لوگ جینے کہاں دیتے ہیں (افسانہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات بہت ویران تھی۔ یہ گھنا اندھیرا اور سناٹا وحشت اور مایوسی کو جنم دے رہا تھا۔ یہ گہری رات گہرا راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھی۔ نوری صحن کے بیچ میں گم سم بیٹھی تھی، اسے کچھ ہوش نہیں تھا۔ وہ سکتے کی حالت میں تھی، اس کا سفید دوپٹہ خون سے سرخ ہو گیا تھا جیسے کسی نے رنگ دیا ہو۔

دوپٹہ تو رنگا گیا تھا لیکن اس کی زندگی کی ساری خوشیوں کے رنگ لے اڑا تھا۔ اس کی آنکھیں پتھر کی ہو چکی تھیں بلکہ وہ خود بھی پتھر کی مورت لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں چند لمحے پہلے ہونے والا واقعہ صاف نظر آ رہا تھا لیکن کوئی جھانک کر دیکھنے والا ہی نہ تھا۔

وہ اپنے شوہر کی لاش کو تکے جا رہی تھی۔ ارشد یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے سویا ہو۔ اور نوری کی آنکھیں اس پر ٹکی ہوئی تھیں جیسے اکثر چاندنی رات میں وہ اسے دیکھا کرتی تھی۔ لیکن آج کی چاندنی رات اس کی زندگی کی چاندنی کا قتل کر چکی تھی۔ چاند کی روشنی اب ماند پڑ چکی تھی۔ شاید تھک گئی تھی اس اندھیرے کالے سائے سے لڑتے لڑتے جو نوری کے گھر پر منڈلا رہا تھا۔

آہستہ آہستہ چاند کی روشنی ختم ہو گئی اور اس کی جگہ سورج نے لے لی۔ سورج کی کرنوں نے ہر طرف اجالا کر دیا تھا۔ لیکن یہ اجالا نوری کے لیے پچھلی رات کے اندھیرے سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔

دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ نوری بے حس و حرکت بیٹھی ہے۔ اگلی دستک پر دروازہ ہلکا سا کھل جاتا ہے۔ ارشد کے بھائی کی نظر جیسے ہی اندر پڑتی ہے، وہ دہلیز پھلانگ کر اندر آتا ہے اور شور برپا کر دیتا ہے۔

ہائے وے! ارشد!
اٹھ!
نوری! نوری! وہ نوری کو جھنجوڑتا ہے۔
اے کی کیتا؟ (یہ کیا کیا)۔

صفدر کی چیخوں سے محلے کے کافی لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور چہ میگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ ارے اچھا بھلا آیا تھا کل۔ ارے یہ کیسے ہوا۔ اسے کس نے مارا؟ لگتا ہے بیوی نے یار کے ساتھ مل کر کیا ہے اور یار بھاگ گیا ہے۔

کچھ دیر بعد پولیس آجاتی ہے اور لوگوں کو ہٹا دیتی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا جاتا ہے اور پولیس قریب پڑا چاقو اٹھا لیتی ہے۔ نوری کو حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ اس سے پولیس سٹیشن میں سوالات شروع کیے جاتے ہیں۔

نوری کے منہ سے پہلا لفظ آصف نکلتا ہے۔
کون آصف؟ بتا؟
آصف نے۔ وہ ایک چیخ مارتی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے ہیں۔

دیکھو بی بی! اب صحیح صحیح بتا دو۔ یہ ڈرامے یہاں نہیں چلیں گے۔ کیوں مارا ہے شوہر کو؟ کس کے ساتھ مل کر مارا ہے؟

اور آصف کون ہے؟ یار ہے تیرا؟
نہیں نہیں میں نے نہیں مارا۔ آصف نے۔ اس نے مارا ہے۔
کون ہے آصف بتا؟
میرا۔ میرا بھائی۔
پولیس ارشد کے گھر جاتی ہے۔ وہاں اس کے بہن بھائیوں سے تفتیش کرتی ہے۔

صاحب جی یہ چڑیل عورت ہے۔ ڈائن ہے۔ پیدا ہوتے ہی باپ کو کھا گئی اور پھر میرے بھائی کو پھنسا لیا۔ بڑے عاشق تھے اس کے تو۔ راشد کو بڑا سمجھایا تھا لیکن نہ جانے کیا جادو کر دیا تھا۔

وہ کہہ رہی ہے اس کے بھائی آصف نے مارا ہے۔

ناں جی صاحب جی۔ وہ تو دوسرے گاؤں میں ہوتا ہے، اس نے خود کسی یار کے ساتھ مل کر مارا ہے میرے بھائی کو۔ بہن بتاتی ہے۔

آصف کے گھر جایا جاتا ہے۔ وہ پہلے تو حیرت کا اظہار کرتا ہے اور پھر صاف مکر جاتا ہے۔

صاحب میں کال شام تک تو کھیتی باڑی کر رہا تھا اور پھر رات کو جلدی سو گیا تھا۔ آپ چاہیں تو پوچھ لیں کھیت میں موجود لوگوں سے۔

***

قتل کا واحد ثبوت وہ چاقو تھا جو لاش کے پاس سے برآمد ہوا تھا۔ اس پر نوری کی انگلیوں کے نشانات تھے۔ اور ہوتے بھی کیوں نہ۔ اس نے اپنے شوہر کی اذیت کم کرنے کی غرض سے اس کے سینے میں گھونپا ہوا چاقو نکالا تھا اور پھر اس کی اٹکی ہوئی سانس بھی نکل گئی تھیں اور وہ اس درد سے آزاد ہو گیا تھا اور نوری کا قصور اتنا تھا کہ اس نے اسے درد سے آزاد کیا تھا۔

***

نوری اور ارشد صحن میں بیٹھے تھے، ارشد کھانا کھا رہا تھا اور نوری گرم روٹیاں بنا رہی تھی، دروازے پر دستک ہوتی ہے۔

اس وقت کون آ گیا؟
ارشد یہ کہہ کر اٹھتا ہے اور دروازہ کھولتا ہے۔ وہ چونک کر کہتا ہے۔
آصف تم؟ آؤ اندر آؤ نوری دیکھو کون آیا ہے۔
ہائے میرا ویرا میرا بھائی۔ میں جانتی تھی تو میرے سے بدگمان اور ناراض نہیں رہ سکتا۔
آصف کالے کپڑوں میں ملبوس کندھوں پر چادر لیے ہاتھ چادر میں ڈھکے ہوئے ہیں۔
چل آ جا میں کھانا دیتی ہوں، آ بیٹھ جا۔
وہ یہ کہہ کر مڑتی ہے۔
چل اچھا ہوا۔ تو نے ناراضگی ختم کر دی۔
ارشد کہتا ہے :

ہاں میں نے سوچا اس قصے کو ہمیشہ کے لیے آج ختم کر دوں۔ یہ کہتے ہی آصف چاقو نکال کر ارشد کے سینے میں گھونپ دیتا ہے۔

ارشد کی چیخ پر نوری باورچی خانے سے نکل کر آتی ہے اور چیخ مار کر ارشد کے پاس آ کر گر جاتی ہے۔ وہ تب سے سکتے کی حالت میں تھی، وہ بس اس کے سینے میں سے وہ چاقو نکالتی ہے۔

نوری سلاخوں کے پیچھے بیٹھی ہے اور یہ سارا منظر ایک ریل کی طرح اس کی آنکھوں میں چل رہا تھا اور وہ ایک دم چیخ مارتی ہے۔

او بی بی یہ تھانہ ہے۔ اب آواز آئی نا تیری تو ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گی۔ ایک پولیس والی اسے کہتی ہے۔

قانون اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ اپاہج بھی ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے ثبوت کی عینک اور چلنے کے لیے ثبوت کی بیساکھیوں کی ضرورت ہے۔ پھر چاہے وہ ٹوٹی پھوٹی یا جھوٹی ہی کیوں نہ ہوں۔

آصف کے گاؤں میں بھی اس کے بہنوئی کے قتل کی بات پھیل چکی تھی۔

آصف اس دن کی طرح آج پھر چائے کے کھوکھے پر بیٹھا تھا۔ وہی دو لوگ آج بھی موجود تھے۔ جو چند روز پہلے آصف کی بہن کی پسند کی شادی پر بات کر رہے تھے۔

یہ وہی بے غیرت ہے ناں جس کی بہن نے اسی کے دوست سے محبت کی شادی کی ہے۔ پتہ نہیں غیرت نام کی چیز ہی نہیں ہے آج کل کے مردوں میں۔

یہی وہ الفاظ تھے جن کے پیچھے اس نے اپنی بہن کا سہاگ چھینا تھا۔ اور آج وہی دو لوگ دوبارہ اس کے بہنوئی کے قتل پرچہ میگوئیاں کر رہے تھے۔

لگتا ہے نوری نے کسی اور عاشق کے ساتھ مل کر اپنے خاوند کو قتل کر دیا، اتنے تو عاشق تھے اس کے۔
*******
زلفی دو کپ چائے لگا یار۔

اور ہاں پتہ چلا تجھے وہ جو آصف آتا تھا جس کی بہن نے پہلے محبت کی شادی کی اور پھر آشنا کے ساتھ مل کر خاوند کو قتل کر دیا تھا۔

ہاں ہاں کیا ہوا اس کو؟
اس نے خود کشی کر لی ہے۔ لوگوں کے طعنوں سے تنگ آ گیا ہو گا بیچارہ۔ لوگ بھی کہاں جینے دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •