راولپنڈی کی ایک باریک کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہ جانے وہ دوستوں سے گپ شپ کی ٹھرک تھی یا راولپنڈی کی یخ بستہ شام میں گرما گرم دودھ جلیبی کی اشتہا کہ شام گہری ہونے اور خاصی تھکاوٹ کے باوجود میں گھر جانے کے بجائے باوا روڈا روڈ کی بیٹھک کی طرف چل پڑا۔ قارئین کی یاد دہانی کے لئے راولپنڈی کے قدیمی محلہ کرتار پورہ کے بیچوں بیچ واقع باوا روڈا روڈ پر استاد اختر رنگریزہ کی مشہور دکان سالہا سال سے بعد از مغرب دوستوں کی بیٹھک بن جاتی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی استاد نے دودھ والے کو آواز لگائی ”اوئے چھوٹے ایک پیالہ گرم دودھ جلیبی۔ دستی۔“ راولپنڈی میں ”دستی“ کا لفظ جلدی کے لئے استعمال کرنا مقبول ہے۔

”اچھا ہوا کامریڈ تم آ گئے۔“ چوہدری سنجیدہ بولا ”چاچا جاوؤ ہمیں ایک کہانی سناتا ہے اور تم جانتے ہی ہو چاچا کی کہانیاں اکثر پرولتاری ہوتی ہیں۔“

تب ہی میں نے بیٹھک کے روزانہ کے حاضرین کے علاوہ ہم سب بلکہ پورے علاقہ کا چاچا ضیا عرف جاوؤ کو دیکھا۔ وہ خاصہ عرصہ علیل رہنے کے بعد اچھا ہوا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ چاچا جاوؤ آج کے زمانے کا سادھو تھا تو غلط نہ ہوگا۔ سب کی خوشی اور غم میں شریک، ہر وقت خدمت پہ کمربستہ، ہنستا مسکراتا چاچا جاوؤ ساٹھ کے پیٹے میں تھا۔ اس نے شادی نہ کی تھی۔ کتنے کلام، شعر، حکایات، کہانیاں، ٹوٹکے اور حکیمی نسخے اسے ازبر تھے اور وہ کوئی کہانی ہی سنا رہا تھا۔ ”میرے خیال میں کہانی دوبارہ سے شروع کرو۔“ چوہدری نے صلاح دی۔

”بیٹا کہانی تو ابھی میں نے شروع ہی کی ہے۔“ چاچا گویا ہوا۔ ”تو ہوا یوں کہ راولپنڈی کی قصائی گلی کی ڈھلتی عمر کی رقاصہ جسے ہم چھیمو بائی کہہ لیتے ہیں کے ہاں صف ماتم بچھ گئی جب اس کی بیٹی ملتان کے ایک وڈیرے کے ساتھ نکل گئی اور بازار سے تعلق بالکل ختم کر دیا۔ ویسے بھی وہ بہت جھگڑالو اور بائی جی کے اختیار میں نہ تھی۔ اس کی اصل کماؤ بڑی بیٹی جو سارے کنبے کا خرچہ پانی چلاتی تھی کچھ عرصہ پہلے نتھیا گلی سے ایک فنکشن سے واپسی پہ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو چکی تھی۔ ان لڑکیوں کے علاوہ چھیمو کے دو بیٹے بھی تھے لیکن جیسا کہ ان گھرانوں میں ہوتا ہے کسی کام کے نہیں تھے۔ بڑا شادی شدہ تھا اور اس کے دو بیٹے تھے۔ چھوٹا آٹھویں، نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔

بائی جی کو کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اخراجات کیسے چلیں گے۔ ادھار بڑھتا جا رہا تھا۔ روزانہ بیٹوں سے بک بک چیخ چیخ ہوتی تھی۔ سارنگی اور ہارمونیم والے ماسٹر ساتھ چھوڑ گئے۔ طبلے والا اور چوکیدار البتہ ساتھ نبھا رہے تھے لیکن کب تک۔ ایک دن بعد دوپہر طبلے والا اور چوکیدار چھیمو بائی کے پاس آئے۔ طبلہ نواز نے بتایا کہ چوکیدار کا ایک واقف کار مدد کے لئے تیار ہے اور اگر بائی جی اجازت دیں تو اسے لاہور سے بلایا جاسکتا ہے۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ بائی جی نے فوراً حامی بھرلی۔ ملاقات کا وقت طے ہوا۔ چھیمو بائی نے مزید ادھار اٹھا کر اچھے کھانے کا اہتمام کیا۔

لاہور سے آنے والا جسے ہم خان کہہ لیتے ہیں آیا تو قصائی گلی کے مکینوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ جس شاندار کالی سیاہ چمچماتی گاڑی میں وہ آیا تھا ویسی گاڑیوں والے قصائی گلی سے کافی عرصے سے منہ موڑ چکے تھے۔ اس کے اسلحہ بردار محافظوں نے گلی کی نکڑ پہ ریڑھی والوں کو ہٹا کر گاڑی پارک کروائی تھی۔ خان جب چھیمو بائی کے چوبارے کی سیڑھیاں چڑھا تو سب کو حیرت ہوئی کیونکہ اس کے پاس تو سازند ے بھی نہیں تھے۔

لاہور سے آنے والا بازار حسن میں کام کرتا تھا۔ اس نے بہت سے مشہور گھرانوں کا حوالہ دیا کہ جن کے ساتھ وہ کام کر چکا تھا یا کر رہا تھا۔ چھیمو بائی مرعوب ہو گئی لیکن اس کے مسئلے کے حل کے لئے جو پروپوزل خان نے پیش کیا اسے سن کر بائی جی پھونچکا رہ گئی۔ اسے تو ناقابل یقین لگا تھا۔

”کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟“ اس نے پوچھا تھا۔

”بالکل ہے۔ بلکہ ہو رہا ہے۔“ جواب ملا۔ ”اب وہ پروپوزل کیا تھا۔“ چاچا جاوؤ یہاں تک ہی پہنچا تھا کہ دودھ جلیبی کا پیالہ اور ملائی والی دودھ پتی کی پیالیاں آ گئیں۔ میٹھی رسیلی جلیبی اور گرم دودھ کا پیلا گھونٹ ہی میرے لئے حرارت اور سرخوشی لے کر آیا۔ چاچا جاوؤ نے بھی دودھ پتی کو سڑکایا۔

”چاچا زیادہ سسپنس نہ پھیلاؤ کہانی آگے بڑھاؤ۔“ شاہ صاحب نے اپنے مخصوص مزاحیہ لہجے میں کہا۔

ملائی کا ذائقہ محسوس کرتے ہوئے چاچے نے کہانی دوبارہ شروع کی، ”تو صاحبو! خان کا پروپوزل یہ تھا کہ چھیمو بائی کے چھوٹے بیٹے کی جنس تبدیل کر دی جائے۔ تم سب ہنس رہے ہو۔ بات ناقابل یقین تھی اور بائی کو بھی یقین نہ آیا تھا۔ پھر یہ بات کچھ سال پہلے کی ہے۔ لاہور سے آئے خان نے یقین دلایا کہ نہ صرف یہ ممکن تھا بلکہ اس نے ایک مشہور اداکارہ کے بارے میں بتایا کہ وہ پیدائشی طور پر لڑکا تھی جس کی جنس اس کی نانی نے تبدیل کروائی تھی۔

”لیکن خان صاحب یہ ہوگا کیسے؟“ بائی نے پوچھا۔

”پوری تفصیل تو ڈاکٹر بتائے گا جو یہ آپریشن کرے گا۔ بس یہ سمجھ لو اس سارے عمل پہ تقریباً سال لگ جاتا ہے۔“

تم مشہور کر دینا بیٹا باہر چلا گیا ہے۔ تمہارے بیٹے کی عمر تھوڑی زیادہ ہو گئی ہے ورنہ پانچ چھ سال کی عمر ہو تو وقت کم لگتا ہے۔ چھیمو بائی کو پھر بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔ خان نے اسے چند آپریشن سے پہلے اور آپریشن کے بعد والی تصویریں بھی دکھائیں۔

”تم مجھے بیٹے کی تصویر دے دو میں ڈاکٹر کو دکھاتا ہوں۔ اور پھر تمہیں آپریشن کے بعد کی متوقع تصویر دکھاتے ہیں۔ اگر پسند آئے تو ٹھیک ورنہ جیسے تمہاری مرضی۔“ چھیمو نے خان کو دو تصویریں دے دیں۔ طبلہ نواز نے قصائی گلی میں مشہور کر دیا کہ کار والا بائی جی کا پرانا قدر دان تھا اور اس کے بیٹے کو باہر بھیج رہا تھا۔

چند دن بعد خان بیٹے کو بیٹی کے روپ میں تصویر لے کر آ گیا۔ چھیمو کو تصویر واقعی اچھی لگی۔ اگر ایسا ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ لیکن اندیشے تو تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سب پہ خرچ کتنا ہوگا اور کہاں سے آئے گا اور یہی سوال اس نے کیا۔ خان نے جو رقم بتائی تو چھیمو کے اوسان خطا ہو گئے۔ اتنے پیسے تو اس نے اکٹھے کبھی دیکھے ہی نہیں تھے۔

”بائی جی۔ میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔“ خان بولا ”تم سمجھدار ہو اور اچھی طرح سمجھ سکتی ہو یہ خاصا مہنگا کام ہے۔ تقریباً سال بھر کے علاج کا خرچہ ہے اور تمہارے پاس سرمایہ نہیں ہے۔ ٹھیک۔“

چھیمو نے اثبات میں سر ہلایا۔

تو یوں کرتے ہیں۔ ہم حصہ دار بن جاتے ہیں۔ سارا خرچ اخراجات میرے ذمہ، علاج کے بعد جب تمہاری کمائی شروع ہو تو جو کچھ بھی تم کماؤ اس میں سے میرا حصہ ہوگا۔ انصاف سے دیکھا جائے تو میرا حصہ نصف ہونا چاہیے۔ لیکن میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ اس لئے روپے میں سے ساٹھ پیسے تمہارے چالیس میرے۔

چھیمو بائی سوچ میں پڑ گئی۔ مشکل میں تھی۔ لیکن تھی گھاگ کاروباری۔ تو اس نے چالیس فیصد ماننے سے انکار کر دیا۔ خان نے مختلف حسابی کتابی باتیں کر کے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ تکرار ہوتی رہی۔ آخر چوکیدار جو خان کو لے کر آیا تھا اور طبلہ نواز کی کوششوں سے فریقین بیس فیصد پہ مان گئے۔ مٹھائی منگوالی گئی اور معاہدہ کاغذ پر لکھ لیا گیا۔ دستخط ہو گئے۔ چوکیدار اور طبلہ نواز معاہدے کے گواہان تھے۔

لیکن چھیمو بائی کے چھوٹے بیٹے جسے ہم وکی کہہ لیتے ہیں نے انکار کر دیا۔ اور شاید وہ اس کے لئے ایک جھٹکا بھی تھا جس نے اسے تبدیل کر دیا۔ ناچنے گانے کے علاوہ تو اسے کسی کام سے واقفیت نہیں تھی لہٰذا پہلے اس نے موت کے کنویں والوں کے ساتھ ڈانس کرنا شروع کر دیا۔ شکل و صورت اچھی تھی لہٰذا معقول آمدنی ہونے لگی۔ وہاں سے وہ اسٹیج ڈراموں تک جا پہنچا۔ پہلے رقاص پارٹی میں ڈانس کرتا رہا۔ پھر اسے ایک ڈرامے میں بولنے کا چانس مل گیا۔ بس وہ چل نکلا۔ سارے کنبے کے حالات اچھے ہو گئے۔ قصائی گلی میں برتنوں کی مارکیٹ بن گئی تھی۔ وکی نے مسلم ٹاؤن میں مکان خرید لیا۔ کچھ جائیداد بن گئی بینک بیلنس ہو گیا۔ آسودگی آ گئی۔

لیکن جیسا کہ ایسی کہانیوں میں ہوتا ہے۔ ایک رات اوکاڑہ میں ڈرامہ کرنے کے بعد لاہور آتے ڈاکوؤں نے روک لیا۔ ہاتھا پائی ہو گئی اور گولیاں چل گئیں۔ وہ چل بسا۔

”“ چاچا اس کہانی میں ٹریجڈی ہے، ڈرامہ ہے، ایکشن ہے لیکن رومانس نہیں ہے، کامیڈی نہیں ہے، شاہ صاحب بولے۔

”رومانس کا مجھے پتہ نہیں لیکن کامیڈی آگے آ رہی ہے۔“ چاچا نے جواب دیا۔

کفن دفن کے بعد پتہ چلا کہ وکی تمام جائیداد بینک بیلنس وغیرہ اپنے بڑے بھتیجے کے نام کر چکا تھا۔ یہ بھتیجا مولانا طارق جمیل سے متاثر تھا۔ کالج میں بڑھتا تھا اور اکثر تبلیغی دوروں پر جاتا تھا۔ لہٰذا سب کے اللے تللے خطرے میں پڑ گئے۔ چھیمو بائی عمر رسیدہ ہو چکی تھی لیکن عادتیں خراب تھیں پیسوں کی ضرورت رہتی تھی۔ اسی طرح کنبے کے باقی لوگ بھی خوش نہیں تھے۔ لیکن بے بس تھے۔ ایسے میں ایک دفعہ پھر چوکیدار اور طبلہ نواز بروئے کار آئے۔

لاہور کا خان اپنے معاہدے کے ساتھ نمودار ہوا۔ اس نے جائیداد میں حصے کا کلیم کر دیا۔ اس کا موقف تھا کہ بائی جی نے معاہدہ کیا تھا کہ چھوٹے بیٹے کی تمام کمائی کا بیس فیصد خان کو ملے گا لہٰذا بیس فیصد اور دیگر اخراجات اسے ملنے چاہیے۔ بھتیجا ایک لکھا معاہدہ اور اس کے مندرجات سے حیران و پریشان ہو گیا۔ پھر بھی اس نے اعتراض اٹھایا کہ آمدن میں حصہ داری آپریشن کے بعد ہونی تھی۔ آپریشن تو ہوا ہی نہیں۔ تو پھر حصہ کیسا؟ جس کے جواب میں خان نے لکھا ہوا معاہدہ دکھایا جس میں ”وکی کی کمائی“ کا لکھا تھا جنس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ توتکار ہوئی، جھگڑا شروع ہو گیا۔ بات جرگے تک جا پہنچی۔

لاہور کے بازار حسن کے جھگڑوں کو میاں محمود نمٹایا کرتے تھے۔ راولپنڈی کے جھگڑوں کی منصفی ایک شیخ صاحب کے سپرد ہوا کرتی تھی۔ انہیں کی سربراہی میں جرگہ بیٹھ گیا۔ انہوں نے معاہدے کے کاغذات دیکھے۔ چوکیدار، طبلہ نواز اور خود بائی جی نے معاہدے کے حق میں گواہی دی اور مان لیا کہ ایسا ہی معاہدہ ہوا تھا۔ بھتیجے نے بہترا کہا کہ چچا تو پھوپھی بنا ہی نہیں۔ جس کے جواب میں خان کا استدلال تھا کہ معاہدہ کرنے کے بعد آپریشن سے مکر جانے سے بائی جی اور اس کے بیٹے نے اسے متوقع آمدنی سے محروم کرنے کی سازش کی تھی۔

خان نے یہ بھی بتایا کہ تمام ادویات اور ٹیکاجات خرید لئے گئے تھے۔ ڈاکٹروں کو ایڈونس ادا کر دیا گیا تھا پورے سال کے علاج کے لئے انتظامات کرلئے گئے تھے اور دیگر ضروری اخراجات بھی برداشت کیے تھے۔ لہٰذا آپریشن نہ کروا کر بائی جی نے معاہدہ خراب کیا۔ اس لئے جرمانہ بھی کیا جائے۔ منصفین تو کاغذات اور گواہوں پہ فیصلہ کرتے ہیں۔ لہٰذا تمام گواہوں، رسیدوں اور کاغذات کی روشنی میں منصفوں نے شیخ صاحب کی سربراہی میں لاہور کے خان کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ البتہ خان کے جرمانے والے موقف کو رد کر دیا۔ یوں وہ چچا جو کبھی پھوپھی بنا ہی نہیں کی جائیداد میں سے بیس فیصد حصہ نالش کرنے والے کو مل گیا۔ سنا ہے اس سارے مقدمے سے چوکیدار اور طبلہ نواز کو خوب فائدہ ہوا۔ اس لئے میرے بچوں معاہدے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرنے چاہیے۔ چاچا جاوؤ نے کہانی کا نچوڑبھی نچوڑ دیا۔

تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ پھر چوہدری سنجیدہ بولا ”کیا کہتے ہو کامریڈ، کہانی کیسی رہی؟“

لیکن میرے جواب دینے سے پہلے استاد اختر رنگریزہ نے جواب اچک لیا۔ ”مجھے تو یہ خاصی فلمی کہانی لگی ہے۔ اس میں ڈرامہ، ایکشن، ٹریجڈی، کامیڈی سب کچھ ہے۔ رومانس کی البتہ کمی ہے۔ جسے وکی کے ساتھ ایک لڑکی کا کردار ڈال کر پورا کیا جاسکتا ہے۔ مزید رومانس ڈالنا ہو تو چھیمو بائی کا فلیش بیک ڈالا جاسکتا ہے یا بھتیجے کے ساتھ کوئی نئی تروتازہ ہیروئن ڈالی جا سکتی۔ استاد اختر برصغیر کی فلموں کا جوشیلا فلم بین تھا۔

”“ لیکن میرے خیال میں یہ ایک بے ہودہ کہانی ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ چاچا جاوؤ ایک پٹواری ہے ”شاہ صاحب نے کہا

”میں کہاں کا پٹواری ہوں؟ تم سب جانتے ہو میں تو ایک معمولی سا ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہوں۔“
”چاچا، یوتھیئے نون لیگ کے حامیوں کو پٹواری کہتے ہیں۔“

”میرا تو کبھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ میں نے تو 1977 ء کے بعد کبھی ووٹ ہی نہیں ڈالا۔“

”تم ووٹ ڈالو یا نہ ڈالو۔ یہ کہانی تم نے بہت باریک ڈالی ہے۔“ شاہ صاحب رؤف احمد بولے۔ ”اور اس کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ تمہارا لیول پٹواری سے اونچا ہے۔ تم نائب تحصیلدار یا کم از کم گرداور لیول کے ہو۔“

”لیکن صاحبو میں کچھ اور سوچ رہا ہو“ چوہدری سنجیدہ نے کہا۔
” اور وہ کیا ہے؟“
” وہ یہ کہ ہمیشہ چوکیدار اور طبلہ نواز ہی فیض یاب ہوتے ہیں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •