منجمد خلتی جھیل پر سجنے والا منفرد میلہ
انتہائی مختصر مدت میں خلتی جھیل پر ایک منفرد اور شاندار فیسٹیول کے انعقاد پر ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی محترم نذیر احمد ایڈووکیٹ صاحب اور ان کی ٹیم مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس ایونٹ میں شائقین کی ایک بڑی تعداد کی شرکت سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ گلگت بلتستان میں جہاں گرمائی سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں وہیں پر سرمائی سیاحت کے حوالے سے بھی یہ خطہ بہت زرخیز ہے۔
خلتی جھیل ضلع غذر کی تحصیل گوپس سے چند کلومیٹر کی مسافت پر گلگت چترال روڈ پر واقع ہے۔ جھیل کا وجود سنہ 1980 کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والی ایک قدرتی آفت کے سبب ہونے والی تباہی کا نتیجہ تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق خلتی گاؤں کے کئی رہائشی مکانات، درخت اور ہزاروں کنال اراضی جھیل کی نذر ہو گئی جس باعث علاقہ مکینوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔
خلتی جھیل سطح سمندر سے 2217 میٹر بلندی پر واقع ہے اور اندازاً اس کی گہرائی اسی فٹ ہے۔ یہاں سردیوں میں درجۂ حرارت منفی پندرہ سے اوپر نیچے تک گرتا ہے۔ دسمبر کے آغاز سے جھیل پر برف جم جاتی ہے۔ برف سردی کی شدت اضافے کے ساتھ ساتھ سخت اور مضبوط ہوتی جاتی ہے۔
مقامی لوگ منجمد جھیل کی مضبوطی کا اندازہ لگاتے ہی اسے کھیل کے میدان میں بدل دیتے ہیں۔ پہلے پہل اس جھیل پر منعقدہ کھیلوں سے مقامی لوگ ہی مستفید ہوتے تھے۔ مگر سوشل میڈیا کی ترقی کے ساتھ منجمد جھیل پر میلہ دیکھنے آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں نے خلتی گاؤں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔
رواں سال علاقے سے منتخب نمائندے و ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد ایڈووکیٹ کی کاوشوں سے پہلی بار سرکاری سطح پر یہاں میلے کا اہتمام کیا گیا۔ جنوری کی 28 سے 30 تاریخی تک منعقد ہونے والے اس سہہ روزہ ونٹر اسپورٹس فیسٹیول میں آئس ہاکی، فٹبال و دیگر کھیلوں سمیت میوزیکل پروگرام ترتیب دیے گئے تھے۔ کھیلوں کے مقابلوں میں ضلع غذر کے علاوہ ہنزہ سے بھی مختلف ٹیموں نے حصہ لیا اور میلے کا فائنل میچ بھی ہنزہ کی ایک ٹیم نے ہی اپنے نام کر لیا۔
خلتی جھیل پر منعقدہ یہ سہ روزہ میلہ دیکھنے گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان کے کئی شہروں سے بھی شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ فیسٹیول کی افتتاحی جبکہ وزیر اعلیٰ خالد خورشید اختتامی تقریب کے مہمانان خصوصی تھے۔ جبکہ گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان نے فیسٹیول کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔
خلتی جھیل سردیوں کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔ گرمیوں میں جھیل ٹراؤٹ مچھلی کا مسکن ہوتی ہے۔ جہاں پر مچھلیوں کے شکار اور سیر و تفریح کے لئے سیاحوں کی خاصی تعداد موجود رہتی ہے۔ چنانچہ آفت کے نتیجے میں وجود میں آنے والی یہ جھیل اب عوام کے لئے رحمت کا باعث بن رہی ہے۔ مگر مقامی سطح پر سیاحوں کے لئے سہولیات کی کمی ان سیاحوں کی عمومی شکایت رہتی ہے۔
خلتی جھیل ضلع غذر کے تفریحی مقامات کی محض ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ پھنڈر، گوپس، یاسین، پونیال اور اشکومن میں کئی ایسے مقامات ہیں جن پر تھوڑی سی توجہ مرکوز کرنے سے یہ ضلع سیاحتی اعتبار سے خوب ترقی کر سکتا ہے۔ دنیا کا بلند ترین پولوگراؤنڈ شندور بھی اسی ضلع کی حدود میں واقع ہونے کے باوجود یہ علاقہ سیاحت کے حوالے سے وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جو ہنزہ، استور یا بلتستان ڈویژن کو حاصل ہے۔
اس علاقے کے سیاحت کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجوہات میں گلگت سے غذر کے مابین مرکزی شاہراہ کی خستہ حالی، مقامی سطح پر قیام و طعام کے انتظامات کا فقدان، سیاحتی مقامات کی عدم تشہیر، بین الاقوامی سیاحوں کی سیکورٹی کے لئے ناکافی اقدامات اور سیاحتی مقامات و تاریخی ورثے کی تزئین و آرائش کے لئے وسائل کی عدم فراہمی شامل ہیں۔ ان تمام مسائل کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق مقامی منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت سے ہے جو ان سب کی کوتاہی اور عوامی معاملات میں عدم دلچسپی کی عکاس ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت غذر سمیت گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات کی قومی و بین الاقوامی سطح پر تشہیر کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ہوٹل انڈسٹری، کمیونیکیشن اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے مقامی لوگوں کی مشاورت اور مفاد عامہ کے منصوبوں کے اجراء کے لئے اقدامات کرے تاکہ اس سے علاقے میں سیاحتی شعبے کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ غربت و بیروزگاری کے خاتمے میں بھی مدد مل سکے۔




