دو پوپ: ایک منفرد ڈراما فلم

’’ہماری آج کی دنیا ہر گزرتے دن ظلم میں دھنستی جا رہی ہے۔ یہ ظلم صرف دہشت گردی جبر اور نا انصافی ہی نہیں۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار وہ معاشی نظام ہے جس میں دنیا کی بیس فیصد آبادی کرۂ ارض کے وسائل پر قابض ہو کر باقی انسانیت اور آئندہ نسلوں سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔ جیسا کہ فرمان خداوندی یسوع ہے کہ کسی انسان کو ہرگز قتل نہ کرو۔ یہ حکم واضح حد

Read more

فارگو سیزن تھری کا ایک سین اور ریاست سے غداری

آپ بخوبی دیکھ اور کسی حد تک محسوس بھی کر سکتے کہ یہ ایک سرد اور بے جان عمارت ہے۔ ایک کمرے میں عمارت سے مطابقت کھاتا فوجی افسر اپنے ڈیسک پر موجود ہے۔ دوازہ مکمل کھل گیا ہے تو اب دیکھ سکتے ہیں کہ وہ بیٹھا ٹھنڈا سینڈوچ کھا رہا ہے۔ ڈبل روٹی کے ذرے میز پر گر رہے ہیں۔

آخری لقمہ کھانے کے بعد افسر دراز نمبر 3 سے اک رومال نما کپڑا نکال کر میکانکی انداز میں ڈیسک کو صاف کرنے لگتا ہے تو قدموں کی چاپ آتی ہے۔ دو محافظ درمیانی عمر کے ایک خستہ حال مرد کو کندھوں سے پکڑے اندر لاتے ہیں، جس کے آدھے بال اڑ چکے ہیں اور بقیہ آدھے بکھرے ہوئے ہیں، ناقابل برداشت ٹھنڈ کو کم کرنے کی غرض سے بدوضع، بد رنگ اونی کوٹ نما شے اس کے بدن پر ہے۔ اس زاویے سے اس کے ہاتھ مجھے نظر نہیں آ رہے۔ ہتھکڑی ہی لگی ہوگی۔ جی، اس زاویے سے آپ بھی دیکھ سکتے کہ دونوں ہاتھ ہتھکڑی میں جکڑے ہیں۔

Read more

چوہدری کالم نگار کے ٹوٹکے اور ایک مطمئن ناکام آدمی

اس ادھیڑ عمر جوان نے اپنے ہاتھوں میں تھامے بون چائنہ کے مگ سے چسکی بھری، یہ کپ واضح طور پر روسی ساختہ ہرگز نہ تھا۔ نہ ہی چائے سے Kopi Luwak کافی جیسا کوئی اروما (Aroma) پورے ڈرائنگ روم کو معطر کر رہا تھا۔ اس نام نہاد ڈرائنگ روم میں کوئی دبیز ایرانی قالین تک نہ تھا۔ جوتے اس کے یقیناً اطالوی نہ تھے , نہ وہ بلیزر نما شے جو اس کے نامتناسب وجود کو ڈھانپ رہی تھی

Read more