بچوں کی نشوونما، چند اہم نکات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ آپ سب خواتین کو اس بات کا اندازہ ہو گا کہ بچوں کی درسگاہوں کے باہر ریڑھی والے گولا گنڈہ، لیموں پانی، رنگ برنگے مشروبات اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور چونکہ بچوں کو چھٹی میں شدید پیاس اور بھوک محسوس ہو رہی ہوتی ہے تو وہ اپنی جیب خرچ سے گندے پانی میں تیار کردہ مشروبات اور کھانے کی اشیاء خرید لیتے ہیں جس کے باعث وہ ڈائریا اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر اینٹی بائیوٹک اور ڈرپ لگنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

اپنے بچوں کو اس سب سے بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسکول واٹر بوٹل کا بہترین انتخاب کریں ، ایسی واٹر بوٹل خریدیں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو اور پانی ٹھنڈا رہے ،۔ آپ کولڈ ڈرنکس کی استعمال شدہ بوتلوں میں بچوں کو پانی بھر کر نہ دیں جس میں پانی ٹھنڈا بھی نہ رہے اور مقدار بھی معمولی ہو اور واٹر بوٹل کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہو۔ اس کے ساتھ اگر بچوں کو گھر میں تیار کردہ مشروب واٹر بوٹل میں دیا جائے تو وہ پھر باہر ریڑھی پر ملنے والے مشروبات کی طرف راغب نہیں ہوں گے ۔

اس کے ساتھ کوشش کرنی چاہیے کہ دوپہر کے کھانے میں گھر میں تیار کردہ مشروب بنا کر رکھا جائے تاکہ بچے اسکول سے آ کر وہ پیئیں تاکہ ان میں پانی کی کمی نہ ہو اور اس کے ساتھ انھیں اس بات کا احساس ہو کہ انھیں گھر میں مزیدار مشروب پینے کو ملے گا اور وہ باہر ملنے والے مشروب پینے کو ترجیح نہ دیں۔

چونکہ آج کل کے بچوں کو سبزی اور پھل کھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ اس کی وجہ ہرگز یہ نہیں کہ انہیں وہ اشیاء کھانا نہیں پسند بلکہ اس میں غلطی سراسر آپ کی ہے کیونکہ آپ سبزی اور پھل کو کھانے کا حصہ نہیں بناتیں اور پھر بچوں میں آئرن، وٹامنز اور پروٹین کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

اس کا آسان حل یہ ہے تازہ کھیرا، گاجر، سلاد پتہ، مولی کاٹ کر سلاد کی پلیٹ بنائیں اور سالن، روٹی اور چاول سے پہلے بچوں کے آگے رکھیں اور ان کی افادیت بتا کر انھیں کھانے پر مجبور کریں اور میٹھے میں بھی کسٹرڈ، کھیر یا پڈنگ بنانے کے بجائے بچوں کو پھل کھانے کا کہیں اور پھل ہی ان کے سامنے رکھیں۔

اگر وہ بچے پھل نہ کھائیں تو ان کا جیب خرچ مکمل طور پر بند کر دیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ اگر وہ گھر میں موجود صحت بخش اور تازہ پھل نہیں کھائیں گے تو جیب خرچ سے محروم ہو جائیں گے اور اسی چیز سے بچنے کے لیے وہ صحت سے بھرپور اشیاء کھائیں گے اور دھیرے دھیرے انہی چیزوں کے عادی ہو کر اپنی جیب خرچ کو اللے تللوں میں خرچ کرنے کے بجائے جمع کرنے کی کوشش کریں گے اور اس طرح انہیں اپنی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ پیسے بچانے کی بھی عادت ہو جائے گی۔

آج کی معمولی احتیاط کل کا بہترین مستقبل ہوتی ہے ، اس لیے اگر آج آپ اپنے بچوں کے لیے معمولی سی کوشش کر لیں گی تو کل کو آپ کے بچے صحت مند بھی ہوں گے اور اس کے ساتھ آپ کو بھی اس بات کا خوف نہیں ہو گا کہ بیماری میں آپ کو بچوں کا خیال رکھنا ہے، دوائی پلانے کا مشکل مرحلہ طے کرنا ہے یا پھر اسکول کی چھٹیاں ہونے کے باعث ان کا کلاس ورک، ہوم ورک مینٹین کروانا ہے ۔ جب ذرا سی کوشش اور محنت سے صرف اپنے لیے آسانی پیدا کرنی ہے تو پھر کیوں سست روی سے کام لیا جائے،  آج ہی سے کمر کس لی جائے اور بچوں کی صحت کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •