کم از کم یہ ڈرائیور دھکا تو لگا رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


صبح کا سورج طلوع ہو چکا تھا۔ اور آہستہ آہستہ آسمان پر بلندیوں کی جانب گامزن تھا۔ زمین پر اپنی کرنیں نچھاور کرتا ہوا سورج اپنی مرضی کا مالک ہے۔ لوگوں کی گہماگہمی روزگار اور بس روزگار کی افراتفری کی دھکم پیل میں میرے باس کی گاڑی دریائے نیل کی طرح بہتی سڑک کے کنارے جام کھڑی تھی۔ شہادت کا وقت آیا نہیں تھا شاید آنے والا تھا۔ میں نے محسوس کیے بغیر گاڑی کو دھکا لگانا شروع کیا۔ گاڑی دھیمی آواز کی طرح آگے بڑھ رہی تھی۔ نظروں میں لوگوں کی افراتفری کشمش پیدا کر رہی تھی۔ ہمیشہ کی طرح بھیڑ میں سے نکل کر دور ویرانی میں چلا جاتا ہوں۔ اور آج بھی ویرانی میں کھڑی ایک ایسی ہی گاڑی کے خراب حالات میں بے بسی کی طرح گم ہو گیا۔

”گاڑی کو جس بے دردی سے استعمال کیا بلکہ نہیں برباد کیا گیا، وہ گاڑی کے حالات دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ یہاں روڈ پر کیوں کھڑی ہے؟“ واجد نے منہ کو میری طرف سٹیرنگ کی طرح گما کر سوال کیا۔ سوال میرے نکمے ذہن میں بھی تھا۔ لیکن تھوڑی سی عقل کو استعمال کرتے ہوئے میں نے چپ رہنا بجا سمجھا۔ کیونکہ وہاں جو چند گنے چنے انسان موجود تھے ان کے ذہنوں میں بھی یہی سوال تھا۔ لیکن جواب دینے کے لئے گاڑی کا مالک موقع واردات پر موجود نہ تھا بس ایک شخص گاڑی کو مسلسل دھکا لگانے میں مصروف تھا۔

گاڑی کے گرد آلود شیشوں پر انگلیوں سے لکھی گاڑی کی تاریخ سے بتا چل رہا تھا۔ کہ مالک کا نام محمد علی بتایا جاتا ہے اور وہ سالوں پہلے فوت ہو چکا ہے۔ محمد علی کے کنبے نے جس کے لئے قوم کا لفظ لکھا گیا تھا گاڑی مختلف ڈرائیوروں کے کنٹرول میں دے دی۔ اور انہوں نے بجائے گاڑی کو موڈی فائی کرنے کے انہوں نے الٹا گاڑی کو پہلے مختلف جنگی ریسوں میں الجھائے رکھا۔ پھر گاڑی کا پچھلا حصہ بیچ دیا۔ پھر ایسے ڈرائیور بھی آئے جنہوں نے سب دوسرے جرائم کے ساتھ چوریاں بھی شروع کر دیں۔

گاڑی کے اندر کے حالات دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ سب کچھ بیچ کے سابقہ ڈرائیور باہر جائیدادیں بنا چکے ہیں۔ پوچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ محمد علی کی قوم جو تاریک راہوں کے مسافر بن کر جی رہے تھے۔ گاڑی منافع کی بجائے پیچھے جا رہی تھی۔ گاڑی کا ایک ایک حصہ قرضوں کے بوجھ تلے زنگ آلود نظر آ رہا تھا۔

لیکن گاڑی یہاں اس روڈ پر جہاں کتا بھی نہیں بھونکتا کھڑی کیوں ہے؟ یہ سوال آب بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود تھا۔ لوگوں سے مراد چند فہم و شعور رکھنے والے ورنہ تو لوگ عرف قوم بھیڑ بکریوں کی طرح قریب سے گزرے جا رہے تھے۔ گاڑی بہت پیسا کما سکتی تھی۔ لیکن ڈرائیور اپنے مال و زر بنانے میں لگے رہے۔ ریس میں تو یہ گاڑی شامل ہی نہیں تھی۔ Not For Race اس کے بونٹ پر لکھا ہے۔ محمد علی بھی کہیں کسی کونے میں بیٹھا آج کوستا ہو گا کہ گاڑی کن لوگوں کے حوالے کر دی جو اپنا کاروبار تو چلانے سے خوب واقف ہیں۔ لیکن میری گاڑی نہیں چلا سکتے۔ اور اگر کبھی چلا بھی لیں تو غلطی سے ترقی پذیر راستے پر ہی لے جاتے ہیں۔ کہ کبھی گاڑی ترقی نہ کرے۔ محمد علی کی قوم اسی طرح پستی رہے۔ کامیابی ان کے قدم نہ چومیں بلکہ وہ دوسروں کے قدم چومے جن کے چوم چوم کر آج گاڑی یہاں اس حال کو پہنچی ہے۔

قوم نے ہمیشہ ایسے ڈرائیور رکھے۔ جو اپنے بارے میں سوچتے تھے۔ اور باہر جائیدادیں بناتے رہے۔ منی لانڈنگ کرتے رہے اور پھر کہتے ہیں ہم نے تو کچھ نہیں کیا۔ میں اور واجد ڈرائیوروں کی وارداتیں تخیلات میں سن رہے تھے کہ اچانک واجد کہنے لگا آب یہ گاڑی کس طرح منزل پر پہنچے گی؟ اور لے کون جائے گا؟ کیا یہ شخص جو گاڑی کو دھکا لگا رہا ہے؟ میں اپنی سوچوں میں گم سوچ رہا تھا کہ ہم اسی طرح بے بسی کی تصور ہی بن کر رہ جائیں گے۔

ہم لوگ جنہوں نے خود ڈرائیور منتخب کیے تھے۔ اب سوچ میں پڑے ہوئے تھے کہ اب کیا ہو گا؟ واجد ایک بار پھر سوال کے موڈ میں تھا کہنے لگا یہ گاڑی دھکا سٹارٹ ہے؟ نہیں آب یہ سٹارٹ ہونے ناواقف ہو چکی ہے۔ ہم اپنی اپنی فلاسفی بیان کر رہے تھے۔ لیکن ایک شخص ابھی بھی گاڑی کو دھکا لگا رہا تھا۔ یہ نیا ڈرائیور تھا۔ جو موقع واردات پر موجود تھا لیکن جواب اس کے پاس بھی نہیں تھا۔ یہ تو پہلی بار آیا ہے۔ سابقہ تو فرار ہو چکے ہیں۔ ہم جواب اس سے مانگ رہے تھے۔ وہ چپ چاپ دھکا لگانے میں مصروف تھا۔

گاڑی دھکا لگانے سے بھی آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔ ہم تبصرہ کرنے میں داؤ پیچ لگا رہے تھے کہ ایسے نہیں ایسے کر لے تو یہ گاڑی آگے بڑھے گی۔ قریب سے گزرنے والی قوم جو مالک کا کنبہ ہے جانوروں کی جہالت کو پیچھے چھوڑتی ہوئی ڈرائیور کو گالیاں نکال کر آگے بڑھ رہی تھی۔ بھیڑ میں شعور اجاگر کرنا ڈرائیور کے منشور میں ممتاز تھا لیکن فی الحال تو وہ گاڑی کے چار ستونوں میں غیر قانونی لگی گریس نکالنے میں مصروف تھا جن کی وجہ سے ٹائر چل نہیں رہے تھے۔

ریس میں شامل ہونے کے لئے ابھی بہت وقت درکار ہے سالوں پر محیط یہ سفر بہت طول پکڑنے والا ہے۔ ہمیں بے ہس اور کم ظرف مسافر بننے کی بجائے حوصلے سے کام لینا ہے۔ کم از کم یہ دھکا تو لگا ہے۔ ٹائروں میں جمی کرپٹ ڈرائیوروں کی ناکامیوں کو نکال تو رہا ہے۔ سابقہ ڈرائیوروں کی سب ناکامیاں ہم اس کے گلے میں کیوں ڈال رہے ہیں؟ اسے تو گاڑی ایسی حالت میں ملی کہ دھکے سے سٹارٹ بھی نہیں ہو سکتی۔ اسے صرف دھکے سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے اگر ٹائروں کے آگے اینٹوں کی طرح لیٹے مافیاز کو ہٹا دیا جائے۔

” بس بس ہم پیٹرول پمپ پہنچ گئے ہیں“ اچانک باس کی آواز میرے خیالات میں گھرے کانوں میں پڑی تو ہم واقعی منزل پر پہنچ چکے تھے۔ پتا نہیں دھکا لگانے والے کی گاڑی کب منزل پر پہنچے گی؟ یہ سوچتے ہوئے میں رنجیدہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ کچھ بھی نہ ہو ماضی کے کرپٹ کردار ڈرائیورز کے مقابلے میں ”کم از کم یہ دھکا تو لگا رہا ہے“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •