کہیں جمہوریت کی بساط لپٹنے والی تو نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوتی ہماری نسلوں کو کم ازکم وہ دو دور تو اچھی طرح یاد ہیں جب اندرونی سیاسی عدم استحکام اور بیرونی بنتے حالات نے ہمارے ہاں جمہوریت کی بچھی بساط کو لپیٹ کر ملک کو آمریت کے حوالے کر دیا۔ ان میں ایک وہ دور تھا جب 70 کی دہائی میں ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک کو جواز بنا کر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دوسرا اس وقت جب اکتوبر 1999 میں سابق صدر پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر جیل میں ڈال دیا اور اگلے نو سال کے لئے حکمران بن بیٹھے۔

ان دو تبدیلیوں کو یاد رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ناں صرف اندرونی سیاسی انتشار قریب قریب وہی ہے بلکہ دنیا میں اور خصوصاً ہمارے ارد گرد کے خطے میں بھی حالات انہی وقتوں کی طرح امن سے جنگ کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا جو کچھ عرصے سے قیادت کے شدید بحران سے دوچار تھی۔ اب مزید غیرمحفوظ ہو گئی ہے۔ ماضی قریب میں جو ممالک پہلے انفرادی طور پر اپنے اپنے مفاد کے دفاع کے لئے ایک دوسرے سے نبردآزما تھے۔ اب واضح طور پر دو بلاکوں میں تقسیم ہوچکے ہیں جن میں ایک تو امریکہ اور اس کے ساتھی ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنا دشمن قرار دے رکھا ہے جب کہ ان دونوں بلاکوں سے کچھ فاصلے پر وہ ممالک بھی موجود ہیں جو ماضی میں امریکہ کے اتحادی رہے اور اب ان بدلتے تناظر میں اپنے حوالے سے نئے فیصلے کرنے کے لئے حالات پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

دنیا پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیرمحفوظ، غیرمستحکم اور عدم تحفظ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا کا واحد قائد ہونے کا دعویدار امریکہ نسلی جنگ، کرونا کے بدترین نقصان اور گری ہوئی معیشت کی بدولت پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکلات میں گھرا نظر آ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی ٹکر کی دو قوتوں روس اور چین کو بھی اپنے سامنے کھڑا کرنے کا ناخوشگوار فریضہ شاید خود اپنے ہاتھوں سرانجام دے چکا ہے اور سرد جنگ کے وقتوں کی دنیا اب اس سے دس قدم آگے جا کر نئے بحرانوں کے خدشات سے دوچار ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اندرونی طور پر ”خاص قوتوں“ کی مدد سے الیکشن جیت کر سابق صدر ٹرمپ کو تو گھرکا راستہ دکھا کر ”کامیاب“ قرار دیے گئے ہیں لیکن یہ کامیابی جس کمزور بنیاد پر حاصل کی گئی ہے۔ اس کو اندھا بھی محسوس اور دیکھ سکتا ہے کہ خود صدر بائیڈن اور ان کے ہمنواوں میں سے کوئی بھی مکمل طور پر آسودہ اور مطمئن نہیں ہے۔ امریکی اس وقت سفید فام اور غیر سفید فام میں تقسیم قوم نظر آ رہے ہیں اور ان کو ایک بار پھر واپس متحد کر کے امریکہ کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ یعنی یونائیٹڈ سٹیٹ آف امریکہ بنانا سب سے بڑا مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ دنیا کی کل آبادی کے صرف چار فی صد پر مشتمل اس ملک میں دنیا کے اندر پائے جانے والے فائر آرمز یعنی انفرادی طور پر استعمال ہونے والے اسلحے کا قریبا چھیالیس فی صد اس ملک میں موجود ہے۔ دنیا میں اسلحہ بیچتے بیچتے امریکہ خود اپنے شہریوں کو بھی اس سے لیس کرچکا ہے اور یہی وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے ملکی اندرونی امن کے ذمے دار ادارے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ کچھ ناخوشگوار واقعات خصوصاً سال کے شروعات میں کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے نے بہت سارے خدشات کو ہوا دی ہے اور ہوم لینڈ سیکورٹی کی حالیہ الرٹ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ امریکہ اندرونی طور پر بھی غیرمحفوظ ہے اور کسی بھی وقت اس کے اندر اپنے ہی لوگوں سے حملے کا خطرہ ہے۔

کرونا جبڑے کھولے امریکہ پر حملہ آور ہے۔ معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ امیگریشن کے معاملے پر عدالت نے نئے صدر کو اپنے فیصلے پر عمل درآمد سے روک دیا ہے۔

امریکہ کے حالات کا تذکرہ کرنا ہمارا سب سے بڑا مقصد نہیں ہے بلکہ ان حالات کی روشنی میں دنیا کے ”واحد لیڈر“ ملک کا حوالہ دے کر اپنے اردگرد کے حالات اور ان کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرنا مقصود ہے۔

نا صرف امریکہ بلکہ اس کے دو رتن ہندوستان اور اسرائیل بھی اپنے اندر کے حالات کی بدولت ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل میں نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیل کی پارلیمان تحلیل ہو چکی اور ہندوستان کے لال قلعے پرسے ترنگا اتر چکا۔ حالت یہ ہے کہ امریکہ کے ان دو اتحادی ممالک میں قوم ایک طرف اور ان کی حکومتیں دوسری طرف کھڑی ہیں۔ ان کی حکومتیں چاہتی ہیں کہ ان کی افواج ملک کے اندر کے حالات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ہندوستان کے صحرائے تھر سے پاکستان پر اور اسرائیل سے ایران پر حملہ آور ہوں لیکن ان حکومتوں کی یہ خواہشات بھی پوری ہوتی نظر نہیں آ رہیں کہ افواج نے حکومتوں میں موجود سیاسی قوتوں کو سیف ایگزٹ دینے سے معذرت کرلی ہے۔

یہ وہ تصویر ہے جو دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھنے والے اس ٹرائیکا کی کہانی سنا رہی ہے لیکن پھر بھی اس ٹرائیکا کے اندر بھی الگ سے اپنا کھیل کھیلنے والا اسرائیل ایران پر حملہ کر کے ہر صورت چین کے مفاد کو زک پہنچانے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ اسرائیل اپنے نئے دوستوں خصوصاً یو اے ای اور کہیں کہیں سعودی عرب وغیرہ کو خوش کرنے کے نام پر ایران کے چابہار پر وار کرنے کے چکر میں ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا چین اس صورتحال میں خاموش رہے گا اور پاکستان، ایران اور ترکی کے ٹرین کا راستہ روکنے کی کسی کوشش کے سامنے کون کون ہوگا؟ چابہار سے بھارت کے محروم ہونے کے بعد چین اب ایران کا مضبوط اتحادی بن کر سامنے آیا ہے اور پاکستان اور ترکی بھی اپنے مستقبل کو چین سے شروع ہونے والے سی پیک سے وابستہ کرچکے ہیں۔ ایسے میں اس سی پیک کے ان کے خواب کو چکناچور کرنے کی کوشش کرنے والا اسرائیل کیا صرف ایران سے لڑ رہا ہوگا یا کوئی اور بھی اپنے اتحادی کو بچانے میدان میں نکلے گا؟

جو بائیڈن کے انتخاب کے ساتھ ہی امریکہ اور روس کا ایک دوسرے کے لئے غصہ بھی ابھی ٹھنڈا ہونا باقی ہے جس کے بعد بھی اگر کسی کو شک ہے کہ روس اس خطے میں کسی امریکی جنگ کے دوران غیرجانبدار رہے گا تو اس کو ذرا ایک بار پھر اپنے نوٹس پر نظرثانی کرنی ہوگی۔

افغانستان میں طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے پر صدر جو بائیڈن کی جانب سے نظرثانی کے اعلان اور پینٹاگون کا طالبان کے خلاف بیان سے افغانستان میں موجود بعض عناصر جہاں بغلیں بجا رہے ہیں۔ وہی پر بھارت بھی یہ سوچ رہا ہے کہ افغانستان میں اس کے مفادات کی ڈوبتی کشتی کو شاید کچھ مزید وقت مل گیا ہے لیکن معاہدے کی نظرثانی کا اعلان کرنے والے امریکی صدر کو ایسا کرتے ہوئے اس پر کئی بار سوچنا ہوگا کہ کیا وہ افغان حکومت کے ساتھ مل کر افغان طالبان اور وہاں موجود داعش کو قابو میں لا سکتا ہے؟

ان حالات کو دیکھنے والے پاکستانیوں کو شاید بہت واضح طور پر اپنے مستقبل کا نقشہ نظر آنا چاہیے کہ جب ملک میں سیاسی استحکام نہیں، اپوزیشن حکومت کو مزید ایک لمحے کا سکون دینے کو تیار نہیں اور دنیا میں بدلتے حالات نئی کہانی سنا رہے ہوں تو پاکستان میں کیوں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں کوئی کمزور خوش گمانی رکھی جائے؟ 27 جنوری کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کی منسوخی ایک واضح اشارہ ہے کہ اس اجلاس کے ایجنڈے پر موجود مردم شماری کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے سے ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے مابین جدائی کا جو راستہ روکا گیا ہے۔ وہ بھی کوئی سیاسی موو نہیں بلکہ اس کے تناظر میں بھی وہ بہت سے خدشات ہیں جو اس وقت بھارت میں عدم استحکام اور ایران کو دھمکیاں دینے والے اسرائیل کی وجہ سے سر اٹھا چکے ہیں۔

غرض یہ کہ دنیا واپس گھوم پھر کر اسی جگہ پر آ چکی ہے۔ جہاں سے یہ گزشتہ چار دہائیوں میں دو بار گزر چکی ہے اور جب سب نے انہی حالات سے گزرنا ہے تو ہم کیسے اس سے بچ سکتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ہم اس صورتحال کے لئے بطور قوم کتنے تیار ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •