کرکٹ کے دیوانے عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹی وی کی سکرین پر بریکنگ نیوز آ رہی تھی کہ عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پی ایس ایل نے کورونا کو شکست دے دی۔ ہم جو اپنی سوچوں میں مگن تھے، ایک دم ذہن میں خیال آیا، شاید پاکستان نے کوئی نئی ویکسین بنا لی ہے، بھئی یہ تو کمال ہو گیا ہے جس کی وجہ سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ ہر وقت ٹی وی پر ایک ہی رونا دھونا ہوتا ہے۔ فلاں پرواز کئی گھنٹے لیٹ، مسافر خوار ہو گئے، ٹرین چار گھنٹے لیٹ مسافر پریشان، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، شہری فاقوں پہ مجبور، ہسپتالوں میں بد انتظامی مریض پریشان، حادثات اور قتل و غارت، یعنی کہ خبروں میں نوے فیصد اسی قسم کا مواد ہوتا ہے۔

سوچا یہ کیسا انقلاب آ گیا جو ہمارے معصوم و مظلوم عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ جب پورے ہوش و حواس سے خبر پڑھی تو پھر حقیقت کا ادراک ہوا، دھت تیرے کی کھودا پہاڑ نکلا چوہا، بھئی یہ تو کرکٹ کی دیوانی قوم کے لئے واقعی خوشی کی خبر تھی۔ کورونا جائے بھاڑ میں، چار دن کی زندگی ہے کیا یونہی گھٹ گھٹ کے مر جائیں، سو بیچارے عوام کے لئے اسٹیڈیم کے دروازے کھولنے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے۔ کرکٹ کے میچ ہوں اور عوام گھروں میں بیٹھے رہیں یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔

سال میں دس مہینے تو ہمارے بیچارے عوام اسی کرکٹ کی لت میں گزارتے ہیں۔ دفتروں میں حاضری کم ہو جاتی ہے، سکول کالج نہ ہی جانا پڑے تو بادل نخواستہ چلے گئے لیکن دھیان اسی میں رہے گا اور پھر موبائل زندہ باد، کلاس میں بیٹھ کر بھی دھیان سکور کی طرف رہے گا۔ کسی دکان میں چلے جاؤ، تو دکان دار کی دلچسپی کا مرکز میچ ہی ہو گا اور آتے جاتے لوگوں کی نظریں بھی ٹی وی پر ہوں گی۔ کسی کے گھر چلے جائیں تو توجہ کا مرکز مہمان کم اور میچ پہ سیر حاصل گفتگو زیادہ ہوتی ہے۔ آنے والا بیچارہ بھی سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ یہاں کیوں آ گیا۔

میچ شروع ہونے سے پہلے شاہینوں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہوتے ہیں اور جونہی شاہین بیچارے آؤٹ ہونے لگیں اور ہار کی طرف قدم بڑھانے لگیں تو انہیں عرش سے اٹھا کر فرش پر پھینکنے میں ایک لمحے کا گریز نہیں کیا جاتا۔ اور اگلے میچ میں یہ جذباتی اور دیوانے عوام پھر دل و جان سے اپنی ٹیم کی جیت کے لئے دعا گو ہوتے ہیں۔

ویسے اس دیوانگی میں ہم بھی کئی سال مبتلا رہے۔ جب ریڈیو پر کمنٹری آتی تھی تو بس اسی کے ساتھ چپکے رہتے ، ایک منٹ کے لئے بھی ادھر ادھر ہوتے تو دوسری بہن کو تاکید کی جاتی، سکور دھیان سے سننا، ٹی وی پر دیکھنا شروع کیا تو بھی سارے بہن بھائی ٹک کے ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے، کھانے کا ہوش نہ پڑھنے میں دلچسپی ، امی ڈانٹ ڈانٹ کے ہلکان ہو جاتیں لیکن ہمارے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی، والد صاحب بھی بہت شوقین تھے لہٰذا وہ بھی شوق سے دیکھتے۔

شکرانے کے نوافل مانے جاتے، اگر پاکستانی ٹیم ہار جاتی تو کونوں کھدروں میں چھپ کے آنسو بہاتے، کھانے کی چھٹی ہو جاتی، یوں لگتا کہ ابھی ہارٹ اٹیک ہو جائے گا اور پھر یہ سوگ کئی کئی دن جاری رہتا۔ خیر ہم  نے بس دیوانگی سے بڑی مشکل سے جان چھڑائی، جب اپنے بچے بھی بڑے ہو گئے اور ہمیں افسردہ دیکھتے تو کہتے اماں کوئی بات نہیں، کھیل میں ایسا تو ہوتا ہے۔ پھر ہم نے سوچا، بہت ہو گیا یہ تماشا، اب اس سے جان چھڑا لی جائے تو اسی میں بہتری ہے۔

اب تو ہم بہت سکون سے میچز پر ہونے والے تبصرے سنتے ہیں اور زیر لب مسکراتے رہتے ہیں کہ شکر ہے اس جنجال پورے سے ہماری جان چھوٹی۔ لیکن اب بھی ہر گھر کم و بیش ایسی ہی دیوانگی ہے۔ کرکٹ کے اس جنون میں ہم اپنے قومی کھیل ہاکی کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہر گلی محلے میں، گاؤں ہو یا شہر، بچے اور نوجوان کیا، سب کرکٹ ہی کھیلنا چاہتے ہیں اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کو آئیڈیالائز کرتے ہیں۔  کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب، تو صاحب اگر ہمارے معصوم عوام مایوسی کی اس گھڑی میں، وبا کے ان جان لیوا لمحوں میں اتنی سی بات پر خوش ہو جائے تو ہم اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •