بلدیاتی نظام کے معاملے میں جمہوری حکومتوں کا تذبذب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملک میں بلدیاتی الیکشن نہ کروانے پر چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر کے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ اس موقع پر انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو یاد دلایا کہ ملک میں بلدیاتی الیکشن کروانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور اس سے پہلو تہی آئین سے غداری کے مترادف ہو گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے جسٹس عیسیٰ کی سخت سرزنش پر ادھر ہی خیبر پختونخوا میں الیکشن کرانے کی تاریخ بھی دے دی۔ اس طرح اب یہ بلدیاتی الیکشن یقینی طور پر جلد یا بدیر سب صوبوں میں ہونے جا رہے ہیں۔

لوگوں کو صحیح طور پر جمہوری عمل میں شامل کرنے کے لئے بلدیاتی اداروں کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ بدقسمتی سے جمہوری حکومتوں کے دور میں کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اختیارات کو وفاقی اور صوبائی سطح پر مرتکز رکھا جائے اور مختلف حیلوں بہانوں سے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال رکھا جاتا ہے۔

اس کے برعکس فوجی ادوار میں سب سے پہلی کوشش بلدیاتی انتحابات کروانے کی ہوتی ہے ، اس حوالے سے ایوب خان، ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں مضبوط بلدیاتی ادارے وجود میں آئے اور انہی بلدیاتی اداروں کے ذریعے نئی قیادت سامنے آتی رہی۔ اگرچہ فوجی ادوار میں پالیسی یہ رہی ہے کہ ان اداروں کے ذریعے پرانے سیاستدانوں کو اقتدار کے کھیل سے باہر رکھا جائے۔ لیکن جیسے ہی ان ادوار میں قومی اور صوبائی الیکشن ہوئے بلدیاتی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش ہوتی نظر آتی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے ضلعی حکومتوں والے بلدیاتی نظام کو آج تک یاد کیا جاتا ہے ، اس دور میں بلاشبہ گراس روٹ لیول تک اقتدار اور وسائل کو منتقل کیا گیا۔ شہروں اور دیہاتوں میں کام ہوتے نظر آئے ، پہلی دفعہ منتخب عوامی نمائندہ بطور ناظم ضلعی سربراہ بنا اور طاقتور ڈی سی سسٹم کا خاتمہ کیا گیا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہی پرانے سیاسی گھرانے جوڑ توڑ کر کے اضلاع میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے حکومتی پارٹی مسلم لیگ ق کو تقویت پہنچائی۔

پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا کہ ضلعی کونسلوں کے اجلاس میں ڈی سی اوز اور باقی محکموں کے ضلعی سربراہان بھی موجود ہوتے تھے۔ فنڈز کی نچلی سطح پر ڈائریکٹ فراہمی یقینی بنائی گئی اور ہر یونین کونسل لیول پر منتخب نمائندے اپنی سکیمیں مکمل کراتے نظر آئے۔ لوگوں کی سہولت کے لئے ڈویژن ختم کر کے ضلعی حکومتوں کو با اختیار کر دیا گیا۔

جیسے ہی جنرل الیکشن کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے کام شروع کیا ، ضلعی حکومتوں کو کمزور کرنے کا آغاز ہوا اور پھر مشرف کی رخصتی کے بعد نئی حکومتوں نے اس نظام کو ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ پہلے ناظموں کے اختیارات بیوروکریسی کو سونپ دیے گئے۔ اور پھر نیا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس جاری کر کے ضلعی حکومتوں کے نظام کو ہی لپیٹ دیا گیا۔

نواز لیگ نے بھی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی بادل نخواستہ بلدیاتی الیکشن کروائے۔ دو ہزار سترہ میں ضلعی کونسلیں بھی بن گئیں مگر ان کو فعال طریقے سے کام کرنا نصیب نہیں ہوا کیونکہ ایم پی اے ایم این اے حضرات فنڈز اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے۔ ضلعی حکومتوں کے خاتمے سے بیوروکریسی کے اختیارات میں مزید کمی آ گئی۔ پہلے مشرف نے ڈپٹی کمشنر سے انتظامی اور عدالتی اختیارات چھینے مگر ضلعی نظام میں ڈی سی او کے پاس مالی اختیارات کی بھر مار ہو گئی تھی۔ دو ہزار سترہ کے بلدیاتی نظام کے بعد ڈپٹی کمشنر سے یہ مالی اختیارات بھی جاتے رہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اقتدار میں آنے سے پہلے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ مضبوط بلدیاتی نظام نافذ کیا جائے گا اور تمام تر فنڈز ان بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ ہوں گے۔ اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک کی مثال پیش کئی گئی جہاں پر وفاق اور صوبوں کے ایوانوں کے ممبر صرف قانون سازی اور پالیسی میکنگ پر کام کرتے ہیں اور سولنگ، نالی بنوانے سے اپنے آپ کو مبرا سمجھتے ہیں۔ مگر پی ٹی آئی کا یہ وعدہ بھی ایک سیاسی بیان ثابت ہوا ہے۔ جو لولے لنگڑے بلدیاتی ادارے کام کر رہے تھے پی ٹی آئی نے ان پر بھی ہاتھ صاف کیے اور ایک نیا نظام لانے کا اعلان ہوا۔

اس نئے آرڈیننس میں بلدیاتی نظام کے جو خد و خال سامنے آئے ، وہ آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مصداق تھے۔ اس میں کچھ چیزیں مشرف کے نظام سے لی گئیں ، کچھ کے پی والے بلدیاتی نظام کی اور کچھ پتہ نہیں کیسے سوجھیں کہ اب گورنمنٹ خود پریشان ہے۔ ضلعی کونسل یا ضلعی اسمبلی کی جگہ تحصیل کونسلیں بنا کر کسی ایک مرکزی فورم کا خاتمہ کر دیا گیا جہاں ضلع بھر کے نمائندے اکٹھے ہو سکیں اور آپس میں تبادلۂ خیال ہو۔ تحصیل کونسلز بھی اپنے شہروں کے بغیر ہوں گی جن کو ٹاؤن کمیٹی اور میونسپل کمیٹی بنا کر علیحدہ حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس طرح لارڈ مئیر، مئیر اور چیئرمین کے ڈایئریکٹ الیکشن کا ڈول ڈالا گیا۔

اب فیصل آباد میٹرو پولیٹن کی آبادی پچاس لاکھ کے قریب ہے اور اتنی آبادی سے ایک امیدوار کیسے ووٹ مانگے گا۔ اب کوئی کھرب پتی بندہ ہی الیکشن لڑ سکتا ہے۔ اس طرح یونین کونسلز کو ختم کر کے دیہات میں ویلیج کونسلیں بنا دی گئیں۔ اس طرح شہری یونین کونسلز کو تقسیم کر کے نیبر ہڈ کونسلز تشکیل دی گئیں۔ لیکن حکومت کے پاس نہ تو اتنے وسائل ہیں نہ اتنا ہیومن ریسورس ہے کہ ہر ویلیج کونسل اور نیبرہڈ کونسل میں سٹاف اور سامان مہیا کر سکے۔

اس طرح واسا، پی ایچ اے جیسے خودمختار اداروں کو ان کونسلز کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور اب ان اداروں کو چلانے کے لئے ان بلدیاتی نمائندوں کے پاس مطلوبہ استعداد کار نہیں ہے اور الٹا ان اداروں کی کارکردگی میں زوال کا امکان ہے۔

الیکشن سے پہلے پہلے گورنمنٹ کو اس نظام میں تبدیلیاں لانی پڑیں گی تاکہ اس کو زمینی حقائق کے مطابق بنایا جا سکے اور یہ نچلی سطح پر جڑ پکڑ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •