نظریاتی مخالفین کی لاشوں سے بھی اتنا خوف کیوں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی میں نظریات اور ان سے سچی وابستگی کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے مگر اس سے بھی بڑی صداقت یہ ہے کہ لوگ ہمارے نظریات سے زیادہ رویوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی نظریاتی کے نظریات سماجی اور معاشرتی تعلقات کے آڑے آرہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نظریات کی وجہ سے انسانوں سے نفرت کرنے لگے ہیں۔

مذہبی عقائد ہوں، سیاسی نظریات ہوں، مسلکی تقسیم ہو یا قوم پرستی کا جذبہ ہو، یہ سب چیزیں اگر مخالف نظریات و عقائد رکھنے والوں سے نفرت، عداوت اور بغض کا باعث بن رہی ہیں تو انسان کو اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر انسان آپ کے عقائد و نظریات کا حامل ہو، ہر طرح کا اختلاف اور اختلاف رائے تو اس کائنات کا حسن ہے۔ کیا آپ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والے آپ کے لیے ناقابل برداشت ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو آپ منصب انسانیت اور شرف آدمیت کے مرتبے پر فائز نہیں ہیں۔

یہ سب باتیں مجھے گزشتہ دنوں راولاکوٹ کے عظیم سوشلسٹ انقلابی رہنما اور اپنے عزیز امجد شاہسوار کی تجہیز و تکفین کے موقع پر کچھ کٹھ ملاوں اور مذہبی شدت پسندوں کا بچگانہ رویہ دیکھ کر یاد آئیں۔ ریاست اور نظریاتی مخالفین کا یہی رویہ بلوچستان کی دختر اور عظیم قوم پرست خاتون رہنما اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سابق چئیر پرسن محترمہ کریمہ بلوچ کی آخری رسومات کے موقعے پر بھی دیکھنے میں آیا جنہیں گزشتہ ماہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی لاش ایک چھوٹے سے جزیرے میں پانی میں ڈوبی ہوئی ملی تھی۔ وہ بیس دسمبر سے لاپتہ تھیں۔ دیار غیر میں گمشدگی کے بعد اس طرح کے قتل کا یہ دوسرا بہیمانہ واقعہ تھا۔ اس سے قبل بھی ہمارے ایک قوم پرست صحافی ساجد حسین کی لاش بھی اسی طرح ملی تھی۔

امجد شاہسوار گزشتہ آٹھ سال سے ملائشیا میں مقیم تھا۔ یہاں وہ آزادکشمیر میں این ایس ایف کا صدر رہ چکا تھا۔ اسی پلیٹ فارم سے اس نے سوشلسٹ انقلاب کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ وہ تا دم آخر بھوک، ننگ، ذہنی و جسمانی غلامی، سماجی و معاشی تفریق، سرمایہ دارانہ نظام اور طبقاتی تقسیم کے خلاف لڑتا رہا۔ بظاہر بہت مضبوط اعصاب کا مالک تھا مگر ایک رات سویا تو دوبارہ نہیں جاگا۔ وہ جس کا دل افتادگان خاک اور مفلوک الحال لوگوں کے لیے ہمہ وقت دھڑکتا رہتا تھا، اچانک اپنی دھڑکنیں بھول گیا اور دیار غیر میں اس کی آٹھ سالہ خود ساختہ جلا وطنی یوں ختم ہوئی کہ جواں مرگ قید حیات سے آزاد ہو گیا۔

جس طرح زندگی میں اس کے چہرے پر شانتی اور سکون کی شفق چھائی رہتی تھی ، مرنے کے بعد بھی سکون سے سویا تھا۔ گویا نروان پا لیا ہو۔ آزاد پتن کے مقام پر کہر آلود اور یخ بستہ رات کے سناٹے چھائے تھے۔ دریائے جہلم کی موجیں بھی خواب آگیں کیفیت میں گم تھیں۔ ہر طرف گہری تاریکی اور مکمل سکوت طاری تھا۔ پھر اچانک سوشلسٹ انقلابیوں کے ولولہ انگیز اور فلک شگاف نعروں نے اس سکوت کو توڑا۔ یہ وہ نوجوان تھے جو امجد مرحوم کا استقبال کرنے امنڈ آئے تھے۔

جس روز اس کا جسد خاکی راولاکوٹ کی میں پہنچا، ہوائیں یخ بستہ اور موسم سخت سرد تھا۔ تھوڑی دیر بعد آسمان بھی برسنے لگا گویا امجد کی جدائی میں رو پڑا ہو۔ کچھ دیر برف کی شکل میں آسمان سے سفید چاندی جیسے گولے بھی برسے۔ ہواوں میں دبی دبی سسکیوں کی آواز تھی۔ وادیٔ پرل کی خوبصورت فضائیں اداس تھیں۔ راستے مغموم اور راہی سوگوار تھے۔

وہ فخر گل نہیں رہا نہ رونق بہار ہے
یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے

جوانی کی مرگ یوں بھی دکھ و اندوہ سے معمور ہوتی ہے مگر ماں کے لیے یہ سانحہ قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ اللہ تعالٰی نے شاید امجد کی والدہ کو اس قیامت خیز سانحے کے غم سے بچانا تھا اس لیے چند برس قبل ان کی یادداشت چھین لی تھی۔ کچھ خواتین نے انہیں مرحوم لخت جگر کا آخری دیدار کروانے کی کوشش کی۔ انہوں ایک نظر اپنے جواں مرگ بیٹے کی لاش کو دیکھا اور پھر تاسف بھرے لہجے میں کہا کہ کسی کا کتنا خوب صورت جوان چل بسا۔ وہاں موجود تمام لوگوں کی سسکیاں چاروں طرف بکھر گئیں جو آہیں بھرتی ہوا سے بغلگیر ہو کر بین کر نے لگیں۔ میں غالب کا یاد ماضی عذاب ہے یارب والا شعر تقریباً پچیس سال سے پڑھ اور پڑھا رہا ہوں مگر اس روز میں اس شہرۂ آفاق شعر کی آفاقیت سے آگاہ ہوا اور اس کی بھرپور معنویت مجھ پر آشکار ہوئی۔

زندگی میں امجد مرحوم کے نظریات و عقائد پر دبی دبی تنقید کرنے والے ہمارے کٹھ ملا شدت پسندوں نے اس کے مرنے کے بعد اس پر بہتان طرازی اور الزام تراشی کی تمام حدیں پار کر لیں۔ وہی گھسی پٹی باتیں، وہی بودے اعتراضات، وہی روایتی تاویلات، وہی الحاد و ارتداد کے الزامات، وہی دشنام طرازی اور وہی دریدہ دہنی اور فتووں کے انبار۔ سنا ہے ضلعی مفتی صاحب نے امجد مرحوم کا جنازہ نہ پڑھنے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالٰی نے انہیں لوگوں کے کفر و اسلام کے فیصلے صادر کرنے کا اختیار کب تفویض کیا تھا؟ مگر ان کے فتوے کو کسی نے پذیرائی نہیں بخشی اور موسم کی شدت، برف باری اور جنازے کے وقت کے مخمصے کے باوجود ہزاروں لوگ جنازے میں شریک ہوئے۔

ادھر بلوچستان میں حریت فکر کی علم بردار کریمہ بلوچ کی آخری رسومات کی ادائیگی اور جنازے میں انتظامیہ نے قدم قدم پر رخنہ اندازیاں کیں۔ لوگوں کو جنازے میں شامل ہونے سے روکا گیا۔ لواحقین کو چار گھنٹے کی تاخیر سے میت ملی۔ لوگوں کو تربت سے آگے نہیں جانے دیا گیا۔ کراچی میں کریمہ بلوچ کا جنازہ نہیں پڑھنے دیا گیا۔ امجد شاہسوار اور کریمہ بلوچ کے جنازوں پر ہونے والے واقعات بتاتے ہیں کہ ہم لوگ شدت پسندی اور شقاوت قلبی میں بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ نظریاتی مخالفین کی لاشوں سے بھی اس قدر خوفزدہ ہونے کے واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ مکالمے اور دلیل کے حوالے سے ہم تہی دامن ہوتے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words