کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے دوست آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک صبح غیر متوقع طور پر گھنٹی بجی۔ میری دیرینہ دوست زہرا نقوی جو دن رات ٹورنٹو شہر کے بے گھروں کی خدمت کرتی ہیں، کا فون تھا۔ ان کی آواز میں اداسی کی آمیزش تھی۔ کہنے لگیں ہماری مشترکہ دوست ہما دلاور کو کورونا وائرس نے آن دبوچا ہے۔

میں ہما دلاور کے بارے میں سوچنے لگا جو خوبصورت نثری نظمیں لکھتی ہیں، فیملی آف دی ہارٹ کی ہر دلعزیز ممبر بھی ہیں اور نجانے کتنے دوستوں کے دل جیت چکی ہیں۔ میں نے مزاج پرسی کے لیے فون کیا تو پتہ چلا کہ اپنی تمام تر کوششوں اور حفاظتوں کے باوجود ان کا سارا خاندان کورونا وائرس کے زیر عتاب آ گیا ہے۔

میں ان کی صحت کے بارے میں خاصا فکرمند ہو گیا کیونکہ انہیں کافی عرصے سے دمے (ASTHAMA) کی تکلیف بھی تھی اور کورونا وائرس کو بھی پھیپھڑوں سے خاص لگاؤ ہے، ایسا لگاؤ جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔

میں ہر روز فون یا فیس بک یا میسنجر پر ان کا حال پوچھتا رہا اور ان کی صحت یابی کے لیے سیکولر دعائیں کرتا رہا لیکن وہی ہوا جس کا مجھے خدشہ تھا۔ ان کے خاندان والوں کی طبیعت بہتر لیکن ان کی طبیعت بدتر ہوتی گئی۔ ایک دن خبر آئی کہ وہ اوکول کے ہسپتال میں داخل ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں آکسیجن پر ڈال دیا ہے۔ میں اس دن کافی اداس رہا۔

اگلے دن اپنی پشاور کی ادیبہ دوست ڈاکٹر خالدہ نسیم کو فون کیا کیونکہ وہ بھی اوکول ہسپتال میں ہی کام کرتی ہیں۔ میں نے ان سے ہما دلاور کے کورونا وائرس کے زیر عتاب آنے کا ذکر کیا۔ کہنے لگیں کورونا وائرس کی پابندیوں اور سماجی فاصلے کی وجہ سے وہ ان سے مل تو نہیں سکتیں لیکن ان کے ڈاکٹر سے ضرور بات کر سکتی ہیں۔

ہما دلاور دس دن ہسپتال میں رہیں اور خصوصی آکسیجن کی مدد سے زندہ رہیں۔ وہ ہر روز مجھے بتاتیں کہ کن دوستوں نے فون کیا، ای میل بھیجی، وٹس ایپ پر صحت یابی کے پیغام بھیجے اور میسنجر پر دلجوئی کی۔ جوں جوں ہما کی طبیعت بہتر ہوتی گئی، ان کی زندہ دلی لوٹ آئی اور وہ لطیفے سنانے لگیں۔ ان کے مزاح میں طنز کی بھی آمیزش ہوتی۔ میں بھی فون کرتا تو کہتا:

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
اور وہ قہقہہ لگا کر ہنستیں۔

ایک دن فون کیا تو بہت خوش تھیں۔ کہنے لگیں کہ کورونا کی بیماری نے مجھے ایک نئے احساس سے متعارف کروایا ہے۔

وہ کیا؟ میں متجسس تھا۔
احساس ممنونیت۔

میں نے ان سے کہا کہ نفسیات کی زبان میں Gratefulness ایک Mature Coping Mechanism ہے جبکہ ہر وقت ہر حوالے سے شکایت کرتے رہنا ایک Immature Defense Mechanism ہے جسے احمد فراز نے اپنے شعر میں یوں بیان کیا تھا

رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے
ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں

ہما دلاور نے کہا کہ کورونا کی بیماری کے ان دس دنوں سے پہلے مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میرے اتنے دوست مجھ سے اس قدر محبت کرتے ہیں۔ وہ دوست جن سے ہفتوں بات نہ ہوئی تھی اور وہ دوست جن سے برسوں ملاقات نہیں ہوئی تھی وہ میرے بارے میں اتنے فکرمند تھے، اس کا بالکل اندازہ نہ تھا۔

ہما سے فون پر بات کرتے ہوئے مجھے کسی کا شعر یاد آ گیا
دوست آں باشد کی گیرد دست دوست
در پریشاں حالی و درماندگی

میں نے ہما دلاور سے کہا کہ دیار غیر میں فیملی آف دی ہارٹ بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کے لیے شجر سایہ دار بنیں جس کے نیچے زندگی کی تپتی دھوپ میں کچھ دیر استراحت کر سکیں۔ میں نے ان سے کہا کہ دوستی کا رشتہ مجھے انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ یہ ایسا رشتہ ہے جس میں دل کا حال سنانے سے انسان کے دکھ آدھے اور سکھ دگنے ہو جاتے ہیں۔

میں نے ہما دلاور سے کہا کہ جب انسان کسی سخت آزمائش اور بحران سے گزرتا ہے تو وہ نفسیاتی طور پر بہت طاقتور ہو جاتا ہے، اس کی جسمانی اور نفسیاتی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے، اسی لیے نطشے نے فرمایا تھا:

What Does Not Kill Us Makes Us Stronger

نفسیاتی بحران سے نکلنے کے بعد اندر کی بہت سی دھند چھٹ جاتی ہے، زندگی کی بہت سی گتھیاں سلجھ جاتی ہیں اور دوستی اور محبت کی دھیمی دھیمی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ انسانی رشتوں کا المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سے رشتوں کو Taken For Granted لیتا ہے اور دوستی کی اہمیت اور افادیت سے بے خبر رہتا ہے۔ جسمانی اور ذہنی بحران سے گزرنے کے بعد انسان کا اپنی ذات اور کائنات، اپنوں اور غیروں سے ایک نیا رشتہ استوار ہوتا ہے۔

میں نے ہما دلاور سے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کینیڈا کی شہری ہیں کیونکہ یہاں مریضوں کا علاج اچھا بھی ہوتا ہے اور مفت بھی کیونکہ یہاں ہم سب جمہوریت کی ثمرات اور سوشلزم کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ اگر کسی ایسے ملک کی شہری ہوتیں جہاں جدید طب اور سائنس کی سہولتیں مہیا نہ ہوتیں تو آپ کی جان کو سخت خطرہ ہوتا۔ آپ کی صحت یابی کے لیے گنڈا تعویز اور ٹونے ٹوٹکے سے زیادہ جدید ہسپتال اور ہائی پریشر کی آکسیجن کی ضرورت تھی۔

میں نے ہما دلاور سے کہا کہ آپ خوش بخت ہیں کہ آپ نے دوسرا جنم پایا، ورنہ اس کورونا نے موت کے فرشتے سے یارانہ کر لیا ہے اور وہ دونوں ساری دنیا کی بغیر کسی پاسپورٹ اور ویزے کے سیر کر رہے ہیں اور ہر کمزور و ناتواں کو لقمۂ اجل بنا رہے ہیں۔

یہ تو سائنس اور طب کی برکات ہیں کہ کورونا ویکسین بن گئی ہے اور اب فرنٹ لائن ورکرز کو دی جا رہی ہے۔ ان فرنٹ لائن ورکرز میں ہماری دوست زہرا نقوی اور ڈاکٹر لبنیٰ مرزا بھی شامل ہیں۔

ہما دلاور نے غسل صحت لینے کے بعد اور ہسپتال سے رخصت ہونے سے پہلے مجھے واٹس ایپ پر محبت بھرا پیغام بھیجا:

Leaving For Home In An Hour. I Knew That You Guyz Love Me But This Much Love I Had No Clue! Feeling Sooooooo Blessed. Quite Overwhelming. Thank You Very Much. Love You.

میں نے صحت یابی کی مبارک دینے کا فون کیا تو وفور جذبات سے ان کی آواز رندھ گئی اور خوشی سے میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ مجھے خوشی تھی کہ اس محاذ پر ہم جیت گئے اور موت کا فرشتہ ہار گیا۔

ہما دلاور کے کورونا سے ہسپتال میں دس دن دست و گریباں ہونے سے مجھ پر منکشف ہوا کہ کورونا وبا کی وجہ سے ہم اپنے عزیزوں اور مریضوں سے سماجی فاصلہ تو رکھتے ہیں لیکن سماجی فاصلے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان سے جذباتی فاصلہ بھی رکھیں۔ اگر ہم انہیں چھو نہیں سکتے، سر پر شفقت کا ہاتھ نہیں رکھ سکتے، ہاتھ نہیں چوم سکتے، گلے نہیں مل سکتے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ انہیں ای میل نہیں بھیج سکتے، فون نہیں کر سکتے، واٹس ایپ پر حال نہیں پوچھ سکتے اور اپنی محبت، پیار، اپنائیت اور خلوص کا اظہار نہیں کر سکتے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ طبی ادویات کے ساتھ ساتھ محبت کے جذبات بھی صحت یابی اور شفایابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ ایک محبت بھرا جملہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں گدگدی کا باعث بن سکتا ہے اور اس بیمار انسان کا انسانیت پر اعتماد اور اعتبار بحال کر سکتا ہے۔ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا اور محبت کا بے ساختہ اظہار کرنا میں نے بچوں سے سیکھا ہے۔

ہما دلاور نے مجھے بتایا کہ ان کی بیٹی ایڈن نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور نرسوں کو اپنے ہاتھوں سے ایک کارڈ بنا کر دیا اور اس کی ماں کا اور کورونا کے دیگر مریضوں کا خیال رکھنے کا شکریہ ادا کیا۔ وہ کارڈ سٹاف کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے سب کو دکھایا اور سنبھال کر رکھا۔ اس کارڈ سے ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایڈن نے لکھا تھا

Thank You For Helping My Mom And Every One Else!
There Would Not Be A Tomorrow Without People Like You.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 419 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail