انڈین کسانوں کے کھڑکنے سے کھڑک گئیں کھڑکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے یہ مقولہ کبھی نہ کبھی تو سنا ہو گا کہ ”کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں“ ۔ اس مقولے کے پیچھے ایک داستان ہے ، پہلے وہ داستان آپ کو سناتا ہوں ، پھر آپ کو بتاؤں گا کہ یہ مقولہ آج کے دور میں کس طرح دوبارہ حقیقت بن کر سامنے آ گیا ہے۔

کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے اور پٹیالہ کے سب سے با اثر  جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے۔ ایک دن معمولات سے بیزار ہو کر وہ اپنے بھانجے کے پاس گئے اور کہا کہ ”شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے ، مجھے جج لگوا دو“ (ان دنوں میں کسی بھی سیشن جج کے آرڈر انگریز وائسرائے کیا کرتے تھے ) ۔ کھڑک سنگھ کے ماموں نے وائسرائے کے نام ایک چٹھی لکھ کر سفارش کی کہ ان کے ماموں کھڑک سنگھ کو سیشن جج لگا دیں۔ بھانجے سے چٹھی لکھوا کر کھڑک سنگھ سیدھا وائسرائے کے پاس جا پہنچا اور اپنے بھانجے کی چٹھی پیش کی۔ وائسرائے نے خط پڑھا اور پھر کھڑک سنگھ سے کچھ سوالات پوچھنے لگا تاکہ یہ جان سکے کہ کھڑک سنگھ جج بننے کے اہل ہے یا نہیں۔

وائسرائے نے کھڑک سنگھ سے پوچھا ”نام؟“
کھڑک سنگھ ’
وائسرائے۔ تعلیم؟
کھڑک سنگھ۔ ”تسی مینو جج لانا اے یا سکول ماسٹر؟“

وائسرائے ہنستے ہوئے ”سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں ، اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے؟“

کھڑک سنگھ نے مونچھوں کو تاؤ دیا اور بولا ”بس اتنی سی بات ، بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤں، میں برسوں سے پنچایت کے فیصلے کرتا آ رہا ہوں ، ایک نظر میں بھلے برے کی تمیز کر لیتا ہوں۔“

وائسرائے نے دل میں سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے، جس نے سفارش کی ہے ، وہ جانے اور اس کا ماموں۔ وائسرائے نے عرضی پر دستخط کر دیے اور کھڑک سنگھ کو جسٹس لگانے کا فرمان جاری کر دیا۔

اپنے آرڈر لے کر کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرۂ عدالت میں پہنچے گئے۔ اتفاق سے اسی روزپہلا کیس قتل کا تھا۔ کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی ہوئی خاتون کھڑی تھی۔ جسٹس کھڑک سنگھ نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھا اور پھر معاملہ سمجھ گئے۔ ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا ”مائی لارڈ، یہ عورت کرانتی کور ہے ، اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے۔‘‘

جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔ عورت بولی ”سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں درانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے اولے (پیچھے ) سے نکلے اور میرے کھسم (شوہر) کو جان سے مار دیا۔“

جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصے سے دیکھا اور پوچھا ”کیوں بدمعاشو، تم نے بندہ مار دیا؟“ دائیں طرف کھڑے ایک ملزم نے کہا ”نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی(کدال کی ایک قسم) تھی“ ، دوسرے نے کہا ”میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی، ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف اسے سمجھانا تھا۔

“ کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا ”جو بھی ہو، بندہ تو مرگیا نا؟“ کھڑک سنگھ قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگا تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص (وکیل) کھڑا ہوا اور بولا مائی لارڈ! رکیے، یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے، یہ ایک زمین کا پھڈا تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے ، بھلا مقتول وہاں کیوں گیا تھا؟ ”جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا“ یہ کالے کوٹ والا کون ہے؟ ”پولیس والے نے جواب دیا“ جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے۔

”کھڑک سنگھ بولا“ تو انہی کا بندہ ہوا ناں ، جو ان کی طرف سے بات کر رہا ہے۔ ”کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں ملزمان کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا اور پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کر دیے۔ فیصلے میں لکھا تھا (ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جائے) ۔

کھڑک سنگھ کا فیصلہ سن کر پورے پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی، لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھرتھر کانپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دے دیتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اچانک جرائم کی شرح صفر ہو گئی، کوئی بھی وکیل کسی مجرم کا کیس نہ پکڑتا۔ جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہے ریاست میں خوب امن رہا۔ پڑوس کی ریاست سے بھی لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔ اس واقعہ کے بعد مشہور ہوا کہ کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کی کھڑک سنگھ کا یہ مقولہ عملی شکل آج کے دور میں پوری دنیا کو دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انڈین کسان سکھ جس طرح ٰانڈیا میں کھڑک رہے ہیں،  اس سے انڈیا کے ایوانوں کی کھڑکیاں کھڑک گئی ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے انڈیا نے جس ڈھٹائی کے ساتھ یوم جمہوریت منایا ہے،  وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ایک طرف انڈیا میں یوم جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں سکھ برادری وغیرہ کے ساتھ ان دنوں جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ سب کچھ دنیا دیکھ رہی ہے اور سوال پوچھ رہی ہے کہ کس منہ سے انڈیا یوم جمہوریت منا رہا ہے ، اسی لیے انڈیا کے یوم جمہوریت کو دنیا نے یوم سیاہ کے طور پر منایا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •