دنیا، لوگ اور میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ کسی کام سے ایک دوست کے ساتھ مکتب کے قریب سے گزر رہے تھا۔ مکتب اس دورانیہ سردیوں کے تعطیلات کی وجہ سے بند تھا۔ اس کی عمارت کافی دلکش تھی۔ دوست نے کہا چند لمحے کے لیے مکتب کے لان میں چہل قدمی کرتے ہیں تو میں نے اس کے اصرار کا مان رکھا اور ہم مکتب میں داخل ہو گئے اور جگہ پر بیٹھ گئے۔ یہ سہ پہر کا وقت تھا اور سورج بھی اپنی دھیمی تپش کے ساتھ ابھی تک آسماں پر تھا۔

سامنے وسیع و عریض لان میں بچے اور بچیاں تصویر کشی کر رہے تھے اور محتصر دورانیے کی ویڈیوز موبائل فون سے بنا رہے تھے۔ یہ وہ بچے اور بچیاں تھے، جو یہاں قریب ہی رہائش پذیر تھے اور گھروں میں الجھن محسوس کرنے کے بعد یہاں کچھ سکھ کا سانس لینے کے لیے آئے تھے۔ ہمارا دوست بھی عکاسی میں دلچسپی لیتا تھا، چنانچہ وہ بھی پھولوں اور پتوں کی تصویر کشی کرنے لگا۔

 میں وہاں پہ کھڑا اس خیال میں گم ہو گیا کہ خدایا! یہ دنیا کتنی عجیب اور منفرد ہے۔ یہاں ہر شخص کو اپنی ذات سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں عزیز نہیں۔ اگر کوئی صرف تصویر میں ایک لمحے کے لیے اچھا دکھائی دیا تو وہ اس کے لیے سب سے اہم لمحہ ہوتا ہے۔ بس اس کی سوچ یہیں تک محدود ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ سے مطمئن ہو جاتا ہے کہ شکل و صورت کے لحاظ سے تھوڑا بہت بہتر ہے اور بعد میں ممکن ہے کہ یہ کہیں کام آ جائے۔

بعض لوگ تو نہایت ہی عمدہ ملبوسات زیب تن کر کے اچھی سی گاڑیوں میں مہنگے سیل فون ہاتھ میں تھامے ، غرور و تکبر کا اظہار کرتے ہوئے چلتے تھے جیسے دنیا میں جی تو صرف یہی لوگ رہے ہیں۔

پھر خیال آیا کہ چلو یہی ان کی  عمر ہے۔ اس عمر میں یہ بچے اور بچیاں لطف نہ اٹھائیں تو کب اٹھائیں گے؟ لیکن معاملہ یہاں پر رکا نہیں۔ پھر اسی لمحے مجھے اس شخص کی فکر ستانے لگا، جن کی آدھی داڑھی میں سفیدی تھی اور وہ چند لمحے پہلے ایک روٹی خریدنے کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے جا رہا تھا۔ اس کے لئے ایک روٹی خریدنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ عدل، انصاف اور مساوات ، یہ سب الفاظ مجھے وہاں مذاق سے لگے۔

میں دعویٰ تو نہیں کر سکتا لیکن جہاں تک دنیا کے مقابلے میں میری ذات کا تعلق ہے۔ میں نے ہمیشہ رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر انسان اور انسانیت کو اہمیت دی ہے۔ تو کیا دنیا بھی میری طرح سوچتی ہے؟ یا یہ تفریق دنیا والوں نے خود ہی بنائی ہے۔

میں وہاں کھڑے ہو کر دو طرح کی زندگیوں کا مشاہدہ کر رہا تھا اور ہزاروں ایسے سوالات میرے ذہن میں گونج رہے تھے جن پر سوچا جا سکتا ہے۔ اتنے میں آواز آئی: ”بھئی! میرے سیل فون کی بیٹری ڈاؤن ہو گئی ہے۔” تو میں نے طنزیہ انداز میں دریافت کیا کہ اگر آپ کی تصویریں ابھی بننا باقی ہیں تو ہم دوسروں بیٹری منگوا لیتے ہے۔  اس پر ہم دونوں ہنسے اور چل دیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •