خوف کی سرحد کے پار زندگی ہے



زندگی بڑی عجیب چیز ہے جس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ہر کوئی اس زندگی کو مختلف انداز سے پرکھتا ہے ، گزارتا ہے۔ چارلی چپلن کہتا ہے کہ زندگی کو اگر قریب سے دیکھو گے تو سانحات ہی سانحات ہیں مگر اس کو اگر دور سے دیکھیں گے تو یہ مزاح محسوس ہو گی ۔ ہر شخص کا زندگی گزارنے کا اور زندگی کو دیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ زندگی بہت سی کیفیات کا نام ہے جیسے خوشی، غمی، درد، کرب، بے چینی، سکون، اطمینان اور خوف۔ ان تمام کیفیات میں سے خوف ایک ایسی کیفیت ہے جو تقریباً ہر انسان کی زندگی کی وہ کیفیت ہے جو اس کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے۔

خوف کی کیفیات انفرادی سطح پر مختلف ہوتی ہیں جو گزرتے لمحات اور دنوں کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں مگر کچھ خوف ایسے بھی ہوتے ہیں جو اجتماعی ہوتے ہیں ، جس کی بڑی مثال کورونا وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے اور اس خوف کو ختم کرنے کے لئے بنی نوع انسان ویکسین کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

اسی طرح خوف کی درجنوں اقسام ہے اور سبھی انسان کسی نہ کسی قسم کے خوف کا شکار ہمیشہ رہتے ہیں۔ انسان ایک بے چین مخلوق ہے ، وہ حال سے زیادہ ماضی اور مستقبل میں جیتا ہے، وہ ماضی کی یادوں کو ذہن پر طاری کر لیتا ہے اور بے قرار ہوتا ہے اور مستقبل کی فکر میں ڈوب کر حال کو بے چین بنا دیتا ہے۔ لیکن اگر انسان ماضی اور مستقبل کے بجائے حال میں جینا سیکھ لے، وہ اطمینان حاصل کر لیتا ہے۔

خوف کی بے شمار اقسام ہیں جس کی کیفیات انسان پر وقتاً فوقتاً چھائی رہتی ہیں۔ جیسے موت کا خوف ہے جو ہر انسان پر مختلف اوقات میں طاری ہوتا ہے بالخصوص اس وقت کہ جب کورونا وائرس چل رہا ہے تو یہ خوف چار سو پھیل گیا۔ اسی طرح غربت کا خوف ہے جو بے شمار لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے، نوجوانوں کو مستقبل کا خوف ہے، نوکر پیشہ طبقے کو نوکری چلے جانے کا خوف ہے، والدین کو بیٹی کی ڈھلتی عمر کا خوف ہے، معصوم بچوں کے والدین کو بچوں کی زندگی کا خوف ہے، اقتدار کے بھوکوں کو اقتدار چھوٹنے کا خوف ہے، ماں کو محنت مزدوری پر نکلے نوجوان کی صحت و سلامتی سے واپسی کا خوف ہے، نوجوان لڑکی کے والدین کو بیٹی کی ناموس کا خوف ہے، اسی طرح کے بے شمار خوف کا شکار ہمیں زندگی میں لاحق ہوتے ہیں۔ یہ خوف ہی دراصل ہم سے ہر کام کرواتا ہے۔

ہم اچھے سے اچھے کی چکر میں اپنی زندگیوں کو گھن چکر بنا دیتے ہیں۔ زیادہ پیسے کمانے کی چاہت نے ہمیں مشین بنا دیا ہے۔ ہم مستقبل کو روشن بنانے کے لئے حال میں جینا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارا حال ماضی کے واقعات کو یاد کر کے اور مستقبل کی فکر کو لے کر الجھن کا شکار رہتا ہے۔

ہمارے اکثر اچھے کام بھی خوف کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کسی کی مدد اس لئے ہوتی ہے کہ خود کا صدقہ اتارنا ہوتا ہے۔ کسی کو خیرات اس لئے بھی دیتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے مددگار ہیں۔ ہم اپنے شوق کے پروفیشن کو چننے کے بجائے اس پروفیشن کی طرف جاتے ہیں جہاں مواقع یا پیسے زیادہ ہوں مگر اپنی دلچسپی کے پیشے کی جانب نہیں جاتے کیونکہ اس پیشے کے حوالے سے خوف ہوتا ہے کہ اس میں مواقع بہت کم ہیں، مستقبل میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ خوف کے معاملات ہمارے زندگی کے معاملات میں جابجا موجود ہیں۔ اگر آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اس خوف کو حاوی نہ ہونے دیں بلکہ مستقبل اور ماضی کے بجائے حال میں جینا شروع کریں۔ دنیا میں آئے ہیں تو مشکلات کا سامنا رہے گا لیکن اس کو سر نہیں چڑھانا، اس کو فیڈ نہیں کرانا، اس کو پالنا پوسنا نہیں ہے بلکہ اس کا سامنا کرنا ہے اس کو دھتکارنا ہے ، اس سے لڑنا ہے۔

اپنی زندگی کو خوف کے سائے میں رکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ خود کو آزادی کی دھوپ میں رکھیں ، کم سے کم وہ وقت سکون و اطمینان کا تو ہو گا۔ تو پھر ماضی کی تلخیوں کو بھلائیں اور مستقبل کی فکر سے آزاد ہو جائیں اور حال میں رہ کر مثبت فکر و سوچ کے ساتھ زندگی کو ری اسٹارٹ کریں۔ یاد رکھیے خوف کی دوسری طرف کامیابی ہے۔ کسی نے کیا خوبصورتی سے خوف کو بیان کیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ خوف ہے۔

Facebook Comments HS