کلی چمن میں کھلی تو مجھے خیال آیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سردیوں کا موسم اپنے اندر ایک اداسی لئے ہوتا ہے۔ زندگی کی چوتھی دہائی کا اس موسم سے یہ تعلق بھی ہے کہ اس میں درختوں کے سوکھے پتوں کی چرچراہٹ سے من آنگن میں چند نئے پٹ کھلتے ہیں اور حقیقتیں عیاں ہونے لگتی ہیں۔ میں اپنے آس پاس دیکھتا ہوں تو جیسے میں جوانی اور ادھیڑ عمر کے سنگم پہ کھڑا ہوں ویسے ہی میرا بیٹا سہمے ہوئے مگر پرجوش قدموں سے بچپن اورلڑکپن کی سرحد پہ کھڑا ہے جہاں سے جوانی صرف ایک چھلانگ کے فاصلے پہ ہے، اسے اک نئی حیران کن اندرونی دنیا ہیجان میں مبتلا کر رہی ہے۔

اسے اس دہلیز پہ کھڑا دیکھ کر میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اور ساتھ ہی یہ سوچتا ہوں کہ پچیس سال پہلے میں بھی اسی جگہ پر یونہی حیران و پریشان کھڑا تھا۔ اور پھرمیں اور میرا بیٹا ہی صرف اس موڑ سے گزرنے والے دو لوگ نہیں بلکہ کچھ دہائیاں ادھر میرا باپ بھی اسی چورنگی پہ کھڑا تھا اور پھر چند دہائیاں اور پھلانگ جائیں تو میرا دادا بھی۔ یوں تمام نسلیں ایک متعین سفر طے کر کے راہئی عدم ہوتی ہیں، تاریخ کا ستم مگر یہ ہے کہ پچھلی پیڑھی کا انتخاب اگلی پیڑھی کا مقدر بنتا ہے۔

کبھی کبھار میں فاسٹ سپیڈ سپیشل کیمرے سے لی گئی ویڈیو میں پھولوں کے کھلنے کے مناظر دیکھتا ہوں کہ کیسے ایک بند کلی میں سمٹی سمٹائی چند پتیاں اپنے ارد گرد کے ماحول سے ڈری سہمی کھلنا شروع کرتی ہیں اور بتدریج اپنے مرکز سے دور ہوتی جوانی سے بڑھاپے کا سفر طے کرتی چلی جاتی ہیں اور جب پھول پورا کھل چکا ہوتا ہے تب یہ پتیاں مرکز سے دور پھول کے بیرونی حصے تک پہنچ چکی ہوتی ہیں اور آخر کار جھڑ جاتی ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران پھول کے مرکز میں نئی پنکھڑیاں نمودار ہوتی رہتی ہیں اور دھیرے دھیرے اسی منزل کی راہی بنتی چلی جاتی ہیں جس کو ان سے پہلے پیدا ہونے والی پتیوں نے اختیار کیا تھا۔ فلم ”کبھی کبھی“ کا گانا میرے دماغ میں گونجتا ہے۔

؎ وہ بھی اک پل کا قصہ تھے، میں بھی ایک پل کا قصہ ہوں
کل تم سے جدا ہو جاؤں گا، گو آج تمہارا حصہ ہوں
میں پل دو پل کا شاعر ہوں، پل دو پل میری کہانی ہے۔

شایدانسانی زندگی بھی ایک کی پھول کی مانند ہے جہاں سب لوگ مقرر کردہ راستوں سے گزرتے ہوئے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔ یہ سلسلہ ازل سے ابد تک جاری رہنے والا ہے۔ پہلے والے راہی بعد میں آنے والوں کو انتباہ کیے جاتے ہیں کہ ہم بھی انہی راستوں سے گزرے تھے اور تم بھی ہماری جگہ پہنچ کر ایک دن جھڑ جاؤ گے لیکن کہیں جوان اس خام خیالی میں ہوتے ہیں کہ وہ کبھی بوڑھے نہ ہوں گے اور کہیں بوڑھے اپنے آپ کو ابھی بھی جوان سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کبھی زمانے کی ناموافقت کے سبب کوئی وقت سے پہلے جھڑ جاتا ہے، جب کہ کوئی عرصۂ دراز تک شاخ سے پیوستہ رہنے کی وجہ سے گئے دنوں کی یاد بن کر رہ جاتا ہے اور موت طلب کرنے لگتا ہے۔

