سستی شہرت کیلئے بے تاب لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہرت، اور بڑا نام حاصل کرنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ سب ورثے میں مل جاتا ہے اور کچھ لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے کمانے کے لئے انتھک محنت اور جدوجہد کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر عزت اور نام کمانے میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آپ اپنے کسی بھی فن کا مظاہرہ کریں اور ایک ویڈیو بنا کے معاشرتی رابطے کی کسی بھی ویب سائٹ پر ڈال دیں، بہت جلد لوگ آپ کی قابلیت سے واقف ہو جاتے ہیں اور آپ عزت اور شہرت حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ کچھ لوگ جنہیں سستی شہرت کا شوق ہوتا ہے، وہ نازیبا اور اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں کر کے ویڈیوز بناتے ہیں اور انہیں خود سرعام لاتے ہیں تاکہ انہیں زیربحث لایا جائے۔

حال ہی میں کچھ مشہور شخصیات جن میں حریم شاہ اور ایک مفتی صاحب جن کا نام عبدالقوی ہے، ان کی جانب سے جو ایک ویڈیو کو منظر عام پر لایا گیا تھا جو کہ میرے نزدیک نہایت غیر مناسب ہے۔ اس نازیبا حرکت پر وہ تنقید کا نشانہ بنے اور ہر شخص نے اس رویے کی پر زور مذمت کی۔

یوں تو ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور کسی دوسرے کو یہ حق نہیں حاصل کہ وہ کسی بھی شخص کی کسی بھی حرکت پر تنقید کرے لیکن اس طرح کی نازیبا حرکتیں دنیا کے سامنے ہمارے معاشرے کا جو عکس پیش کرتی ہیں، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل کی مذمت کرنی چاہیے۔

میرا لکھنے کا مقصد ان شخصیات پر تنقید کرنا نہیں ہے، ہاں البتہ میں اس رویے کی پر زور مذمت کرتی ہوں۔ میرے نزدیک سستی شہرت کے شوقین لوگوں کے لئے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ ان کی نازیبا حرکات معاشرے پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس طرح کے غیر اخلاقی رویوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بنیادی وجہ کسی بھی قسم کی قانونی چارہ جوئی نہ ہونا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس طرح کی کئی غیر اخلاقی حرکات کا مشاہدہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔

دور حاضر میں آئے دن ہمیں اس طرح کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی شخصیات چند دنوں کے لئے تنقید کا نشانہ بھی بن جاتی ہیں مگر کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ میری ذاتی رائے کے مطابق اس کی وجہ قانونی لائحہ عمل نہ ہونا ہے۔ اگر ہمارے ذمہ دار ادارے پہلے ہی واقعہ پر کوئی کڑی سزا متعین کرتے تو اس عمل کو روکا جا سکتا تھا۔

میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں چند غیر مناسب رویوں کو کچھ زیادہ برا نہیں مانا جاتا کیونکہ ہماری ذاتی زندگی پر ان کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا مگر بحیثیت قوم دنیا کے سامنے ہمارا جو عکس پیش کیا جاتا ہے ہم اس کے حقدار نہیں۔

اگر ہم ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور اس طرح کے غیر اخلاقی رویوں پر کڑی سزائیں نافذ کریں تو اس عمل کو روکا جا سکتا ہے۔ چونکہ میرے نزدیک تو ہم ایسی تہذیب اور ثقافت کے علم بردار ہیں جو کسی بھی شخص کی کردار کشی اور بے عزتی کی اجازت نہیں دیتی، خواہ کوئی بھی وجہ ہو۔

لہٰذا ہر شخص کو عزت اور نام کمانے کے لئے کوئی مثبت راستہ چننا چاہیے۔ کوئی ایسا عمل کرنا چاہیے جس پر آپ قوم کا فخر بنیں تاکہ لوگ اپنی پہچان کے لئے آپ کا نام لینا پسند کریں نہ کہ ایسے مختصر اور تیز طریقے اپنائیں جو آپ کی تربیت پر سوالیہ نشان بن جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •