ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی لغات: تحقیق و تنقید، ایک تعارف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتاب:۔ لغات: تحقیق و تنقید۔ مصنف: ڈاکٹر رؤف پاریکھ۔ پبلشر: سٹی بک پوائنٹ، اردو بازار، کراچی
۔ سال اشاعت: 2020ء

یہ کتاب ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے مرتب کی ہے۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ پاکستان کے مشہور ماہر لسانیات ہیں۔ لغت، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے ان کے ان گنت مقالے اور کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ لغت نویسی کے موضوع پر کام کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس موضوع پر کام کم ہوا ہے۔ لغات اور لغت نویسی کے موضوع پر اہل علم اور ماہرین کے مقالات پر مبنی ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی مرتب کردہ یہ چوتھی جلد ہے۔ اس سے قبل اس موضوع پر ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے مقالات کے دو مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

اس کتاب میں مندرجہ ذیل ماہرین کے مقالے شامل ہیں۔

مولوی عبدالحق، جمیل الدین عالی، خلیق انجم، شاہد حمید، سید عبداللہ، شوکت سبزواری، کمال احمد صدیقی، رشید حسن خان، اکبر حسین قریشی، عبد الرشید، پروفیسر رؤف پاریکھ۔

پہلے مقالے کا عنوان ہے ”اردو۔ اردو لغت : رہنما اصول“ میں لغت نویسی کے وہ اصول درج کیے گئے ہیں جو ہندوستان میں مرتب کی جانے والی مجوزہ اردو بہ اردو لغت کے لیے درج کیے گئے تھے۔ یہ اصول سابق ترقی اردو بیورو ( وزارت تعلیم حکومت ہند) نے 1981ء میں اپنے پانچ جلدی اردو۔ اردو لغت منصوبے کے لیے تیار کروائے اور مشتہر کیے تھے۔

دوسرا مقالہ مولوی عبدالحق کا ہے۔ جس کا عنوان ”انگریزی اردو لغات اور انجمن کی انگریزی اردو لغت“ ہے۔ اس مقالے میں مولوی عبدالحق نے مختلف انگریزی اردو لغت کا جائزہ پیش کیا ہے۔ جس میں جارج ہیڈلے، فرگسن، ڈاکٹر بورتھ وک، گلکرسٹ، ہنری ہیرس، لیفٹنٹ روبک، دوسا بھائی، سہراب جی، ہنری گرانٹ، متھرا پرشاد، سدا سکھ، ہیزل گرو، ایچ بلاک مین، ڈاکٹر فیلن، درگاہ پرشاد، ریورنڈ کریون، تھابرن، اور رینکنگ کی انگریزی ہندوستانی ڈکشنریز شامل ہیں۔

” انجمن کی انگریزی اردو لغت کی اشاعت ثانی“ جمیل الدین عالی کا مقالہ ہے۔ جس میں انھوں نے انگریزی اردو لغت کے اشاعت ثانی کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا تذکرہ کیا ہے۔ نیز الفاظ کے نئے اور مناسب معنی درج کیے گئے ہیں۔

” انجمن کی انگریزی اردو لغت“ خلیق انجم کا مقالہ ہے۔ یہ انجمن کی لغت ہندوستانی ایڈیشن کا دیباچہ ہے۔ اس لغت کی ترتیب کا کام تین سال میں مکمل ہوا۔ اور انجمن کے تقریباً پینسٹھ ہزار روپے اس کام پر خرچ ہوئے۔ انجمن کی مرتب کردہ لغت ایک جامع اور مستند لغت تصور کی جاتی ہے انگریزی سے اردو ترجمے میں عام طور پر اس لغت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

” قومی انگریزی اردو لغت: ایک جائزہ“ شاہد حمید کامقالہ ہے۔ اس مقالے میں شاہد حمید نے اس لغت کی خامیوں کا تذکرہ کیا ہے۔

” لغات اردو کی ایک سرسری فہرست“ سید عبداللہ کا مقالہ ہے۔ آٹھ صفحات پر مشتمل اس مقالے میں سید عبداللہ نے اردو لغات کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ جس میں اہم لغات کا نام، سن اشاعت، مرتب کا نام، پبلشر، اور شہر کا نام درج ہے۔

” قادر نامہ“ شوکت سبزواری کا مقالہ ہے۔ اس مقالے میں شوکت سبزواری نے ان الفاظ کے معنی درج کیے ہیں۔ جو غالب نے قادر نامے میں استعمال کیے ہیں۔

”غالب اور لغت“ کمال احمد صدیقی کا مقالہ ہے۔ اس مقالے میں غالب کی لغت نویسی کو ”قاطع برہان“ کے تناظر میں موضوع بنایا گیا ہے۔ غالب نے ”برہان قاطع“ میں جو غلطیاں کی ہیں ان کی نشاندہی کی ہے۔

” کچھ بہار اردو لغت کے بارے میں“ یہ رشید حسن کا مقالہ ہے۔ اس مقالے میں ”بہار اردو لغت“ جو خدا بخش جرنل ( پٹنہ ) کے شمارے میں 28 ( 1984ء) میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

” استدراک: اردو اشتقاقی لغت“ اکبر حسین قریشی کا مقالہ ہے۔ جو انھوں نے ڈاکٹر سہیل بخاری کی لغت ”اردو اشتقاقی لغت“ پر تحریر کیا ہے۔ یہ لغت سہ ماہی اردو میں قسط وار شائع ہوتی رہی ہے۔ ڈاکٹر اکبر حسین قریشی نے پانچ سو الفاظ کا ایک ضمیمہ تیار کر دیا ہے اور یہ تمام الفاظ معنی کے ساتھ اس مقالے میں شامل ہیں۔

” فرہنگیں اور اردو میں ادبی متون کی فرہنگیں“ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا مقالہ ہے۔ اس مقالے میں ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے فرہنگ اور لغت کے فرق کی وضاحت کی ہے۔ انھوں نے ادبی متون کی فرہنگ کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ادبی فرہنگ میں لفظ کے اندراج کی وضاحت کی ہے۔ یہ مقالہ لسانیات کے طلبہ اور لغت نویسی کے اسکالرز کو لغت کے حوالے سے بنیادی معلومات فراہم کرتا ہے۔

”لغات: تحقیق و تنقید“ دو سو بارہ صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔ جس میں 12 محققین کے مقالے شامل ہیں۔ ان مقالوں کا بنیادی موضوع لغت نویسی ہے۔ اس کتاب کو مرتب کرنے کا بنیادی مقصد ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے طلبہ کی معاونت بیان کیا ہے۔ بے شک یہ کتاب لغت نویسی، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے دقیق موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •