جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون اور سندھ میں بڑھتی انتہاپسندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(سیما رانا مہشوری)

\"\"کراچی پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی، دہشت گردی اور مسلک و عقیدے کے نام پر امتیازی سلوک اور تشدد کا رجحان رواداری اور تکثیریت کے حوالے سے پہچانے جانے والے سندھ کے صوبے کا بھی رُخ کر رہا ہے۔ صوبائی دار الحکومت کراچی میں مسلک و عقیدے کی بنیاد پر تشدد تین دہائیوں سے جاری ہے لیکن سندھ میں حالیہ برسوں میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال جون کی بات ہے کہ ایک شام بدین شہر کے علاقے واٹر سپلائی میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والا 13 سالہ عمران اپنے گھر کی چھت پہ ٹہل رہا تھا کہ اسے وہاں ایک تھیلی ملی عمران نے جیسے ہی اسے کھولنے کی کوشش کی تو دھماکہ ہوگیا، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ پولیس نے عمران کو سول ہسپتال میں داخل کروا کے گھر پہ کارروائی کے دوران انٹیلی جینس کو مطلع کیا، اور حیران کن طور پر بعد میں عمران اور اس کے گھر کے چار افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم جگہ لے گئے ۔ عمران کے استاد عباس گریز نے واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہں ہے۔ گزشتہ برس کی بات ہے کہ ہمارے مذہب کی بنا پر ضلع کے کچھ لوگوں نے کوٹ ٹنڈو باگو میں مقدمہ درج کر کے گاؤں کی مسجد میں ہماری نماز پڑھنے پر پابندی لگا دی۔ پھر دکانداروں و تاجروں کو پابند کیا گیا کہ ہمارے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہ کریں اور اب یہ واقعہ پیش آیا ہے، پولیس بھی تفتیش کرنے کی بجائے ہمارے ہی لوگوں کو ساتھ لے گئی ہے، یہ واقعہ بھی ہمیں ڈرانے کی ایک کوشش ہے۔

پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کے لیے ذاتی قوانین کی عدم موجودگی، ہندو لڑکیوں کی جبراً مذہب کی تبدیلی، اغوا کاری، زیادتی اور جبراً شادی جیسے مسائل عام ہیں۔ جبراً مذہب تبدیلی اور شادی جیسے معاملات میں قانون کے مطابق لڑکی کے سر پرست کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔  نصابی کتب میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تقسیم کے بعد سے چلے آنے والے تنازعات کو بنیاد بنا کر ہندوؤں کے بارے میں منفی رجحانات کو ابھارا جاتا اور ان کو دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب کہ دیگر مذاہب کے بچوں کو اپنے مذہب کی تعلیم کا حق بھی حاصل نہیں۔

حال ہی میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے دیگر مذاہب کے لوگوں کے لئے اسلامیات کے متبادل کے طور پر اخلاقیات کا مضمون متعارف کیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والے ہندو، مسیحی، سکھ، اور احمدی اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کیوں نہیں کر سکتے۔ جب کہ اکثریتی مذہب کو یہ سہولت حاصل ہے، جب کہ آئین کی دفعہ (22) کے مطابق کسی بھی طالب علم کو اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کے مطالعہ پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ موجود ہونے کے باوجود بھی کئی اداروں میں صفائی و ستھرائی جیسے کام اقلیتوں کے لوگوں کو مختص کر کے ان کی ظاہری تعداد پانچ فیصد نمایاں کر لی جاتی ہے، اکثر اشتہارات میں صفائی ستھرائی سے متعلق نوکریوں کے لئے صرف اقلیتی لوگوں کی درخوا ستیں قابل قبول ہوتی ہیں۔

حکومتی اور انتظامی سطح پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا ہے، جس نے اقلیتی مسلک اور مذہب کے لوگوں میں شدید عدم تحفّظ کو جنم دیا ہے۔ صرف گزشتہ تین ماہ میں ہندوؤں کو پیش آنے واقعات کی فہرست کافی طویل ہے۔ جیسے 9 سالہ درشنہ عمرکوٹ میں اغوا کر کے قتل کر دی جاتی ہے۔ کھپرو میں رہنے والی 17سالہ گڈی زمیندار کے بیٹے کی من مانی سے انکار پر مار دی جاتی ہے۔ حیدرآباد کلب میں 11 سالہ اندرونیت کو زیادتی کے بعد قتل کرکے سومینگ پول میں پھینک کر حادثہ قرار دے دیا جاتا ہے جب کہ بچے کے جسم پر تشدد کے نشان بھی پائے گئے۔  14 سالہ و جیش غریب کسان سونو کولی کے بیٹے کو ٹنڈو غلام حیدر بدین روڈ کے قریب بد ترتن تشدد کا شکار بنا کر کھیتوں میں قتل کر دیا گیا۔ اس سے قبل گھوٹکی میں 90 سال کے ضعیف شخص کو رمضان کے مہینے میں کھانا کھانے کے جرم میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی قسم کی نفرت آمیزی کا شاخسانہ تھا کہ گھوٹکی میں ایک ہندو نوجوان، جو نفسیاتی عارضے کا شکار تھا اور بعض اطلاعات کے مطابق اسلام قبول کرچکا تھا، مسجد کے اندر جلائے جانے والے صفحات میں صرف شبہ کی بنا پر کہ اس نے قرآن پاک جلا دیا ہے، اس الزام کو جواز بنا کر وہاں دو ہندو نوجوان قتل کر دیئے گئے۔ اس واقعہ سے وہاں کی رہائشی ہندو آبادی میں شدید خوف و ہراس کا ماحوال پیدا ہوا اور وہ کئی دن تک اپنی دکانیں اور کاروبار بند کئے رہے۔

حالیہ دنوں میں سندھ اسمبلی نے ہندو برادری کی لڑکیوں کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون سازی کی تو کئی مذہبی جماعتوں نے اس کے ردعمل میں دفاع اسلام کے نام پر ریلی کا انعقاد کیا اور حکومت پر اس قانون میں ترمیم کے حوالے سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اسی دوران حساس اداروں کی جانب سے وارننگ بھی جاری کی گئی ہے، جس میں اراکین سندھ اسمبلی پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طرح کی خبریں عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھاوا دے رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply