دل کو لگتی ہے بات بکری کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت اسماعیل والے دنبے سے لے کر آج تک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ خدا کی راہ میں اور انسانی شکم کی آگ بجھانے کے لئے قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ ویسے تو بکرا اور بکری دونوں مظلوم ہیں لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ بکرا زیادہ مظلوم ہے یا بکری۔اس مضمون میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے۔

اگر ضرب الامثال سے سمجھنے یا سمجھانے کی کوشش کریں تو ایک ضرب المثل ہے ”بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، کبھی تو چھری تلے آئے گی“ اس ضرب المثل میں بکرے کی ماں کی جان کو خطرہ ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ بکری ذات مظلوم ہے۔

ایک اور محاورہ ہے کہ فلاں شخص کو قربانی کا بکرا یا بلی کا بکرا بنایا گیا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی کا بکرا ہمیشہ مرد/بکرا ہی بنتا ہے۔ آپ نے کبھی نہ سنا ہو گا کہ فلاں عورت کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔ تو یہاں بکرا مظلوم ہو گیا۔

برسبیل تذکرہ، گاندھی جی گائے، بھینس اور بکری کا دودھ پینے کو پاپ سمجھتے تھے لیکن پھر اپنی پتنی اور معالج کے ترغیب دلانے پہ بکری کا دودھ پینا شروع ہو گئے تھے۔ ان کی بکری کا نام ”نرملا“ تھا۔ وہ جہاں بھی جاتے اس کو اپنے ساتھ لے کر جاتے اور وہ بکری سات سال تک گاندھی جی کی رفاقت میں رہی۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ لندن گئے تو ساتھ اپنی (نرملا) بکری کو بھی لندن لے گئے تھے۔ بکری کو یہاں بھی بکرے پہ فضیلت حاصل ہے کہ لندن جانے کے لئے بکری نظر انتخاب ٹھہری۔

اکثر عامل، بنگالی باوے مشکلات میں گھرے انسانوں کو کالے بکرے کی قربانی کا مشورہ دیتے ہیں کبھی کسی نے کالی، سفید یا بھوری بکری کی قربانی کا مشورہ نہیں دیا۔ آخر بکرا کب تک قربانی کے گھاٹ اترتا رہے۔ آفات و بلیات ٹلیں نہ ٹلیں، بکرا بے چارہ تو جان سے گیا۔

یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی

شاعر مشرق لگتا ہے کہ فیمینسٹ (نسائی) تھے وہ چاہتے تو بکرے کی بات کو بھی دل سے لگا سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ اعزاز بھی بکری کو ہی بخشا۔ بکرے کی ذات مظلوم ہے اور اس کو کبھی بھی بکری کے برابر سماجی مقام نہیں ملا۔

جیسے بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کا انتخابی نشان اکثر جانور ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر مسلم لیگ نون کا انتخابی نشان شیر ہے (یہ الگ بات ہے کہ شیر پلیٹ لیٹس کم ہونے کا بہانہ کر کے مفرور ہے ) ، امریکی ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز پارٹی کا انتخابی نشان بالترتیب گدھا اور ہاتھی ہے، ایسے ہی بکرا یا بکری بھی انتخابی نشان ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان میں ایک سو پینتالیس سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں لیکن کسی ایک سیاسی پارٹی نے بھی بکری/بکرے کو انتخابی نشان کے لئے نہیں چنا۔

ملتان میں سن 2014 میں قومی اسمبلی کے لئے ضمنی انتخاب ہوا تو ایک طاہر رشید نامی آزاد امیدوار بھی انتخاب لڑنے کو کھڑے ہوئے ، ان کو انتخابی نشان بکری الاٹ ہوا۔ جس سے ان کے اشتہارات پہ درج عبارت نہایت دلچسپ ہو گئی ”طاہر رشید، شیر ملتان، انتخابی نشان بکری“

بکری سے ایک لطیفہ یاد آیا۔ ایک صاحب نے کسی سینئر تجزیہ کار سے رائے لی کہ جناب یہ گائے مفید جانور ہے کہ بکری؟ انہوں نے ترنت جواب دیا کہ بکری۔ پوچھنے والے نے کہا کہ کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟ تو سینئر تجزیہ کار نے بتایا کہ دراصل پچھلے سال گائے نے مجھے ٹکر ماری تھی۔ اکثر معاملات میں ہمارے لوگوں کی اکثریتی رائے سینئر تجزیہ کار جیسی ہے۔

پاکستان اور دیگر مسلم ممالک سوروں کی جنت ہیں۔ غلط مت سمجھیے ، ایسا میں نہیں یہاں کے بکرے اور بکریاں سمجھتے ہیں۔ کیونکہ مسلم ممالک میں سوروں کو کھانا حرام جانا جاتا ہے ، اس لیے ان ممالک میں ان کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ اس لیے مسلم ممالک سوروں کے لیے جنت اور بکری کے لئے کنسنٹریشن کیمپ  کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے سور اسلام آباد کے مضافات میں دندناتے پھرتے ہیں۔

ایک اور لطیفہ یاد آ گیا بکرے سے متعلق۔ ایک قصاب صبح کے وقت بکرے کو کان سے پکڑے مذبح خانہ کی طرف کھینچے چلا جا رہا تھا اور جب بکرا ایک سکول جاتے من چلے بچے کے قریب سے گزرا تو بچے نے اس بلبلاتے بکرے کو طعنہ مارا کہ ”چیخ تو ایسے رہے ہو جیسے تمہیں سکول لے جا رہے ہوں“ ، صرف ذبح ہی تو کرنے جا رہے ہیں تمہیں۔

بکرے /بکری کی اوسط عمر پندرہ سے بیس سال کے درمیان ہوتی ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ امت مسلمہ اسے دو یا تین سے زائد بہاریں نہیں دیکھنے دیتی۔ مرشدی مشتاق یوسفی کہتے ہیں کہ مسلم ممالک میں کسی بکرے یا بکری کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا گیا۔

شاید ہم یہ تو طے نہ کر پائیں کہ بکرا زیادہ مظلوم ہے کہ بکری لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بکرا اور بکری دونوں مظلوم بھی ہیں اور لازم و ملزوم بھی۔ اور ان دونوں کی امت مسلمہ کے لئے مسلمہ خدمات ہیں۔ اور مسلم ممالک میں پائے جانے والے سور ان کے بے حد مشکور بھی ہیں۔ پاکستان میں منگل اور بدھ کو گوشت کا ناغہ ہوتا ہے، ان دو ایام میں بکرے /بکری ذبح نہیں کیے جاتے۔ اگر یہ گوشت کا ناغہ بڑھا کر تین روز کر دیا جائے تو نہ صرف لوگ فشار خون جیسے امراض سے بچے رہیں گے بلکہ بکرے بھی چند دن اور جی لیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •