ہم اور ہمارے پراڈو میں گھومتے ویکسین شدہ کتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان کو شرم آنا چاہیے۔ ہمارے کتوں کو پراڈو میں سفر کرتے دیکھ کر واویلا مچاتے ہیں۔ یہ عمران خان، پی ٹی آئی اور ہمارے کتوں کے دشمن ہیں۔ یہ اپنی کرپشن بچانا چاہتے ہیں۔ اپنی کرپشن بچانے کے لیے یہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ حتی کہ کتوں پر سفری پابندی لگانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ لیکن جو مرضی ہے کر لیں این آر او نہیں ملے گا۔

ہاں این آر او سے یاد آیا کہ ہمارے کتے نے کوئی کرپشن نہیں کی۔ اس پر تو کوئی الزام بھی نہیں ہے۔ اس نے ملک سے کوئی غداری نہیں کی، پیسہ ملک سے باہر نہیں بھیجا اور نہ ہی وہ مارشل لا کی گود میں کھیلا ہے۔ شیرو بے چارہ تو بہت کم عمر ہے اس کے سامنے ابھی تک کوئی باوردی مارشل لا نہیں لگایا گیا۔ جب اس میں کوئی خامی نہیں ہے تو پھر اس کی جان کی حفاظت کیوں نہ کی جائے۔ ٹھیک ہے پی ٹی آئی کے ٹائیگرز بھی گورنر ہاؤس کے کتوں کی حفاظت کی خاطر کٹ مرنے کو تیار ہیں لیکن دیکھو حمزہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ پولیس پھر بھی بہت ضروری ہے۔ اور کے پی میں تو ہم نے کیا ہی یہ ہے کہ پولیس کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کے پی کی پولیس اب مکمل غیر جانبدار ہے اور قانون پر عمل کرتی ہے۔ رشوت کو تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لیے تو کے پی میں جرائم ختم ہو گئے ہیں۔ کے پی کو ہم نے ریاست مدینہ ثانی بنایا تھا لیکن اب ہم اسے چائنہ ٹو بنانے کا سوچ رہے ہیں۔

سندھ کی پولیس پر کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ سندھ ہمارا صوبہ نہیں ہے۔ یہ بڑا ظلم ہے کہ گورنر ہاؤس کے کتے کی حفاظت کا ذمہ ہم نے سندھ پولیس کو دیا ہوا ہے۔ ہم نے گورنر ہاؤس کے کتے کی حفاظت کے لیے پولیس کے پی سے بلانے کا سوچا تھا لیکن سندھ چونکہ ہمارا صوبہ نہیں ہے اس لیے پھر کمپرومائز کرنا پڑا۔

اور ہاں شیرو سنتا کسی کی نہیں، بہت با اختیار ہے، سارے فیصلے خود کرتا ہے۔ اسے وزیراعظم یا گورنر ہاؤس میں رہنے کا کوئی شوق بھی نہیں تھا۔ اس کی تو ساری ضرورتیں بنی گالہ میں پوری ہو رہی تھیں۔ وہ تو ایسا صرف باقی جانوروں کی بھلائی کے لیے کر رہا ہے۔ اسے پراڈو میں سفر کرنے کا بھی کوئی شوق نہیں ورنہ جہانگیر ترین سے اس کے لئے ایک الگ گاڑی مل سکتی تھی۔ پھر بھی آپ کو علم ہے کہ ہم نے صرف ایک پراڈو لے رکھی تھی۔ ہاں کچھ عرصے سے شیرو ہیلی کاپٹر پر سفر کر لیتا ہے۔

ہیلی کاپٹر تو پیدل چلنے سے بھی سستا ہے اور پولیس موبائل کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ ویسے اسلام آباد اور پنجاب پولیس پر میرا اعتماد کچھ بہتر ہو رہا ہے۔ پنجاب پولیس ریپ کی وجوہات سے خوب واقف ہے۔ ریپ کے جرم کو کم کرنے کے لیے اب ہم جگہ جگہ پیٹرول پمپ نصب کریں گے اور عورتوں کے گھر سے نکلنے کا شیڈول بھی بنائیں گے۔ پنجاب پولیس نے تو میرے بہنوئی کا پلاٹ بھی چھڑا لیا تھا لیکن عدالت بیچ میں آ گئی اور میرا وہ ٹاسک پورا نہیں ہو سکا۔

شیرو اور اس کے گورنر ہاؤس والے دوست کی ویکسین کا کورس مکمل ہے۔ اور ہم نے جیب سے پیسے خرچ کر کے شیرو کو ویکسن لگوائی ہے۔ یہ ویکسین ہم ہمیشہ پرائیویٹ کلینک سے لگواتے ہیں۔ آخر کو یہ ہمارے کتوں کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ یہ کوئی پاکستانی غریب بچے تو نہیں ہیں کہ سرکاری ویکسین پر گزارا کر لیں۔ ان کی سرکاری ویکسین پر کون اعتبار کرتا ہے اتنے ہیں تو یہ مجھے پولیو ختم کر کے دکھائیں، چور کہیں کے۔ (اوہ سوری گڑبڑ ہو گئی، میں سمجھا یہ ڈی چوک ہے اور میں کنٹینر پر کھڑا ہوں، بائیس سال کی جدوجہد کی عادت ہے نا) ہاں ویکسین سے یاد آیا کہ کورونا کی ویکسین کی آپ فکر نہ کریں۔ ویکسین کی اتنی جلدی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے ہم جنات کو ٹرائی کریں گے۔ مجھے پوری امید ہے کہ کامیابی ہو گی۔ سپر سائنس کے پاس اپنی طاقت ثابت کرنے کا یہی تو ایک موقع ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 272 posts and counting.See all posts by salim-malik