؎ کل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والے
مجھ سے بہتر کہنے والے، تم سے بہتر سننے والے
میں ہر ایک پل کا شاعر ہوں، ہر ایک پل میری کہانی ہے۔

سن 2013 میں میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے دادا کو سپرد خاک کیا، وہ پھول جس کے بیج سے ہماری نسل کا جنم ہوا آخرمٹی ہوا۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں گوجرہ، پاکستان میں اپنا لڑکپن گزارنے والے میرے دادا سے اکیسویں صدی کے پہلے نصف میں انگلینڈ میں رہنے والا میرا بیٹا اگرچہ واقف نہیں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ نہ صرف اس میں ان کا خون شامل ہے بلکہ کئی رویے بھی مماثل ہیں اور وہ آج بھی اس کی شکل میں زندہ ہیں۔ کل میں نے بھی مٹی میں مٹی ہونا ہے اور میرے بیٹے اور اس کے بیٹے بیٹیوں نے یہ ہی قافلہ آگے لے کر چلنا ہے۔

؎ تجھ کو مجھ کو جیون امرت اب ان ہاتھوں سے پینا ہے
ان کی دھڑکن میں بسنا ہے، ان کی سانسوں میں جینا ہے

جوان اور بوڑھی کونپلوں میں فرق صرف وقت کا ہوتا ہے، مگر اس وقت پہ ہر نسل اپنا دعوٰی اپنے تئیں پیش کرتی ہے۔ معمر تجربہ کار افراد، نوجوانوں کو اپنا یاد کیا ہوا سبق پڑھاتے ہیں جبکہ نئے لوگ بڑے بوڑھوں کو نئے تقاضے اور نئے نظارے دکھاتے ہیں۔ اس سارے مکالمے میں کہیں نوجوان یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ بوڑھوں کے پاس تجربے کی دولت ہے اور کہیں بزرگ اس اعتراف سے گریزاں ہوتے ہیں کہ وہ بھی کبھی ناسمجھ نوجوان تھے۔ ایسے میں ننھی کلیوں کا خون کر دینا، خام بیجوں کو پنبنے نہ دینا ور پر جوش پتیوں کو مسل ڈالنا بڑا ظلم ہے۔ باشعور باغباں پہ لازم ہے کہ وہ نئی نسل کو نئی دنیائیں مسخر کرنے کے لئے محفوظ ماحول فراہم کریں۔ یونہی معاشرے کی فصل بڑھتی اور پھیلتی جائے گی۔

میرے ادھورے خواب جیسے بھی تھے وہ میرے تھے، مجھے اپنے خوابوں کی تعبیر کو اپنے بیٹے کی تقدیر میں بدلنے کی کوشش سے خود کو روکنا ہے۔ میرے ارمان میرے بچوں کے خوابوں کی بلی چڑھا کر پورے نہیں کیے جائیں گے اور میں اپنے بچوں کی پرواز آسمانوں تک اور آسماں سے آگے کے جہانوں تک دیکھنا چاہوں گا۔

؎ تو اپنی ادائیں بخش انہیں، میں اپنی وفائیں دیتا ہوں
جو اپنے لئے سوچیں تھیں کبھی وہ ساری دعائیں دیتا ہوں
میں پل دو پل کا شاعر ہوں، پل دو پل میری کہانی ہے
پل دو پل میری ہستی ہے، پل دو پل میری جوانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •