بس یوٹرنی سیاست کا مزا لیتے رہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ کیا ہے کہ حالات بدلتے نہیں اور تحریروں میں نیا رنگ دیکھنے کو ملتا نہیں، پڑھنے والے بھی اکتا جاتے ہیں مگر کیا کیا جائے بات مسائل و مشکلات کی کرنا ہی پڑتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا لکھنا ضروری ہے ، جی، کیونکہ ہم قریباً 35 برس سے لکھ رہے ہیں لہٰذا لکھنے کی عادت پختہ ہو چکی ہے ، اب لکھے بغیر رہا نہیں جاتا ، ہماری اس کمزوری کا کچھ لوگ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں ، اس کے باوجود قلم حرکت میں رہتا ہے۔

ہاں تو جناب عمران خان نے اڑھائی برس گزرنے پر بھی مہنگائی پر قابو نہیں پایا۔ سینہ زور دندناتے پھر رہے ہیں۔ قبضہ گیر اسی طرح قبضے کر رہے ہیں جس طرح پہلے کرتے تھے ۔ میرے ساتھ تو خود بیت رہی ہے مگر ابھی اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا، پھر کبھی سہی؟

رشوت خور ، ذخیرہ اندوز، سفارشی اور کمیشن مافیا اپنی جگہ موجود ہیں اور دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم با آواز بلند کہتے ہیں کہ سب کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کروں گا۔ پنجاب میں ان کی جماعت کی حکومت ہے جہاں وہ براہ راست معاملات دیکھ سکتے ہیں مگر باتیں ہی باتیں ہیں اور کچھ نہیں؟ کمزوروں ، مفلوک الحالوں اور غریبوں کی کوئی زندگی نہیں ، ان کا بری طرح سے استحصال جاری ہے ، تھانے اور پٹوار خانے دھڑلے سے ان کی کھال کھینچ رہے ہیں۔

ہر سمت سے چیخیں بلند ہو رہی ہیں مگر اہل اختیار کو اس کا کوئی احساس نہیں ۔ غنڈے بدمعاش اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہیں مگر مجال ہے کوئی قانون پر عمل درآمد کرانے والا ادارہ انہیں آگے بڑھ کر روکے۔ تہتر برس کے بعد بھی ملکی معیشت ڈانواں ڈول ہے اور سماجیات کا برا حال ہے۔ انسانیت کا جذبہ سرد تر ہو چکا ہے ، آپا دھاپی کا ماحول ہے مگر حیرت ہے اور افسوس بھی کہ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

حکومت کی ساری توجہ اپنی مخالف سیاسی جماعتوں پر مرکوز ہے اور یہ گردان مسلسل کی جا رہی ہے کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا ، فلاں اندر ہو گا اور فلاں سے لوٹا پیسا نکلوایا جائے گا۔ یہ کیسا نظام حکومت ہے کہ غریب بلبلا رہا ہے ، کاروبار مندے میں جا رہے ہیں ، مافیاز آزاد ہیں جو زندگی کی تھوڑی بہت رمق باقی ہے ، اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے۔

اب تو عوام کو یہ گماں ہونے لگا ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے جو خوشحالی و انصاف کے نعرے لگائے تھے ، وہ محض اقتدار میں آنے کے لئے تھے۔ یہ بھی لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ایسے ماہرین کی ٹیم باہر سے لائیں گے جو خراب معاشی حالت کو پلک جھپکتے میں ٹھیک کر دے گی ۔ وہ ایسے ایسے ترقیاتی منصوبے بنائیں گے کہ دنیا حیران رہ جائے گی اور احتساب ایسا ہو گا کہ ملکی تاریخ میں کسی نے نہ دیکھا ہو گا ، مگر وہ سب ایک سراب ثابت ہوا۔

پہلی بار یوٹرنی سیاست متعارف کرائی گئی ہے کہ آج وزیر اعظم آج کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں ، کل کچھ اور ۔ عوام پوچھتے ہیں کہ وہ کیا ٹھیک کرنے جا رہے ہیں؟ چلیے مان لیا کہ بہتری کے لئے تکالیف بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں مگر یہ سلسلہ تو آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے ، خوشحالی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے ، بس ”گھبرانا نہیں” کہا جا رہا ہے ۔ کب تک یہ سب چلے گا؟

وزیروں مشیروں کی اکھاڑ پچھاڑ سے کیا حاصل ، ان سے رولا ڈلوانا مقصد ہے تو پھر مسائل بارے کون سوچے گا ۔ ان کو کون حل کرے گا ۔ ٹیکس در ٹیکس لگائے جا رہے ہیں ، بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ اب اگر بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں تو حکومتی جماعت کو شکست ہو گی اور عام انتخابات میں بھی اسے شکست ہو گی۔

لگتا ہے عمران خان کو آئندہ کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ، ان کے وزیراعظم بننے کی خواہش پوری ہو چکی ہے لہٰذا وہ مستقبل میں آرام کریں گے ۔ ممکن ہے وہ یورپ چلے جائیں ، انہوں نے ملکی معیشت کو بقول ان کے پٹری پر چڑھانا تھا سو چڑھا دیا اور ایسا چڑھایا کہ غریب ہائے ہائے کر رہے ہیں ، اب جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو ان پر پولیس ٹوٹ پڑتی ہے ۔ پچھلے دنوں کسانوں نے احتجاج کیا تو ان پر شدید تشدد کیا گیا۔ اساتذہ اور کلرک اپنی تنخواہوں اور ترقیوں کے لئے سڑکوں پر آتے ہیں تو ان کو سبق سکھایا جاتا ہے ، ادھر کمزور لوگوں پر جاگیردار اور وڈیرے ستم ڈھا رہے ہیں۔ تھانوں میں جعلی پرچے درج کروا کر انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔

آج ہم سوچ رہے ہیں کہ عمران خان اور ان کی جماعت کی حمایت میں جتنے بھی کالم لکھے ، کیوں نہ واپس لے لئے جائیں؟

ہر تقریر اور انٹرویو میں باتیں بڑی بڑی کی جاتی ہیں مگر نتائج سامنے نہیں آتے۔ ایک وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں جو ابھی تک اپنے صوبے پر انتظامی گرفت مضبوط نہیں کر سکے ۔ ان کے وزیر مشیر اکثر یہ بیان دیتے رہتے ہیں کہ بیوروکریسی انہیں کچھ نہیں کرنے دیتی ۔ اس کا مطلب ہے وہ عوام کے خلاف ہے۔ اگر واقعتاً ایسا ہے تو وہ میڈیا کے سامنے حقائق لائیں مگر میڈیا کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں ، حکومتی پالیسی کی وجہ سے سینکڑوں میڈیا کارکنان فارغ کر دیے گئے ہیں، کچھ اخبارات اور ٹی وی چینل بھی بند ہو گئے ہیں اور کچھ بند ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ان حالات میں حکومت کو چاہیے کہ اپنی کارکردگی (اگر کوئی ہے) تو اسے ظاہر کرنے کے لئے بہترین میڈیا ٹیم تشکیل دے اور اشتہارات کے حوالے سے نظر ثانی کرے مگر محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس سوچنے کا وقت نہیں ، اسے بھی شور مچانا ہے جس کے لئے وہ گاہے گاہے انتظام کرتی رہتی ہے ، عوام جائیں بھاڑ میں۔

اب وزیر اعظم نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے لوگوں کو مطمئن کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے ، پھر وہی باتیں پھر وہی وعدے اور دعوے۔ کرنا کرانا کچھ نہیں ، ہو بھی نہیں سکتا شاید ، لہٰذا ان کے اقتدار کا سفر اسی طرح جاری رہے گا اور طے ہونے پر وہ اپنے گھر کی جانب چل پڑیں گے ۔ پھر کوئی نیا آ جائے گا ، آسوں اور امیدوں کا دیا ایک بار پھر روشن ہو جائے گا۔ معلوم نہیں غیریقینی کا یہ سلسلہ اور کتنا دراز ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •