چوہدری کالم نگار کے ٹوٹکے اور ایک مطمئن ناکام آدمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس ادھیڑ عمر جوان نے اپنے ہاتھوں میں تھامے بون چائنہ کے مگ سے چسکی بھری، یہ کپ واضح طور پر روسی ساختہ ہرگز نہ تھا۔ نہ ہی چائے سے Kopi Luwak کافی جیسا کوئی اروما (Aroma) پورے ڈرائنگ روم کو معطر کر رہا تھا۔ اس نام نہاد ڈرائنگ روم میں کوئی دبیز ایرانی قالین تک نہ تھا۔ جوتے اس کے یقیناً اطالوی نہ تھے , نہ وہ بلیزر نما شے جو اس کے نامتناسب وجود کو ڈھانپ رہی تھی , اس کا تعلق فرانس سے ہونے کا کوئی احتمال۔ مگر پھر بھی اس جوان کی آنکھوں میں مسرت اور طمانیت کھیل رہی تھی۔

اس نے چائے کا ایک اور گھونٹ بھرا اور براہ راست متکلم ہوا کیونکہ یہی ہونا قدرتی تھا کہ ہاتھوں میں کیوبن سگار نہ تھا جس کا کش لے کر تھوڑی دیر خاموش رہ پاتا،  خیر، اس اسرار سے عاری ماحول میں اس کے الفاظ ظاہر ہے، ابھرے نہیں بس سنائی دیے کہ ”ہاں میں نے ایک نہایت کامیاب ناکام زندگی گزاری ہے“ فطری طور پر بغیر چونکے یا حیران ہوئے وجہ دریافت کی ، اس سے پہلے کہ اس وجہ کو بیان کروں، کچھ دلچسپ حقائق سے آپ کا مزید وقت ضائع کرنا چاہوں گا۔

اک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے دس برسوں میں جو کتب بیسٹ سیلرز  کے مقام پر فائز رہیں تقریباً سب کی سب Success Coaching، Self Help کے قبیلہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک اور انتہائی محتاط اندازے کے مطابق How to Be Come A Billionaire وغیرہ وغیرہ جیسی کتب کے خریداروں کی تعداد اور اصل حقیقی Billionaires میں آسمان اور زمین جیسا فرق ہے جس کی وجوہ ماہرین آج تک تلاش نہ کر سکے۔

وہ نوجوان انتہائی غیر دلچسپ طریقے سے اپنی کہانی سنانے لگا جیسا کہ اکثر ایسے بوریت زدہ لمحات میں ہوتا ہے کہ کھجلی کی لہر وقتاً فوقتاً جسم کے اعضائے رئیسہ اور غیر رئیسہ میں ابھرتی ڈوبتی رہتی ہے، ویسا ہی میرے ساتھ ہوا مگر اس کی کہانی پھر بھی سننے کے قابل ہے ”طفل مکتب تھا کہ جب والد صاحب کی اخبار سے رغبت کے باعث اخبار کے ادارتی صفحے سے روشناس ہوا۔ زندگی میں کوئی شے بھی بنا محنت کے نہ ملی تو قضائے حاجت اکبر میں وقت اور قوت دوسروں سے زیادہ صرف ہوتی۔

ادارتی صفحے کی ہمراہی میں تھوڑی سہولت ہوتی کہ وقت کٹ جاتا، ان دنوں ابھی موبائل فون عام دسترس میں نہ تھے۔ چوہدری نامی ایک کالم نگار  نے اپنی کہانی باز طبیعت اور تحریر سے کچے ذہن کو گرویدہ کر لیا، خصوصاً زندگی کے ٹوٹکو ں پر جو کہانی ڈالتے ، وہ وہیں ازبر کرتا اور اس اصول زندگی پر کار آمد ہو جاتا۔

میرا بچپن اور جوانی ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں ، وضاحت کے لئے ایک دو کہے دیتا ہوں۔ دو تین کالموں کا سلسلہ لکھا گیا خلاصہ جس کا یہ تھا کہ میٹھی مسکراہٹ فاتح عالم ٹھہرتی ہے۔

تحریر میں ان کی مثال سے واضح کیا گیا تھا کہ کیسے ایڈورڈ صرف مسکراہٹ کے ہتھیار سے غربت کے عفریت سے جان چھڑوا کر دنیا کے چونتیس ملکوں میں اپنا کاروبار پھیلا چکا وغیرہ وغیرہ۔ لو جی دل میں ٹھانی کہ کامیابی کا اس سے سہل راستہ کوئی نہیں ہو سکتا ۔ گھنٹوں آئینہ کے سامنے مشق کر کے اپنی مسکراہٹ کو مناسب میٹھا کیا۔ مگر ایک ہفتہ میں ہی ادراک ہو گیا کہ سرکاری سکول کے اساتذہ کامیابی کے اس اصول سے یکسر نابلد ہیں کہ جسمانی تادیبی کارروائی کا وہ کوٹہ جو اندازہً ایک ماہ میں مکمل ہونا تھا، اس میٹھی مسکراہٹ نے ایک ہفتہ میں مقرر ہدف سے متجاوز کروا دیا۔ زندگی جیسے جیسے ڈھلتی گئی yes، you can بھی آزمایا۔ مگر ہم سے نہ ہو پایا۔

Anything is within your power and your power is within you تو یہ پاور ویسی برآمد نہ ہوئی جیسا کہ توقع تھی کئی بار I don’t believe in making the right decision، I make a decision and then make it right۔ بھی کیا اور ہر بار گھاٹا کھایا۔

عاطف حسین کا خیال مستعار لوں گا ”کامیابی کے کسی یونیورسل تصور کا خیال ہی عبث ہے اور ایک ہی طرح کا کوئی تصور زور خطابت و کتابت کے ذریعہ سب پر ٹھونس کر متنوع مزاجوں کے حامل انسانوں کو ان کے فطری راستے سے بہکا کر کسی خاص راستے پر چلانے کی کوشش کرنا قابل مذمت اور نتائج کے اعتبار سے خطرناک ہے۔ اسی طرح یہ خیال بھی مضحکہ خیز ہے کہ کوئی ایسا Success Coach بھی ہو سکتا ہے جو ہر مزاج اور پیشے کے آدمی کو کامیابی کے گر بتائے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شعبہ کا ماہر اسی شعبے کے متعلقہ لوگوں کی رہنمائی کردے“

اپنی قسمت کا معمار خود ہونے کے تصور، کسی Hyper Optimistic نظریے پر یقین رکھنے سے انسان واقعی اپنی قسمت کا معمار تو نہیں بنتا Deranged Self Esteemکا شکار ہو کر Illusional یا Delusional ضرور ہو جاتا۔ مقصد سستی اور بیزاری کا فروغ ہرگز نہیں، محنت لگن اور مستقل مزاجی کی افادیت سے کسے انکار۔ تنقید محض زندگی اور دنیا کو Over Simplify اور Hyper.Optimise کرنے پر ضرور کہ زندگی ایک پیچیدہ عمل جس پر لا تعداد عوامل اور ان عوامل کے ان گنت تعامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

جب اس جوان نے اپنی کہانی مکمل کی تو اس کی آنکھوں میں دوبار وہی طمانیت در آئی جو طویل ناکام زندگی نے اس پر طاری کر دی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •