لکیر کے دُکھ اور گُم شدہ قصے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اور ہندوستان آج سے تقریباً 75 برس قبل دو آزاد و خود مختار مملکتوں کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ دونوں ممالک نے اپنی آزادی پر کیا کچھ کھویا، اور پایا، اس کی اپنے ہاں ایک الگ داستان ہے۔

دونوں ریاستوں کی یہ علیحدگی صرف سرحدوں تک ہی محدود نہ رہی بلکہ دلوں تک کو ایک دوسرے سے جدا کر گئی۔ جہاں اور بہت سے علاقے جدا ہوئے۔ وہاں پنجاب کے دونوں حصے، مشرقی اور مغربی پنجاب کی جدائی کا دکھ اس حد تک زیادہ محسوس کیا گیا کہ اس کو یاد کر کے دل خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ان تلخ یادوں کو اب مٹایا تو نہیں جا سکتا۔ ان میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔ اس غم و غصے کو دوستی میں بدلنے کے لئے ماضی میں کئی کوششیں کی گئیں۔

دونوں ممالک کے دانشوروں اور اہل قلم نے مل کر آج سے 25 سال پہلے پاک انڈیا پیپلز فورم برائے امن و جمہوریت کے نام سے ایک فورم قائم کیا تھا۔ جس کے مقصد و منشور میں یہ ذمہ داری بھی شامل تھی کہ باہمی گفت و شنید کے ذریعے جنوبی ایشیا کے ان دونوں ممالک کے مسائل کے حل کی طرف دونوں حکومتوں کو مجبور کیا جائے گا اور ایک دوسرے کے ملکوں میں سالانہ کانفرنس منعقد کروا کے، ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی سنجیدہ کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ جسے ٹریک ٹو پالیسی یا ”لوگوں سے لوگوں کے ملاپ“ کا نام بھی دیا گیا۔ یہ ایک اچھی اور قابل ستائش کاوش تھی۔ جو شاید ابھی تک جاری ہے۔ اس میں شاید پہلے جیسی گرم جوشی نظر نہ آتی ہو۔ اور یہ سست رفتاری کا شکار ضرور رہی ہو۔ لیکن یہ عمل ہنوز جاری و ساری ہے۔

اس سلسلے میں ہم بھی اپنی حد تک ان تعلقات میں بہتری اور رویوں میں نرمی لانے کے لیے گاہے بگاہے مختلف وقتوں میں تجاویز اور سفارشات بھجوانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ لیکن باوجود بہترین کوششوں کے با اختیار لوگوں اور طاقتور حلقوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مایوسی اور مشکلات کا سامنا رہا۔ لیکن خوش آئند بات ہے کہ لوگ ان تمام مشکلات کے باوجود بھی لگے ہوئے ہیں اور امید ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی اور معاشی حالات ان ملکوں کو بھی حالات کی بہتری کی جانب لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آج کل سماجی روابط پر سوشل میڈیا چینل نے اس کام کو کسی حد تک آسان کر دیا ہے۔ لوگوں نے اپنے آپس کے تعلقات کو سماجی روابط کے ذریعے مضبوط اور مربوط کرنے میں جدید ٹیکنالوجی اور میڈیا ویب سائٹ کو استعمال کر کے اپنے ماضی میں جھانکا ہے۔ حال کی صورتحال کو سامنے رکھ کر مستقبل کی راہوں کو متعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا کی ان چینلز پر ایسی سینکڑوں کہانیاں ان لوگوں کی زبانی سننے کو ملیں گی۔ جنہوں نے خود اس علیحدگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس درندگی کا شکار ہوئے۔ جس کو سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان متاثرین کی کہانیاں اتنی کربناک ہیں کہ مہذب انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ہی جگہ بھائی چارے سے رہنے والے ایک دوسرے پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے اور لاکھوں لوگوں کے خون سے ہولی کھیلیں گے۔ جیسے وہ کوئی انسان نہیں، کوئی کیڑے مکوڑے تھے۔ جو چند گھنٹوں میں لقمہ اجل بنا دیے گئے۔

برصغیر پاک و ہند کی سن انیس سو سینتالیس کی علیحدگی کی تاریخ اپنے بزرگوں سے سنی تھی یا پھر تاریخ کی کتابوں میں پڑھی تھی۔ کتابوں میں بیان کی گئی تاریخ شاید کئی دفعہ حکمران طبقے کے مفادات کے تابع ہونے کا تاثر دیتی ہے۔ لیکن تاریخ نویسی میں ایسے لکھاری بھی بہر حال موجود رہے ہیں۔ جنہوں نے ایک دوسرے پہلو کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دوسرے نقطہ نظر کو بھی بیان کیا جائے۔ اور تاریخ کا مشاہدہ زیادہ غیر جانبدارانہ سے کیا جائے اور سچائی اور اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

اگر صرف یک طرفہ تاریخ پر توجہ رہے تو پھر وہی حال ہوتا ہے۔ ”کہ جب ایک دفعہ مرزا غالب معاشی حالات سے تنگ تھے تو مغل دربار میں آخری مغل بادشاہ نے انہیں تاریخ لکھنے کو کہا، وہ کئی دن بعد آئے تو ان کی معاشی تنگدستی سے پریشان بیوی نے پوچھا۔ کچھ بنا؟ تو انہوں نے کہا، ہاں! بادشاہ نے تاریخ لکھنے کا کہا ہے۔ بیوی نے پوچھا۔ کچھ پیسے بھی ملیں گے؟ غالب نے جواب دیا۔ ہاں! وعدہ تو کیا ہے۔ بیوی پھر سے بولی، اگر نہ ملے؟ تو غالب نے کہا، پھر ہم تاریخ بدل دیں گے۔ فردوسی نے بھی تو ایسا ہی کیا تھا“ لیکن اس اورل یا زبانی ہسٹری کو بدلنا شاید کسی حد تک مشکل ہو کیونکہ یہ کسی کی خواہشات یا مفادات کے بوجھ تلے نہیں ہوتی بلکہ آزاد تصور کی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بیان ہونے والی یہ سچائی اب تک ان درجنوں خاندانوں کو ملوا چکی ہے۔ جو آج سے پچھتر سال پہلے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے تھے۔ اور نامساعد حالات کا سامنا کرتے کرتے اپنی جائے پیدائش کو ایک دفعہ دیکھنے کی خواہش دل میں لیے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ افسوس کہ آج اس نسل کے تھوڑے ہی لوگ باقی بچے ہیں۔ کاش! یہ سوشل میڈیا آج سے کئی سال پہلے آ گیا ہوتا تو ایسی بہت سی تاریخ کو محفوظ کیا جا سکتا تھا۔

دکھ کی بات ہے کہ نئی نسل کو تاریخ کے یہ پہلو جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پاکستان میں کئی دفعہ نوجوانوں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کے آبا و اجداد کہاں سے آئے تھے؟ وہ سوائے ایک ہنسی کے، کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔ اس کے مقابلے میں مشرقی پنجاب میں بسنے والے سکھ پنجابیوں نے اپنے ورثاء اور تاریخ کو زیادہ سمجھ بوجھ سے اگلی نسل تک منتقل کرنے میں پیش رفت کی ہے جو قابل تعریف ہے۔

یہ جان کر بڑا حوصلہ ملتا ہے کہ بہت سے تاریخ کے طالب علم اور دھنی لوگ اس شاندار کام پر لگے ہوئے ہیں اور اس کھوج میں ہیں کہ آخر کیوں انگریز راج کی موجودگی میں یہ علیحدگی پر امن نہ رہ سکی اور بڑے پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑے اور اس کشت و خون میں غیر حتمی اندازے کے مطابق چالیس سے پینتالیس لاکھ لوگ انتہائی بے رحمی سے قتل و غارت کی وادی میں دھکیل دیے گئے۔ علیحدگی کے چارٹر میں یہ تو کہیں نہیں لکھا تھا کہ ایک دوسرے کے لوگوں کو دھکے سے دیس باہر کیا جائے گا۔ وہاں تو یہ تھا کہ لکیر کے دونوں پار جو ہے اور جیسے ہی کی بنیاد پر علیحدگی ہو گی۔

1947 کی تقسیم کے انٹرویوز میں ہجرت کے دکھ جھیلنے والے ایک بزرگ کا یہ واقعہ سن کر دل بڑا رنجیدہ ہوا۔ اس سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی متاثر ہوئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب ہجرت کے لئے تیار ہو رہے تھے اور اپنا کچھ سامان بیل گاڑیوں پر لاد رہے تھے۔ تو ہمارا پالتو کتا موتی بڑی پریشانی میں یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اور ہمارے ساتھ جانے میں مضطرب دکھائی دیتا تھا۔

شاید وہ بھی اس خوفناک ہجرت کا حصہ بننے کا متمنی تھا لیکن ہم جلدی میں اس کا خیال کیے بغیر چل پڑے۔ ہجرت کے کئی سال بعد انھیں پتہ چلا کہ ان کے چلنے کے فوراًًً بعد موتی اس خالی گھر کی دہلیز پر واپس آیا۔ چار دن تک وہیں بیٹھا رہا اور بغیر کچھ کھائے پئے اسی افسردگی میں ایک دن گھر کے باہر مردہ پایا گیا۔ یہ موتی اصل میں اپنے مالکوں کے ساتھ اس وفا کو نبھانا چاہتا تھا جو آج کے مہذب انسانوں کے ہاں ناپید ہے۔

آج اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی یہ تکلیف دہ سوال بجلی بن کر گرتا ہے کہ یہ بربریت کس کی شہ پر کی گئی، ایک سکھ دانشور کا یہ کہنا تھا کہ بس انسان کب وحشت کا روپ اختیار کر لے اور عقل و فکر سے عاری ہو جائے، یہ سمجھ سے بالا ہے۔

اس دکھ و کرب میں یہ سوچ دل کو مزید بوجھل کر دیتی ہے کہ آج سات عشروں بعد بھی حکومت نے انفرادی یا اجتماعی طور پر برصغیر کے ان شہدا کے لیے معافی طلب کی اور نہ ہی اپنی حماقتوں اور غلطیوں کو تسلیم کیا۔ نازی جرمنوں کے یہودی کمیونٹی پر ظلم اور گیس چیمبروں میں ان کی ہلاکت پر آج بھی مغربی ممالک سوگوار ہیں۔ مہذب دنیا ان کے دن مناتی ہے۔ معذرتیں کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں۔ جیسے یہ جسم و جان سے مبرا کوئی اور مخلوق تھی جو بے دردی سے بے سروسامانی کے عالم میں کچل دی گئی۔ بلکہ ان معصوموں کی موت کا جشن روز واہگہ اٹاری بارڈر پر سجائی جانے والی اس پریڈ میں آزادی کے فلک شگاف نعرے لگا کر منایا جاتا ہے۔

آج ماضی کی یہ کہانیاں سن کر اور موجودہ صورتحال کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے دونوں اطراف کے شہریوں کے ساتھ کیا ہوا؟ اور آج وہ کہاں کھڑے ہیں؟ اور ان کے وہ خواب کیا ہوئے جن کے حصول کے لیے وہ ان نامساعد حالات سے دوچار ہوئے تھے؟ آج بھی اسلحے کی دوڑ، ایٹمی دھماکوں کی للکاریں، انسانوں کو لقمۂ اجل بنانے کے لامتناہی منصوبے، زمین سے ہوا میں چلنے والے دھواں دار میزائلوں کی دوڑ۔

دوسری طرف خطے کے دونوں جانب بسنے والی پونے دو ارب کی آبادی، جو ابھی تک پینے کے صاف پانی اور پولیو کے دو قطرے پینے سے قاصر، مستقل ذہنی و جسمانی معذوری کو قبول کرنے کے لیے تیار۔ کورونا ویکسینیشن سے کوسوں دور، بیماریوں کا قدرتی آفتوں سے مقابلہ کرنے میں ناکام، بے روزگاری اور بھوک و ننگ جن کا مقدر ٹھہرا۔ جدید تعلیم اور روشن خیالی سے نا آشنا، مذہب، فرقے اور نسل کے نام بربریت کے لیے یکتا، ہنگامے، بلوے اور سیاسی عدم استحکام کا شکار دنیا کا یہ سلگتا خطہ، کیا کبھی غور کرنے کی زحمت کرے گا کہ ان کا مقدر کیا ہے! میں سوچتا ہوں۔ آپ بھی غور فرمائیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •