’ضربِ مومن‘: کیا 1990 میں امریکہ پاکستان اور انڈیا کو جوہری جنگ کے دہانے سے واپس لایا تھا؟

عمر فاروق - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

جنرل اسلم بیگ

BBC
جنرل اسلم بیگ

یہ فروری 1990 کی ایک سرد صبح تھی۔ نئی دہلی میں امریکی فوجی اتاشی کرنل سینڈراک امریکی سفارت خانے کی عمارت سے نکلے اور بڑی رازداری سے پاکستانی سرحد کے قریب انڈین ریاست ہریانہ کے شہر حصار کی طرف روانہ ہوگئے۔

یہ وہ دن تھے جب حصار شہر انڈین فوج کے آرمی ڈویژن اور اس کے حملہ آور دستوں کی میزبانی کر رہا تھا۔

کرنل سینڈراک خفیہ معلومات حاصل کرنے کے مشن پر روانہ ہوئے تھے جس میں کسی اور کی نہیں بلکہ خود انڈین سپہ سالار جنرل وی این شرما کی براہ راست اجازت شامل تھی۔ نئی دہلی میں امریکی سفیر ولیم کلارک کی درخواست پر انڈین بری فوج کے سربراہ نے امریکی فوجی اتاشی کی ٹیم کو انڈین سرحدی ریاستوں کے دورے کی اجازت دے دی تھی جہاں پاکستانی فوج اس خدشے کا شکار تھی کہ پاکستان پر حملے کے لیے انڈیا نے اپنی فوج تعینات کر دی ہے جس میں ٹینک ڈویژن بھی شامل تھا۔

واشنگٹن میں قائم ’ہینری ایل سٹمسن سینٹر‘ جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق موضوعات پر اپنی خصوصی تحقیق کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ دسمبر 1994 میں اس ادارے نے اُن امریکی سول اور فوجی سفارتکاروں کا اجلاس بلایا جو سنہ 1990 میں جنوری سے اپریل کے دوران خطے میں پیدا ہونے والے فوجی بحران کے دوران نئی دہلی اور اسلام آباد میں امور انجام دے رہے تھے۔

اس دور میں نئی دہلی اور اسلام آباد میں تعینات رہنے والے امریکی فوجی اتاشیوں اور سفیروں کو خاص طور پر اس اجلاس میں مدعو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت رونما ہونے والے واقعات کی حقیقت کو شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں درست طور پر سمجھا اور پرکھا جائے۔

اس فوجی بحران کو ختم کرنے میں واشنگٹن نے کلیدی کردار اد اکیا تھا لہذا ان حکام کے پاس اجلاس میں بتانے کے لیے بہت کچھ موجود تھا۔ ہینری ایل سٹمسن سینٹر نے اُسی سال اجلاس میں ہونے والی اس تمام گفتگو کو من و عن شائع کر دیا تھا جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔

سنہ 1994 میں ہینری ایل سٹمسن کے زیر اہتمام واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ کانفرنس میں کرنل سینڈراک نے تصدیق کی تھی کہ ’ہم نے حصار کا دورہ کیا، یہ وہ شہر تھا جس میں انڈین بکتر بند (آرمڈ) ڈویژن تعینات تھا۔ اس کے بعد ہم بیکانیر چلے گئے لیکن وہاں ہم نے ہائی وے پر کوئی فوجی نقل وحرکت نہیں دیکھی۔ دونوں چھاؤنیوں میں ہمیں کوئی فوجی ساز و سامان نظر نہ آیا جسے سرحد پر نصب کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہو۔ پھر ہم فوجی تربیتی علاقے مہاجن کی طرف عازم سفر ہوئے جہاں بڑی تعداد میں صرف ٹینک موجود تھے۔‘

موسم سرما سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب انڈیا اور پاکستان کی بری افواج فوجی مشقیں کرتے ہیں، (انڈیا کی طرف) جنگی مشقوں کا یہ مقام بیکانیر کے قریب انڈیا کے مغرب میں واقع ایک صحرا ہوتا ہے جس کے دوسری طرف (پاکستان کی طرف) ملتان ہے جو انڈین علاقے مہاجن سے بالمقابل واقع ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ہینری ایل سٹمسن امریکہ کے نائب وزیر دفاع تھے

Getty Images
دوسری جنگ عظیم کے دوران ہینری ایل سٹمسن امریکہ کے نائب وزیر دفاع تھے

دونوں طرف کا درمیانی فاصلہ سو سے 120 کلومیٹر تک ہے۔ کرنل سینڈراک کا کہنا تھا کہ ’یہ عام مشقیں سمجھی گئیں لیکن ہمارے نکتہ نگاہ سے اس میں غیر معمولی بات کشمیر اور پنجاب میں فوجی دستوں کی تعیناتی تھی۔ سنہ 1989 سے سنہ 1990 کے دوران انڈیا کی طرف فوجی دستوں کی تعیناتی تعداد میں بہت زیادہ تھی لیکن ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جسے دیکھ کر ہم یہ کہہ سکیں کہ ٹینک اور توپ خانے جیسے بھاری ہتھیاروں کی نقل وحرکت ہو رہی تھی۔ ہمارے اندازے اور شواہد اس انڈین بیان کے مطابق ہیں کہ انڈیا کی طرف فوج میں اضافہ سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے تھا۔‘

نئی دہلی اور اسلام آباد میں تعینات امریکی فوجی اتاشی پاکستان اور انڈیا میں ایک ساتھ اور باہمی اشتراک عمل سے یہ خفیہ معلومات جمع کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف تھے۔ انڈیا میں اس ٹیم کی قیادت کرنل سینڈراک جبکہ پاکستان میں کرنل ڈونلڈ جونز اس مشن کی سربراہی کر رہے تھے۔

ان ٹیموں نے فوجی ماہرین کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جسے واشنگٹن سے ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ سرحد کے کسی بھی طرف کسی بھی جارحانہ فوجی صف بندی یا اسلحہ کی تنصیب کا نہ صرف سراغ لگائیں بلکہ ایسی کسی بھی خبر سے فوری آگاہ کریں۔

یہ ٹیمیں اپنے متعلقہ ممالک میں امریکی سفیروں کو پل پل آگاہ کر رہی تھیں اور آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ اور اشتراک بھی قائم رکھے ہوئے تھیں تاکہ پاکستان اور انڈیا میں فروری، مارچ اور اپریل 1990 کے دوران پیدا ہونے والی فوجی کشیدگی کی پوری تصویر ان کے سامنے رہے۔

یہ وہ وقت تھا جب کشمیر میں مسلح گروہوں کی سرگرمیاں زور پکڑ رہی تھیں۔

ہینری ایل سٹمسن سینٹر کے زیراہتمام منعقدہ اجلاس کے چھیالیس صفحات پر مشتمل شائع شدہ متن میں امریکی سفیروں اور فوجی اتاشیوں نے اپنے اس تجربے کو بیان کیا ہے جو انھیں سرحد کے دونوں جانب ہونے والی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں ہوا۔

انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کس طرح اس بحران کے دوران جنوبی ایشیا میں دونوں ممالک کی فوجی اسٹیبلیشمنٹ نے انھیں ملٹری انٹیلیجنس جمع کرنے کی اجازت دی۔

سفیروں نے نشاندہی کی کہ کس طرح ان معلومات سے دونوں حریف ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں، شکوک اور کشیدگی ختم کرنے کی امریکی کوششوں میں مدد ملی۔

پاکستان میں امریکی سفیر رابرٹ اوکلے بھی نئی دہلی میں اپنے امریکی ہم منصب کی طرح پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ سے اسلام آباد میں تعینات امریکی فوجی اتاشی کرنل ڈونلڈ جونز کے لیے خفیہ طور پر معلومات جمع کرنے کی اجازت حاصل کر چکے تھے۔

امریکی فوجی اتاشیوں کی خفیہ طور پر جمع کردہ معلومات کے نتائج بیک وقت واشنگٹن، نئی دہلی اور اسلام آباد بھجوائے گئے۔ خفیہ معلومات جمع کرنے کے ان مشنز نے ہی امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر رابرٹ گیٹس کی خطے میں آمد کے مشن کی راہ ہموار کی تھی تاکہ جنوبی ایشیا میں فوجی کشیدگی سے بچا جا سکے۔

اسلام آباد میں تعینات سابق فوجی اتاشی کرنل ڈونلڈ جونز نے اجلاس کو بتایا تھا کہ فروری 1990 میں انھوں نے پاکستان میں کشمیر سے کراچی تک سفر کیا تاکہ اگر کسی قسم کی کوئی فوجی سرگرمی ہو رہی ہو تو اسے جان لیں۔ ان کے مطابق صرف لاہور کے اردگرد 50 سے 75 کلومیٹر کا علاقہ ایسا تھا جہاں فوجی سرگرمیاں ہو رہی تھیں۔

ہینری ایل سٹمسن سینٹر کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کرنل ڈونلڈ جونز نے کہا کہ ’اسلام آباد اور نئی دہلی میں ہمارے دونوں سفارت خانوں کا یہی تجزیہ تھا کہ دونوں اطراف میں سے کسی کا بھی جنگ کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہمیں اندیشہ صرف یہ تھا کہ سرحد پر کسی جگہ کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جائے جس کا اس معاملے سے تو کوئی تعلق نہ ہو لیکن اس کے سبب دونوں ممالک میں جنگ چھڑ جائے۔‘

فوجی بحران کا تناظر اور اس کا بے تحاشہ زیربحث رہنے والا جوہری پہلو

دسمبر 1986 میں جنوبی ایشیا کا خطہ ‘براس ٹیک’ فوجی مشقوں کے بحران کی لپیٹ میں آ چکا تھا، یہ سلسلہ فروری 1987 کے وسط تک جاری رہا جس کے نتیجے میں پاکستان اور انڈیا دونوں جنگ کے دھانے پر آن پہنچے تھے۔ براس ٹیک بحران کے دوران دونوں ممالک کی مسلح افواج حرکت میں آ چکی تھیں تاہم دونوں ممالک کے سیاسی قائدین کی براہ راست بات چیت سے یہ خطرات ٹل گئے تھے۔

براس ٹیک فوجی مشقوں کے تین سال بعد پاکستان اور انڈیا کی افواج ایک بار پھر سینگ پھنسا چکی تھیں۔ سرحد کے دونوں جانب بڑی مقدار میں جارحانہ صف بندی اور جنگی ساز و سامان نصب کیا جا چکا تھا۔ کشمیر اور پنجاب میں مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے بارے میں تشویش میں مبتلا انڈین حکومت نے اگست 1989 کے آغاز میں اپنی افواج کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کیا جن میں بنیادی طور پر نیم فوجی دستے شامل تھے، بعدازاں اس میں پیدل سپاہ (انفینٹری) کا اس میں اضافہ ہوگیا۔

12 اپریل 1990 کو انگریزی ’روزنامہ ڈان‘ نے خبر شائع کی جس کے مطابق جنرل اسلم بیگ نے اپنے کور کمانڈرز کو بتایا کہ راجستھان سرحد کے 50 میل کے علاقے میں ایک لاکھ حملہ آور انڈین فوج کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ وہ انڈین آرمی یونٹس کا حوالہ دے رہے تھے جو مہاجن کے علاقے میں سردیوں کی مشقوں میں مصروف تھے جس کے بارے میں پاکستانی حکام کا دعویٰ تھا کہ ان دستوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع کر دی گئی تھی۔

مذکورہ خبر کے مطابق انڈین آرمی کی صف بندی کچھ اس انداز سے کی گئی تھی کہ ان کی نقل وحرکت معمول کی مدت ایک ہفتے سے کم ہو کر آدھے وقت میں ممکن ہو سکے۔

پاکستانی فوجی حکام نے پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستانی مسلح افواج انتہائی ’ہائی الرٹ‘ پر ہیں۔پاکستانی اخبارات نے جنرل اسلم بیگ کا حوالہ دے کر ان کی یہ گفتگو شائع کی کہ ’انڈین فوج کی وجہ سے سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے‘۔

پاکستان نے بھی انڈیا کے ساتھ سرحد کے اسی حصے میں ’ضرب مومن‘ کے نام سے ’کور‘ کی سطح کی فوجی مشقیں شروع کر دیں۔

’چار بحران اور امن عمل‘ کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کے شریک مصنف اور جنوبی ایشیائی امور کے ممتاز امریکی ماہر سٹیو کوہن کے مطابق ‘ہو سکتا ہے کہ ضرب مومن مشقوں کے بعد پاکستانی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے جواب میں انڈیا نے بھی جوابی قدم اٹھایا ہو۔ امن کے مقامات پر واپسی کے بجائے پاکستانی ریزور افواج ایسے مقامات پر تعینات تھیں جہاں سے عالمی سرحد کے آر پار باآسانی حملہ ہو سکے۔‘

29 مارچ 1993 کو نامور صحافی سیمور ہرش کی مشہور امریکی میگزین نیویارکر میں ’جوہری تصادم کے دھانے پر‘ کی سرخی کے ساتھ تہلکہ خیز خبر شائع ہوئی۔ اگرچہ یہ خبر فوجی بحران کے پُرامن حل کے تین سال بعد شائع ہوئی تھی لیکن قومی سلامتی کے نائب مشیر رابرٹ گیٹس اور اس وقت کے امریکی سی آئی اے کے سینیئر حکام کے آن ریکارڈ انٹرویوز نے ہرش کی خبر کی ساکھ بڑھائی۔

سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر رچرڈ کیر کا یہ بیان سامنے آیا کہ ’ہم جوہری تصادم کے نہایت قریب پہنچ چکے تھے۔ یہ کیوبن میزائل بحران سے بھی زیادہ خوفزدہ کرنے والی بات تھی۔‘

یہ خبر اگرچہ 1990 کے فوجی بحران سے متعلق کئی واقعات کی سنسنی خیزی بڑھانے کا ذریعہ بنی تاہم امریکی حکام کے آن ریکارڈ گفتگو کرنے کے بعد کئی ماہرین نے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا کہ جس طرح ہرش نے اپنی خبر میں واقعات کو بیان کیا تھا، ویسا کچھ نہیں تھا۔

ہینری ایل سٹمسن سینٹر کے اس زمانے کے صدر مائیکل کریپن نے جو عدم پھیلاؤ سے متعلق ایک جانا پہچانا معتبر نام ہیں، کانفرنس کے اختتام پر یہ کہا تھا کہ ’جب تک کوئی مزید ٹھوس ثبوت نہ مل جائے، اس وقت تک ہم یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ مشکوک شواہد سے بلاجواز اور قائل کر لینے والے ثبوت کے برعکس ہرش نے اشتعال انگیز نتائج اخذ کیے۔‘

سیمور ہرش نے اپنی خبر میں فوجی بحران کے واقعات کو ایک خاص سنسنی خیز رنگ دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ رابرٹ گیٹس کے نئی دہلی اور اسلام آباد کے دورے سے قبل جارحانہ فوجی صف بندی کے پیش نظر انڈین سرحد کے قریب پاکستان نے پہلے ہی اپنا ٹینک ڈویژن تعینات کر دیا تھا اور یہ کہ پاکستان نے اپنی جوہری افواج کو ہائی الرٹ کر دیا تھا۔

اس صورتحال سے بچاؤ کے لیے اس وقت کے امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر رابرٹ گیٹس نے مئی 1990 میں نئی دہلی اور اسلام آباد کے دورے کیے تھے جس کی وجہ سے یہ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملی تھی۔

بچاؤ کی امریکی سفارتکاری اور واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کا کردار

دوسری جنگ عظیم کے دوران ہینری ایل سٹمسن امریکہ کے نائب وزیر دفاع تھے جن کا ہیروشیما اور ناگا ساکی پر جوہری بم گرانے کے فیصلے میں اہم کردار تھا۔ بعدازاں انھوں نے اپنی زندگی دنیا میں جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے وقف کر دی۔ ہینری ایل سٹمسن سینٹر کا نام انھی کے نام پر رکھا گیا جو دنیا میں جوہری عدم پھیلاؤ کے مقصد کے لیے کام کرتا ہے۔

یہ ہی وجہ تھی کہ بعد میں ہینری ایل سٹمسن سینٹر نے سنہ 1990 کے فوجی بحران کے وقت خطے میں تعینات امریکی حکام کی ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔ امریکی حکام میں سفیروں کے علاوہ فضائیہ اور بری فوج کے اتاشی بھی شامل تھے جنھوں نے اسلام آباد اور نئی دہلی میں فوجی اور سیاسی سطح پر جو کچھ دیکھا تھا، اس کی ملاقات میں تصدیق کی۔

سنہ 1990 میں نئی دہلی میں امریکی سفیر ولیم کلارک نے اجلاس کو بتایا تھا کہ اس عرصے کے دوران امریکی سفارت خانے کے انڈین وزارت دفاع اور فوج کے اندر چونکہ بہت مضبوط تعلقات استوار تھے جس کی وجہ سے سفارت خانے کا عملہ یہ تصدیق کر سکتا تھا کہ انڈین فوج سرحد کے قریب جارحانہ انداز میں تعینات کی گئی ہے یا نہیں۔

ولیم کلارک نے بتایا کہ انھیں انڈین آرمی چیف جنرل شرما اور انڈین آرمی کی مغربی کمان کے کمانڈر روڈی راڈرکس نے یقین دلایا تھا کہ ان کی طرف سے کوئی کشیدگی نہیں ہوگی لیکن اگر پاکستان کی جانب سے کوئی کشیدگی ہوئی تو اس کا ردعمل ہوگا۔ سفیر ولیم کلارک کے مطابق ’اور یہ ہی اصل میں مسئلہ تھا۔‘

ولیم کلارک امریکی خارجہ سروس کے ایک انتہائی منجھے ہوئے سفارت کار تصور کیے جاتے تھے۔ وہ افریقہ کے تنازعات کے شکار علاقوں میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفیر رابرٹ اوکلے تعینات تھے۔ وہ بھی افریقہ کے تنازعات کے شکار کلیدی مقامات پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔

سفیر رابرٹ اوکلے نے اجلاس کو بتایا تھا کہ سنہ 1990 کے فوجی بحران کے بارے میں ان کا تصور براس ٹیک بحران سے نمٹنے کی وجہ سے بنا ہوا تھا جب وہ واشنگٹن میں قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کے مطابق براس ٹیک بحران کے وقت نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں جگہوں پر مضبوط حکومتیں قائم تھیں اور دونوں طرف ایک فون کال سے مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔

براس ٹیک بحران کے دوران پاکستان میں فوجی آمر جنرل ضیا حکمران تھے جبکہ انڈیا میں وزیراعظم راجیو گاندھی کی حکومت قائم تھی جبکہ سنہ 1990 کے فوجی بحران کے وقت انڈیا میں وزیراعظم وی پی سنگھ کی حکومت قائم تھی اور پاکستان میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو تھیں۔

سفیر رابرٹ اوکلے کے مطابق ’1989 تک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی عمومی بات تھی۔ شور شرابہ اور چیخ و پکار تو بہت ہوتی تھی لیکن سنگین نوعیت کا کوئی معاملہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر کئی واقعات ہوئے جن کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعات براہ راست تو نہیں البتہ بالواسطہ طور پر اس منظر میں ٹھیک ٹھیک جا بیٹھتے ہیں۔

’ان میں سے ایک افغانستان سے روس کا انخلا تھا جس کی بنا پر پاکستانی فوج بلاشبہ فخر کے احساس میں مبتلا تھی کیونکہ انھوں نے اس میں کردار ادا کیا تھا۔ لہذا ‘ضرب مومن’ مشق پاکستان کی قوت کا اظہار تھا، اس میں ایک پیغام یہ تھا کہ پاکستان انڈین علاقے میں گھس کر کارروائی کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے جس کی وجہ سے سرحد کے دوسری طرف لوگ گھبراہٹ اور غصے کا شکار تھے۔’

رابرٹ اوکلے نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستانی فوج کے اندر بعض لوگوں نے یہ سوچ بچار شروع کر دی تھی کہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ کیسے مسلح جنگجوؤں کی جدوجہد کا انتظام و اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ روسیوں کے خلاف ان کا یہ فارمولا کامیاب رہا لیکن ماضی میں کشمیر میں انڈیا کے خلاف یہ ناکام رہا تھا۔

ایران سے رابطے اور سٹرٹیجک گہرائی کی باتیں

ایران میں انقلاب برپا ہونے پر امریکہ اور ایران کے تعلقات انتہائی تیزی سے تنزلی کا شکار ہوگئے اور سنہ 1990 تک یہ تعلقات ممکنہ حد تک بدترین خرابی کی نہج پر پہنچ چکے تھے۔ امریکی اس خطے میں اپنے ’سب سے قریبی اتحادی‘ پاکستان اور بدترین دشمن ایران کے درمیان کسی قسم کے تعاون کے حوالے سے خاص طور پر حساس تھے۔

اسلام آباد میں امریکی سفیر رابرٹ اوکلے نے ہینری ایل سٹمسن سینٹر کے زیراہتمام کانفرنس کو بتایا تھا کہ پاکستانی فوج اور خاص طور پر چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ حیران کن حد تک خطے میں فوجی صورتحال پر ضرورت سے زیادہ پراعتماد اور پرسکون تھے۔

ان کے مطابق ایران نے جنرل بیگ کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر پر کسی جنگ کی صورت میں بھرپور فوجی مدد فراہم کی جائے گی۔ جنرل بیگ اور آرمی میں موجود کچھ سینیئر افسران نے اسے نہایت ہی معنی خیز قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارا اندازہ تھا کہ انڈیا کے ساتھ کسی تنازعے کی صورت میں ایران کے پاس فوجی مدد کے لحاظ سے پاکستان کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔

’اس وقت سٹرٹیجک گہرائی کی باتیں بہت ہوا کرتی تھیں جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ اپنی فوج افغانستان اور ایران کے اندر لے جائیں۔ جب آپ ملک کی غلط سمت میں موجود ہوں تو سٹریٹیجک گہرائی کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ولیم کلارک اور انھوں نے واشنگٹن کو مشترکہ تجویز دی تھی کہ وہ اس صورتحال میں مداخلت کرے اور فریقین کو کسی تنازع میں الجھنے سے بچانے کے لیے دہلی اور اسلام آباد کے ساتھ براہ راست سفارت کاری شروع کرے۔ اس کے نتیجے میں سی آئی اے کے نائب سربراہ رابرٹ گیٹس نے اسلام آباد اور نئی دہلی کا دورہ کیا اور دونوں اطراف کو جنگ کے نتائج سے آگاہ کیا۔

زیادہ تر ماہرین اور امریکی حکام نے کیوں سوچا کہ بحران بڑھنے کے جوہری نتائج ہو سکتے ہیں؟

نیویارکر میں سنہ 1993 میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں سیمور ہرش نے لکھا تھا کہ ’نئی دہلی میں وی پی سنگھ حکومت سے ملنے والی معلومات کے مطابق پاکستانی صدر غلام اسحاق خان نے قومی سلامتی کے نائب امریکی مشیر رابرٹ گیٹس سے کہا تھا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان ابتدائی مرحلے میں اپنے جوہری ہتھیار استعمال کرے گا۔ گیٹس نے یہ بات نئی دہلی میں دوہرائی۔‘

جنوبی ایشیا کے سٹرٹیجک امور کے تین ماہرین پی آر چاری، پرویز اقبال چیمہ اور سٹیو کوہن سیمور ہرش کے اس دعوے پر یہ موقف رکھتے ہیں کہ ’پاکستانی حکام کی تو کیا بات کریں خود گیٹس مشن کے کسی بھی رکن نے ہم سے انٹرویو میں اس قیاس آرائی کی حمایت نہیں کی۔‘

ہرش کے دعوے پر اس وقت اسلام آباد اور نئی دہلی میں تعینات امریکی سفارتکاروں اور فوجی حکام نے بڑے پیمانے پر تنقید کی تھی۔ سنہ 1990 کے بحران کے دوران پاکستانی ایف سولہ طیاروں کے اڑان بھرنے کے لیے تیار کھڑے ہونے کے ہرش کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی ایئر اتاشی کرنل ڈَن جونز نے قرار دیا کہ ‘میں نے مضمون پڑھا تو یہ اس میں سب سے زیادہ احمقانہ الزام تھا۔‘

اس کے برعکس اسلام آباد میں اس وقت تعینات امریکی سفیر رابرٹ اوکلے نے قومی سلامتی کے نائب مشیر رابرٹ گیٹس اور پاکستانی صدر غلام اسحاق خان سے اپنی ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل بیان کی کہ ’اسلام آباد میں گیٹس اکیلے صدر غلام اسحاق خان اور بری فوج کے سربراہ جنرل بیگ سے ملے اور درپیش تاریک صورتحال پر اپنا جائزہ پیش کیا۔ سب سے پہلے انھوں نے صدر کو بتایا کہ کشمیر میں گوریلا جنگ نہیں ہوگی (بلکہ) پوری عالمی سرحد پر روایتی جنگ ہوگی۔ انڈین بحریہ کراچی پہنچ سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انڈین فضائیہ پاکستان کے اندر تک کے علاقوں میں گھس آئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ صدر کے لیے بے حد چشم کشا تھا کیونکہ ایسا دکھائی دیا کہ انھیں ان حقائق کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔‘

ہینری ایل سٹمسن سینٹر کی کانفرنس اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ سنہ 1990 کے بحران کا کوئی جوہری پہلو نہیں تھا اور یہ کہ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ غور و خوض اور تحقیق کے بعد کانفرنس کے شرکا اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی ایسی ٹھوس شہادت یا ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ پاکستان نے اس بحران کے دوران جوہری ہتھیار نصب کیے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp