قیاس آرائیاں اور پی ڈی ایم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو شرارتی دوستوں نے ایک نے دیہاتی سے کہا ”بھاگو بھاگو، کتا تمہارا کان لے کر بھاگ گیا“ دیہاتی اپنا کان چھوئے بغیر کتے کے پیچھے سرپٹ دوڑنے لگا۔ کتا آگے آگے اور وہ پیچھے پیچھے۔ کافی دور جا کے اسے دوڑتا دیکھ کر کسی شناسا نے پوچھا ”میاں، کتے کے پیچھے کیوں بھاگے جا رہے ہو؟“ وہ کہنے لگا ”یہ میرا کان کاٹ کے لے جا رہا ہے“ ۔ اس شخص نے کہا ”آپ کے دونوں کان تو اپنی جگہ پر موجود ہیں“ دیہاتی نے جب ہاتھ لگایا تو شرمندہ ہوا کہ وہ بغیر اپنے کانوں کو دیکھے یا محسوس کیے اتنی دیر کتے کے پیچھے بھاگتا رہا۔

من حیث القوم ہم بھی اس دیہاتی کی ہی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ مذہبی و سیاسی معاملات ہوں یا معاشی و معاشرتی۔ جو بھی کوئی ایرا غیرہ نتھو خیرا کہہ دیتا ہے ، اس کو سچ مان لیتے ہیں۔ تحقیق کرنا تو گویا ہماری سرشت میں شامل ہی نہیں ہے۔ ہم اتنے کاہل ہو چکے ہیں کہ مفروضوں، قیاس آرائیوں اور افواہوں پر ہی مشتعل ہو جاتے ہیں۔ دشمن اسی بات کو اپنا ہتھیار بنائے ہوئے ہے۔ خاص طور مذہبی معاملات پر تو قتل عام ہو جانا اب رواج بنتا جا رہا ہے۔

مطالعہ، مشاہدہ، ریاضت تو اب زہر قاتل سمجھے جا رہے ہیں، جو کبھی ہمارا شعار ہوا کرتے تھے۔ رہی سہی کسر عدم برداشت نے پوری کر دی۔ برداشت کی کمی کا جو سلسلہ چل رہا ہے، اگر اس پر قابو نہ پایا تو آنے والی نسلیں اس کا شدید خمیازہ بھگتیں گی۔ اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہوئے آج بھی ہمیں اپنے یا اپنے لیڈر کے خلاف کوئی بات سننا گوارا نہیں ہے۔

عدم برداشت کے اس طوفان میں جہاں گھریلو تربیت کا فقدان ہے ، وہیں لیڈران کی غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی نے بھی اسے انتہا پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ پوری دنیا کورونا کی تباہ کاریوں سے لرز گئی ہے مگر ہمارے لیڈران جلسے، جلوس، ریلیاں نکالنے میں مصروف ہیں اور اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو تو نہیں لا رہے مگر غریب عوام کی کو گھسیٹے جا رہے ہیں۔ کراچی سے لے کر خیبر تک اور خیبر سے وادی ہنزہ تک۔ یہی صورتحال ہے۔ کسی کو بھی عوام کی صحت کا کوئی خیال نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں ایک تجزیہ کار صاحب فرما رہے تھے کہ عالمی سامراج عمران حکومت کو برطرف کرنے پر مصر ہے اور نئے وزیراعظم کا نام بھی فائنل ہو چکا ہے۔ اسٹیلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں اور سابق حکمران جماعت اور ایک دینی جماعت جو اپوزیشن اتحاد کی سربراہ ہے، وہ بھی اس منصوبے کی حمایت میں ہے۔

میں مانتا ہوں کہ پاکستان کی سیاست اور اقتدار پر عالمی طاقتوں کا بڑا اثر و رسوخ ہوتا ہے مگر میں یہ بات تسلیم کرنے سے قاصر ہوں کہ عمران حکومت کو گھر بھیجا جائے گا اور عالمی محور کا مرکز کوئی اور ہی بن رہا ہے۔ یہ باتیں تو صرف توجہ دوسری طرف کرنے کے لیے ہیں۔ اصل کہانی تو کچھ اور ہی پک رہی ہے۔

پی ڈی ایم کی سیاست اس طرح کارگر نہیں ہو پارہی جس کی توقع کی جا رہی ہے۔ نو ستاروں جیسی تحریک اپوزیشن کے ذہن پر سوار تھی مگر ویسی کامیابی ملنا مشکل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پوری طرح سے موجودہ حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ جب اسے یقین ہو جائے گا کہ اب بہت ہو گیا ہے، عوام کے صبر کا پیمانے لب ریز ہو رہا ہے تو چلے ہوئے کارتوس دوبارہ منظر عام پر لے آئیں گے۔

اسٹیبلشمنٹ میاں صاحبان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی سخت مخالف ہے۔ کیونکہ انہوں نے ان کی ناک پر ضرب لگائی ہے۔ میاں صاحبان کا کھیل بھی بڑا نرالا ہے۔ ایک بھائی ماحول گرم کرتا ہے تو دوسرا ٹھنڈا۔ دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنے میں شریف فیملی کا کوئی ثانی نہیں۔

لگتا ہے کہ اسٹیمبلشمنٹ بھی تھوڑا عقل سے کام لے رہی ہے۔ اپنے پتے سوچ سمجھ کر استعمال کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا مگر سچ یہی ہے کہ چلے ہوئے کارتوسوں سے پاکستان کی ترقی ناممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •