نااہل حکمران اور روحانیت کی اداکاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دنیا جس کو اس کے خالق نے اسباب کے ساتھ جوڑا ہے، ایک خاص ڈگر پر ابتدائے آفرینش سے چل رہی ہے جس کے پیچھے کچھ خاص قوانین ہیں ، جن سے انحراف کا مطلب اپنی تباہی کو آپ دعوت دینا ہے۔ اس دنیا میں جو مختلف کاروبارہائے حیات چل رہے ہیں ، ان میں امور مملکت کا کارخانہ سب سے اہم اور بنیادی حیثیت کا حامل ہے، اس کا براہ راست عام انسان کی زندگی سے تعلق ہے۔ گویا یہ وہ شعبہ ہے جس میں معمولی سی غفلت کا نتیجہ بہت بھیانک تباہی پہ جا کر منتج ہو سکتی ہے، اور پھر سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

تاہم جو افراد اس شعبہ کے ساتھ وابستہ ہیں ، ان کی وابستگی اور طرز حکومت میں فرق لازمی رہا ہے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے۔ ابتداء میں کسی بھی قوم پہ حکومت کرنے کے لئے انسان کا عددی، مالی اور جسمانی لحاظ سے طاقتور ہونا اس کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، اور جس کا جب دل چاہتا وہ اپنی برتری دکھلا کر اور تمام اخلاقی حدود و قیود کو پامال کرتے ہوئے اپنے حریف کو پچھاڑتا اور حکومت پہ قابض ہو جاتا۔

اور پھر یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا تاوقتیکہ کوئی اور قبیلہ، ملک یا قوم اس حکومت کا خاتمہ کر کے وہاں اپنی حکمرانی کی بنیاد رکھ لے۔ تاہم جب اسلام کا ظہور ہوا اور نبی اکرم ﷺ نے باقاعدہ ایک نظام حکومت کا نقشہ اپنے متبعین کے سامنے رکھا، تو اس کے مطابق خلافت راشدہ قائم ہوئی جہاں حکمرانی کا استحقاق قبیلہ، رنگ، نسل، زبان یا ملک نہیں بلکہ تقویٰ، خشیت، جہاں بانی کے اسرار و رموز سے واقفیت اور اسلام کے مبادی کی فہم تھی۔

اگر ہم خلافت راشدہ کا تیس سالہ دور دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان خلفائے راشدین نے ہر وہ قدم جو انسانیت کی فلاح کی خاطر اٹھ سکتا تھا، اٹھانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا اور دامے درمے سخنے انسانیت کو مظالم سے بچا کر ان کو ان کی بنیادی ضروریات بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب پوری کیں۔ تاہم اسلامی حکومت میں زمینی وسعت آنے کے سبب، جب مال و دولت کی فراوانی ہوئی تو عوام الناس کے اندر دینی رنگ ماند پڑنے لگا اور اس کی جگہ دنیا کی آسائشوں اور دیگر تعیشات نے لے لی۔

چنانچہ اس دور میں کچھ لوگ سامنے آئے جنہوں نے ان دنیوی آسائشوں اور دیگر تکلفات سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو بالکلیہ آخرت کا مسافر بنا لیا اور ہمہ وقت دنیا سے لاتعلقی اور بیزاری کے اظہار کے ساتھ ساتھ وہ اس کی تمام نعمتوں سے اپنے آپ کو متمتع کرنے کو بھی برا جاننے لگے۔ یہی وہ اشخاص تھے جن سے آگے چل کر ایک نئے سلسلے کی بنیاد پڑی جس کو آج ہم صوفیاء یا روحانیت کا نام دیتے ہیں۔ اسی سلسلے کی دوسری کڑی اسلام کو شریعت اور طریقت کے نام پر تقسیم کیا جانا ہے، جس کی رو سے کچھ افکار و اعمال کو شریعت اور باقی ماندہ افعال کو طریقت کے نام پر الگ کر کے ایک نئے سلسلے کی بنیاد رکھی گئی جس کا ثبوت نہ قرآن میں، نہ سنت رسول اللہ ﷺ سے اور نہ ہی دور صحابہ سے ثابت ہے۔

دنیا میں جتنے بھی مذاہب گزرے ہیں یا دینی تحریکات چلی ہیں، ان کی ابتداء ایک خاص نیت اور نہج پر ہوئی تھی، مگر دھیرے دھیرے ان کے اندر دیگر نظریات کی آمیزش نے ان کا حلیہ یکسر بدل کر رکھ دیا اور یوں وہ اس قدر مسخ ہو گئیں کہ ان کے اصلی افکار گویا منوں مٹی تلے دب کر رہ گئے۔ چنانچہ یہی حال اس روحانی تحریک کے ساتھ بھی ہوا کہ جس تحریک کی بنیاد دنیوی امور سے لا تعلقی اور خالص اسلام کی پیروی پر رکھی گئی تھی، وہی تحریک آج دنیوی آسائشوں کے حصول اور تمام منہیات کی جامع بن چکی ہے۔

آج اس تحریک کے ذریعے اسلام کو شریعت اور طریقت کے دو ان دریاؤں میں منقسم کر دیا گیا ہے کہ جن کے دھارے کبھی بھی آپس میں مدغم نہیں ہو سکتے۔ اگر یہ بات انفرادی سطح تک ہی محدود رہتی تو شاید اس کا اثر اتنا وسیع نہ ہوتا، مگر جب اس روحانیت کے زیر سایہ امور مملکت کو بھی چلانے کا عمل شروع ہوا تو سماجی اور اجتماعی طور پر اس نئی سوچ نے پورے معاشرے کو متاثر کیا۔

ہماری ازمنہ وسطی کی مذہبی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر ظالم اور جابر حکمران کو جب بھی اپنی عیاشی، اسراف اور ظلم کے واسطے کسی مذہبی سہارے اور تاویل کی ضرورت پڑی تو ان سر تا پا دنیوی آلائشوں میں جکڑے ملاؤں اور صوفیاء نے ان کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دیتے ہوئے ان کو عوامی غیظ و غضب سے پناہ فراہم کی۔ (یاد رہے کچھ مستثنیات بھی ہیں جن  نے موت کو تو قبول کیا مگر ظالم حکمران کے سامنے گردن نہیں جھکائی) اور انہی دو طبقات کے لئے ہمارے یہاں درباری ملاء اور صوفی کی اصطلاحات ایجاد ہوئیں۔

چنانچہ ان دو طبقات نے محض اپنی گدی اور مصلیٰ کو بچانے کی خاطر اور حاکم وقت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز نہیں کیا اور بدلے میں خلعت فاخرانہ اور دیگر تمام فیوض سے مال مال کیے گئے۔ تاہم انہوں نے اس یہ سوچنا گوارا نہ کیا کہ ہمارے اس اقدام سے عوام الناس کی حالت زار پر کیا اثر ہو گا اور ظلم و ستم کی ماری رعایا اپنی فریاد رسی کے واسطے کہاں جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے حکمران طبقے کا طرز عمل بھی قابل دید ہے جو حکومت حاصل کرنے کی خاطر ان جعلی صوفیاء اور ملاؤں کی ہر بات پر آمین کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور ہرگز یہ نہیں سوچتے کہ آیا وہ کاروبار مملکت کو چلانے کی مطلوبہ اہلیت اور اس کی شرائط پر پورا اترتے بھی ہیں یا نہیں؟

یہ بات کس قدر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ ہمارے ملک کے دو سابق حکمران محض حکومت حاصل کرنے کی خاطر مانسہرہ کے سنگلاخ اور دشوار گزار پہاڑوں پہ جاکر ایک ایسے انسان سے ڈنڈے کھاتے رہے ہیں، جو اپنے نفع نقصان کا بھی خود بھی مالک نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے سابق صدر کا طرز عمل بھی دیکھنے کے لائق تھا کہ جب محض ایک شخص کے ٹوٹکوں کی بنیاد پر کامل پانچ برس اس کو اپنے ساتھ رکھا اور عوام کا وہ کچومر نکالا کہ آج ان کی پارٹی کو پنجاب میں ڈھونڈنے سے بھی بندہ نہیں ملتا۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمارے موجودہ ”امیر المومنین“ صاحب تو سابق تمام حکمرانوں سے بازی لیتے ہوئے اس طبقے کے ایک فرد کو مستقل اپنے گھر ہی میں رکھ کر ان کی ہدایات کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ تاہم یہ مت سمجھیے کہ اس میں صرف سیاستدان ہی شامل ہیں، بلکہ اس کھیل میں سبھی طبقات کے لوگ شامل ہیں جو محض اپنے اختیار اور اقتدار کو دوام بخشنے اور بے پناہ دولت کو ہتھیانے کے چکر میں ان آستانوں کا رخ کرنے میں کوئی جھجھک اور شرمندگی محسوس نہیں کرتے اور ساتھ ہی اس کو عین اسلام سمجھتے ہوئے اپنی آخرت کا سرمایہ بھی سمجھتے ہیں۔

اگر محض ان صوفیاء سے تعلق اور ان کے بتلائے گئے عملیات سے ہی کاروبار حکومت کا کام چل سکتا تو آج شاید ہمارے ملک کی حالت اس قدر بری نہ ہوتی۔ کاروبار حکومت یکسر الگ چیز ہے جس کو چلانے کے لئے ایک خاص سطح کی اہلیت، سوچ، بصیرت اور علم درکار ہوتا ہے، اور جس انسان کے اندر یہ معیار موجود ہوتا ہے وہ ان روحانی سہاروں اور جعلی عاملوں کے چکر میں پڑ کر وقت ضائع کرنے کی بجائے خدمت خلق کو اپنا بنیادی وتیرہ بناتا ہے اور عوام الناس کی مالی، ذہنی اور روحانی آسودگی کی خاطر تگ و دو کرتا ہے۔

خلافت راشدہ کے ادوار میں ہمیں عہدوں کی بندر بانٹ اور طرز حکمرانی کی ایسی کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ جب خلیفہ راشد، کسی نام نہاد روحانی اور پر اسرار شخصیت کا اسیر ہو کر، اپنی قابلیت کی بجائے اس کے اشاروں پہ سیاسی فیصلے کرتا پایا جائے۔ لیکن محض حکومت لینے کے شوقین اس بات سے اس قدر لاتعلق ہیں کہ بھلے عوام الناس کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر کیوں نہ ہو جائے، انہیں بس اقتدار میں میں رہنا ہے اور اس کے لیے جو بھی قبیح افعال انجام دینے پڑیں یہ بصد ادب و احترام انجام دے دیتے ہیں اور پھر مطلوبہ قابلیت کے فقدان اور اسرار حکومت سے ناواقفیت کے باوجود جب اقتدار کی مسند پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں تو عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کو کبھی ہاتھوں میں تسبیح، تو کبھی نماز پڑھتے ہوئے تصاویر کے ساتھ ، کبھی آستانوں پہ سجدہ ریزی کے مناظر تو کہیں مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوتے ہوئے یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ ان سے بڑا اسلام کا ہمدرد اور عوام الناس کا خیر اندیش کوئی دوسرا نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •