کیا یونیورسٹیوں کے طلبہ کا احتجاج درست ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”تعلیم سب سے طاقتور ہتھیار ہے جسے آپ دنیا کو تبدیل کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں“ (نیلسن منڈیلا)

کسی بھی قوم و ملک کی ترقی کا انحصار اس ملک و قوم کے نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ اگر ملک کے نوجوان پڑھے لکھے ہوں تو وہ ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ ہر طالب علم سرکاری افسر تو نہیں بنتا مگر ہر سرکاری افسر طالب علم ضرور رہا ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے 24 نومبر سے تمام تعلیمی اداروں میں 25 دسمبر تک آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا گیا اور 25 دسمبر تا 10 جنوری تک تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کیا گیا۔ 10 جنوری کے بعد حکومت نے بتدریج تعلیی ادارے کھولنے کا علان کر دیا۔ 18 جنوری سے کالج اور یکم فروری سے سکول و یونیورسٹیوں کے کھولنے کا اعلان بھی ہوا۔

جوں ہی یونیورسٹیاں کھولنے کا اعلان ہوا تو اکثر یونیورسٹیوں نے آن لائن پڑھا کر یونیورسٹیوں میں فزیکل امتحانات لینے کا اعلان کر دیا جو طلبا پر بم گرنے سے کم نہ تھا۔ طلبا نے مطالبہ کیا کہ جو سمسٹر ہمیں آن لائن پڑھایا گیا ہے ، اس کے امتحانات بھی آن لائن لئے جانے چاہییں۔ اس مطالبے سے انکار پر طلبا نے احتجاج شروع کر دیا۔

سوشل میڈیا پر پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ میں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھیں جن میں طلبا اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں مگر یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پرامن احتجاج مشتعل مظاہرے میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ پہلے گورنر ہاؤس پنجاب کے باہر مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے احتجاج کیا، پھر مقامی یونیورسٹیوں کے طلبا نے اپنی اپنی یونیورسٹیوں کے باہر احتجاج شروع کر دیا، وہاں یونیورسٹیوں کے سیکورٹی گارڈز کے ساتھ طلبا کے جھڑپیں ہوئیں۔کچھ طلبا زخمی ہوئے اور کچھ سیکورٹی گارڈز۔

کیا پڑھے لکھے طالب علموں کا یہ کام ہے؟ پاکستان میں اگر صوبوں کے لحاظ سے خواندگی کی بات کی جائے تو پنجاب 64 فی صد شرح خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے مگر جو حرکتیں طلبا کی دیکھنے میں آئیں ان سے تو خواندگی کی رپورٹس میں درج شرح پر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے؟

کیا آج کے طالب علم صرف کتابوں تک ہی محدود ہیں؟ کیا اخلاقیات کو نظر انداز کر کے سیکورٹی گارڈز کے ساتھ لڑائی جھگڑوں سے ہی اپنے مطالبات منوائے جا سکتے ہیں؟ کیا یہ سب وہی طلبا ہیں جو تحریک پاکستان کے علم بردار تھے؟ کیا یہ وہی طلبا ہیں جو اسلامی تشخص کے لیے مر مٹنے والے تھے؟ کیا یہ وہی طلبا ہیں جو نظریاتی تحریکوں کا ہراول دستہ تھے؟ یہ تو وہ طلبا ہیں جو آن لائن امتحانوں میں نقل کے لیے سٹرکوں پر خوار ہوتے پھرتے ہیں اور اپنی اسٹوڈنٹ پاور کو غلط انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 12 اپریل 1948 نے اسلامیہ کالج پشاور میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”نظم و ضبط، کردار اور ایک ٹھوس علمی پس منظر کا صحیح احساس تیار کریں۔ آپ کو پورے دل سے خود کو تعلیم کے لیے وقف کرنا ہو گا، کیونکہ یہ آپ ، اپنے والدین اور ریاست کے لئے آپ کی پہلی ذمہ داری ہے۔ آپ کو لازمی طور پر اطاعت کرنا سیکھنا چاہیے ، تب ہی آپ حکم دینا سیکھ سکتے ہیں۔“

مگر آج کے طلبا کس جانب گامزن ہیں؟ کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا وہیں تعلیمی نظام بھی وقتی طور پر معطل ہو گیا،  پھر چند ہی روز بعد آن لائن کر دیا گیا۔پاکستان میں تاریخ میں پہلی بار یہ سسٹم متعارف کروایا گیا ، شاید یہی وجہ تھی کہ اس سسٹم کو جتنا بہتر ہونا چاہیے تھا ، یہ ویسا نہیں تھا۔

طلبا ہی ملک کی ترقی کی بنیاد ہیں۔ اگر تعلیم یافتہ افراد اور بہتر تعلیم کے لیے پالیسی نہ ہو تو آپ کبھی بھی کامیاب ملک کی امید نہیں کر سکتے ہیں۔ آج کے طالب علموں کو چاہیے کہ وہ ملک کے مستقبل کے لئے کام کریں۔ مستقبل میں وہ پبلک سیکٹر کے ستون ہوں گے۔

ایک بہت مشہور چینی کہاوت ہے کہ ” اگر آپ ایک سال کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو چاول بوئیں،  اگر آپ ایک دہائی کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو درخت لگائیں۔ اگر آپ زندگی بھر کا ارادہ رکھتے ہیں تو لوگوں کو تعلیم دیں“

بہت سارے طریقے ہیں جن سے آپ دنیا پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ لیکن جتنا اثر آپ  آپ تعلیم کو عام کرنے اور لوگوں کو با اختیار بنانے سے ڈال سکتے ہیں ، اتنا اور کسی چیز سے ممکن نہیں۔

پاکستان کے نوجوان کو اس دنیا میں بہتر مقام دلانے کے لئے تعلیم نظام میں موثر اصلاحات لانے کی اشد ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •