اس کی حدود متعین ہیں جن کی فریقین پابندی کرتے ہیں۔

پاکستان میں عام آدمی کو روند دیا گیا ہے، ایسا لگتا ہے پاکستان صرف امیروں کے لئے بنایا گیا۔ جہاں غریب آدمی کے لئے روٹی ہے نہ کپڑا اور نہ ہی اسے چھت میسر ہے۔ اس پر انصاف کے دروازے بھی بند ہیں۔ اگر سیاسی استحکام آ جائے تو آہستہ آہستہ کچھ نہ کچھ مسائل ضرور حل ہو جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے سب کو اپنی اناؤں کے چکر سے باہر نکلنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •